spot_img

Columns

News

آئین کے تحت ایڈہاک ججز کی تعیناتی چیف جسٹس نے نہیں بلکہ جوڈیشل کمیشن نے کرنی ہے، وزیر قانون

آئین کے مطابق ایڈہاک ججز کی تعیناتی چیف جسٹس نے نہیں بلکہ جوڈیشل کمیشن نے کرنی ہے۔ چیف جسٹس نے توسیع میں دلچسپی ظاہر نہیں کی، جبکہ جسٹس منصور علی شاہ اس تجویز سے متفق تھے۔ تحریک انصاف رہنماؤں پر آرٹیکل 6 کا معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جا سکتا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ تسلیم کرتی ہے نواز شریف کیساتھ زیادتی کی گئی جس کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑا، سینئر صحافی

موجودہ اسٹیبلشمنٹ کا ماننا ہے کہ 2014 سے میاں نواز شریف کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور اگر اس وقت کے اقدامات نہ ہوتے تو آج پاکستان اس بحران میں نہ ہوتا۔ عدلیہ کو پیغام دیا گیا ہے کہ آپ نے اپنا زور لگا لیا، اب ہماری باری ہے۔ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ جو جرم کا اعتراف نہیں کرے گا، وہ نتائج کے لیے تیار ہو جائے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کا سپریم کورٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی منظوری کا منصوبہ، واشنگٹن پوسٹ

  امریکی صدر جو بائیڈن امریکی سپریم کورٹ میں اہم تبدیلیوں کی منظوری کے منصوبے کو حتمی شکل دینے جارہے ہیں جن میں ججوں کی مدت ملازمت اور قابل عمل اخلاقی کوڈ کے قیام کے لیے قانون سازی سمیت صدور اور دیگر آئینی عہدیداروں کے لئے وسیع استثنیٰ کو ختم کرنا شامل ہے۔

پی ٹی آئی پر پابندی عائد ہونی چاہیے اور آرٹیکل 6 لگنا چاہیے، وزیرِ دفاع خواجہ آصف

ہم نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے، تحریکِ انصاف پر آرٹیکل 6 ضرور لگنا چاہیے، پی ٹی آئی پر پابندی کیلئے پارلیمنٹ میں اتحادی جماعتوں سے مشاورت کریں گے، نو مئی پاکستان کے وجود پر حملہ تھا، امریکا غزہ سے متعلق بھی تشویش کا اظہار کرے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، وفاقی حکومت نے نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد وفاقی حکومت نے بھی قیمتوں میں اضافہ کا اعلان کر دیا۔ پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 9 روپے 99 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 6 روپے 18 پیسے اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے۔
spot_img
NewsroomJudicialآمر آئے تو سب ساتھ مل جاتے ہیں، جمہوریت آئے تو چھریاں...

آمر آئے تو سب ساتھ مل جاتے ہیں، جمہوریت آئے تو چھریاں نکال کر آ جاتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

جب آمر آئے تو سب ساتھ مل جاتے ہیں، وزیر اور اٹارنی جنرل بن جاتے ہیں اور جب جمہوریت آئے تو چھریاں نکال کر آ جاتے ہیں، اپنے آئین پر عملدرآمد کے بجائے دوسرے ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں، آئین کا تقدس ہے اور اس پر عمل کرنا سب پر لازم ہے۔

spot_img

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — سپریم کورٹ آف پاکستان میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس کو ٹیلی ویژن پر براہِ راست نشر کیا گیا، عدالتِ عظمٰی میں کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے کی۔

سنی اتحاد کونسل کی وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کاغذاتِ نامزدگی میں چیئرمین کی سنی اتحاد کونسل سے وابستگی ظاہر ہوتی مگر سنی اتحاد کونسل کا نشان نہ ملنے پر چیئرمین نے بطور آزاد امیدوار انتخابات میں حصہ لیا، جمعیت علمائے اسلام (ف) میں بھی اقلیتیوں کو میمبرشپ نہیں دی جاتی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے ہوا میں بات کی، ایسے بیان نہیں دے سکتے، آپ دستاویزات فراہم کریں۔
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں دستاویزات بھی دوں گا اور الیکشن کمیشن بھی کنفرم کر دے گا۔
جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ پارٹی ٹکٹ جمع کرایا گیا تھا؟
وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ حامد رضا کو پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کرانے سے روکا جا رہا تھا اور الیکشن کمیشن نے زبردستی آزاد امیدوار کا نشان الاٹ کیا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے عدالت میں چیئرمین سنی اتحاد کونسل حامد رضا کے کاغذاتِ نامزدگی پیش کیے گئے جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہدایت کی کہ حامد رضا کے کاغذاتِ نامزدگی کی کاپیاں کروا کر تمام ججز کو دی جائیں۔

مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن پروگرام الیکشن ایکٹ کے تحت جاری کیا گیا، کاغذاتِ نامزدگی تاریخ سے قبل جمع کروانا ضروری ہوتا، تاریخ میں توسیع بھی کی گئی، الیکشن کمیشن آف پاکستان کنفرم کرے گا کہ سنی اتحاد نے مخصوص نشستوں سے متعلق فہرست جمع نہیں کروائی تھی۔

جسٹس منصور علی نے سوال کیا کہ سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کرنے کا نوٹیفکیشن کب جاری ہوا؟
وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اس سوال کا جواب الیکشن کمیشن بہتر دے سکتا ہے۔

وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے سوال آرٹیکل 51 کی تشریح کا ہے، الیکشن ایکٹ سیکشن 206 کے مطابق سیاسی جماعتوں کو شفاف طریقہ کار سے نشستوں کیلئے فہرست دینی ہوتی ہے، مخصوص نشستیں حاصل کی گئی جنرل سیٹوں پر انحصار کرتی ہیں، آزاد امیدوار تین دنوں کے اندر کسی جماعت میں شامل ہوں تو مخصوص نشستوں کیلئے گنا جائے گا۔

وکیل مخدوم علی خان نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ سرپرائز کی بات ہے کہ سلمان اکرم راجہ اور فیصل صدیقی نے پشاور ہائیکورٹ کی بات ہی نہیں کی بلکہ دونوں وکلاء نے صرف الیکشن کمیشن کے فیصلے پر بات کی۔

جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن نے کیسے خود کو کاغذاتِ نامزدگی میں تحریکِ انصاف کا امیدوار بتانے والوں کو آزاد امیدوار کہا؟ الیکشن کمیشن نے کیسے اخذ کیا کہ امیدوار تحریکِ انصاف کے نہیں بلکہ آزاد امیدوار ہیں؟
جسٹس منصور علی نے سوال کیا کہ اہم سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے کس بنیاد پر سیاسی جماعت کے امیدواروں کو آزاد امیدوار قرار دیا؟

جسٹس جمال مدوخیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کہہ سکتا ہے کہ امیدوار آزاد ہیں یا کسی پارٹی سے ہیں۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر کوئی میمبر استعفیٰ دے دے یا انتقال کر جائے تو ایسا تو نہیں پارلیمنٹ کام کرنا چھوڑ دے گی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی جج ریٹائر ہو جائے تو سپریم کورٹ کام کرنا تھوڑی چھوڑ دے گی؟ اگر کوئی ممبر نہیں یا نشست خالی ہے تو ضمنی انتخابات ہو جائیں گے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ماضی میں بھی انتخابات میں پارلیمنٹ کو مکمل کرنے کیلئے مخصوص نشستیں دی گئیں۔

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ فی الوقت صاحبزادہ حامد رضا کا خط ریکارڈ پر موجود ہے کہ ان کے نشان پر کوئی الیکشن نہیں لڑا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ سنی اتحاد کونسل کا انتخابی نشان موجود تھا لیکن کسی نے اس پر الیکشن نہیں لڑا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ قانون واضح ہے کہ جو نکات اپیلوں میں اٹھائے گئے ہیں انہی تک محدود رہیں گے، ججز کا کام کسی فریق کا کیس بنانا یا بگاڑنا نہیں ہوتا۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کے آزاد ہونے کا فیصلہ دیا، الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد آزاد امیدواروں کے پاس کوئی چوائس باقی نہیں رہی، الیکشن کمیشن کا امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی نہ ماننا اور انہیں آزاد امیدوار ظاہر کرنا ہی اصل تنازع ہے، اگر حامد رضا سنی اتحاد کونسل کے امیدوار ثابت ہو گئے تو معاملہ مختلف ہو جائے گا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے کہ جب آمر آئے تو سب ساتھ مل جاتے ہیں، وزیر اور اٹارنی جنرل بن جاتے ہیں اور جب جمہوریت آئے تو چھریاں نکال کر آ جاتے ہیں، اپنے آئین پر عملدرآمد کے بجائے دوسرے ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں، آئین کا تقدس ہے اور اس پر عمل کرنا سب پر لازم ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے اچھے بھی ہوں گے اور برے بھی لیکن جو فیصلہ چیلنج ہی نہیں ہوا اسے اچھا یا برا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ کوئی پریشر تھا یا نہیں تھا، دنیا کو کیا معلوم، ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ اگر کوئی امیدوار کسی جماعت کا سرٹیفکیٹ دیتا ہے تو پھر اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، ایک پارٹی کا ٹکٹ دے کر دوسری جماعت میں شامل ہو جائے تو اسے منحرف ہونا کہیں گے، میری نظر میں ٹکٹ لے کر پارٹی تبدیل کرنے والے پر آرٹیکل 63 اے نافذ ہو گا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ آئین مقدس ہے اور آئین پر عمل کرنا آپشن نہیں بلکہ لازم ہے، اگر تاریخ کی بات کرنی ہے تو پھر پوری طرح سے کریں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آج بھی آئین پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ عدالت بھی اس سب میں ساتھ ملی ہوئی ہے، بطور سپریم کورٹ ہم نے اپنے سر ریت میں دبا لیے ہیں، سب یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جیسے ہم ماضی کی بات کر رہے ہیں، ایک دن ہمیں کہہ دینا چاہیے کہ بہت ہو چکا، کہہ دینا چاہیے بہت ہو چکا، ہم آئین کی خلاف ورزی پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے، سپریم کورٹ میں اہم ترین درخواست 8 فروری کے انتخابات سے متعلق ہے، لاپتہ افراد کے کیسز اور بنیادی حقوق کی پامالیاں سیاسی کیسز نہیں ہیں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم سب کو اپنی غلطیاں تسلیم کرنی چاہئیں۔

جسٹس منصور علی نے سوال پوچھا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک ہی حلقے سے ایک پارٹی کے دو امیدوار ہوں؟ کورنگ امیدوار؟
الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ ایسا ممکن نہیں، جماعت کا سربراہ اپنے آئین کے مطابق پارٹی ٹکٹ دیتا ہے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کا مطلب ہے کہ بلے کے نشان کے فیصلے سے سپریم کورٹ نے تحریکِ انصاف کو انتخابات سے باہر کیا؟
وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ فیصلے کو کم سے کم پڑھ تو لیں، فیصلہ نہیں بلکہ قانون ہے، آج انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کروائے تو کل ہو سکتے ہیں، میں حیران تھا کہ تحریکِ انصاف والے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرا رہے، ہزاروں کیسز پڑے ہیں، ہم ایک ہی کیس کو تو نہیں سنیں گے۔

جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ سنی اتحاد کونسل اپنا کیس جیتے یا ہارے، دوسری جماعتوں کو اس سے کیا فائدہ ہو گا؟ مخصوص نشستیں متناسب نمائندگی کے اصول سے ہٹ کر نہیں دی جا سکتیں، اضافی نشستیں لینے والے بتائیں کہ ان کا کیا مؤقف ہے؟ آئین میں پہلے سے درج متناسب نمائندگی کا فارمولہ سمجھائیں۔

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ متناسب نمائندگی کا اصول جنرل سیٹوں کی تعداد کے مطابق ہوتا ہے، اگر دو سیاسی جماعتیں ہیں تو انھی پر مخصوص نشستیں بانٹ دی جائیں گی۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مخصوص نشستوں سے انتخابات کا نتیجہ بآسانی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

جسٹس عائشہ نے دریافت کیا کہ ایسے کیا متناسب سیٹیں دیگر سیاسی جماعتوں کو مل جائیں گی؟ فرض کریں سنی اتحاد کو نہیں ملتیں مخصوص نشستیں لیکن آپ کو کیسے ملنی چاہیے؟

وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ میں فرضی سوالات کے جوابات نہیں دوں گا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ مخصوص نشستیں بانٹنے کا طریقہ ہر انتخابات میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) سمیت دیگر جماعتوں کو مخصوص نشستیں دی گئیں، تحریکِ انصاف کے امیدواروں کو مخصوص نشستیں دینے کے لیے الگ اصول اپنایا گیا۔

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریکِ انصاف کے ارکان آزاد ہوکر سنی اتحاد کونسل میں چلے گئے، پی ٹی آئی کے دو ارکان نے الیکشن کمیشن کو کہا کہ ہمیں آزاد ڈیکلیئر کیا جائے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ تحریکِ انصاف کیس میں فریق ہے نہ کوئی منتخب نمائندہ، عدالت کے سامنے کیس سنی اتحاد کونسل کا ہے کہ مخصوص نشستیں دی جائیں،جو کیس ہمارے سامنے ہی نہیں اس حوالے سے بحث کیوں کی جا رہی ہے۔

جسٹس یحیٰی آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ ایک پارٹی سے وابستگی کا ڈیکلیریشن جمع کرانے والے بعد میں دوسری جماعت میں چلے گئے، اب ان امیدواروں کے بعد والے فیصلے کو دیکھا جانا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کسی امیدوار کو اختیار ہی نہیں وہ ایک پارٹی کا ڈیکلیریشن دے کر دوسری میں چلا جائے، میری نظر میں اس بات پر امیدوار نااہل بھی ہو سکتا ہے۔

جسٹس عرفان سعادت نے دریافت کیا کہ تحریکِ انصاف اور تحریک انصاف نظریاتی میں کیا فرق ہے؟ کبھی تحریکِ انصاف ہو جاتی ہے کبھی تحریکِ انصاف نظریاتی، ان میں فرق بتائیں؟
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تحریکِ انصاف نظرثانی سیاسی جماعت ہے؟
وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریکِ انصاف نظریاتی سیاسی جماعت ہے جس کا انتخابی نشان بلے باز ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے دن سے کہہ رہا ہوں لہ تحریکِ انصاف نے ایسا کیوں کیا؟ اپنی پارٹی میں رہنا چاہیے تھا، سنی اتحاد کونسل میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا، ہم نے تو نہیں کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوں۔

جسٹس یحیٰی آفریدی نے دریافت کیا کہ کیا مخصوص نشستیں خالی رہ سکتی ہیں؟
وکیل مخدوم علی خان نے بتایا کہ نہیں مخصوص نشستیں خالی نہیں رہ سکتیں۔

چیف جسٹس قاضئ فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ایک سیاسی جماعت کے منشور میں اقلیتی خانہ شامل نہیں تو اقلیتوں کی لسٹ نہیں دی جائے گی، اگر خواتین یا اقلیتوں کی لسٹ نہیں دی گئی تو اثرات تو ہوں گے، اگر پرائز بانڈ خریدا ہی نہیں تو پرائز بانڈ نکل کیسے آئے گا؟ خریدنا تو ضروری ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ انتخابات کا شیڈول ایک اہم دستاویز ہوتا ہے جس میں مخصوص اور جنرل سیٹیں شامل ہوتی ہیں، جنرل اور مخصوص نشستوں کے لیے کاغذات نامزدگی کے لیے ایک تاریخ دی جاتی، مخصوص نشستوں کابھی نوٹیفکیشن ہوتا ہے، فارم 33 جنرل اور مخصوص نشستوں کیلئے ہوتا ہے، ریٹرننگ افسران مخصوص، جنرل نشستوں کے فارم 33 کی اسکروٹنی کرتے ہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے دریافت کیا کہ کیا الیکشن کمیشن فیصلہ کرےگا کہ امیدوار کی کس سیاسی جماعت سے وابستگی ہے؟
وکیل سکندر بشیر نے بتایا کہ فارم 66 مخصوص نشستوں کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے دی گئی لسٹ ہوتی، جنرل اور مخصوص نشستوں کی لسٹ کا طریقہ کار بلکل ایک طرح کا ہے، کاغذات نامزدگی پہلی سٹیج ہوتی ہے، خواتین، اقلیتوں کی سیٹوں کی اہمیت اتنی ہی ہے جتنی جنرل نشستوں کی ہے، خواتین کی مخصوص نشست والے وزیر اعظم کے لیے بھی امیدوار ہوسکتے ہیں۔

سکندر بشیر نے کہا کہ پہلا نکتہ یہ ہے کہ آرٹیکل 51 کے تحت سیاسی جماعت کی تعریف الگ ہو گی، آئین کی تشریح کا اصول سادہ قانون کی تشریح سے مختلف ہے، دوسرا نکتہ یہ ہے صرف آزاد امیدواروں پر مشتمل جماعت آرٹیکل 51 کی تعریف والی جماعت نہیں ہو سکتی۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاسی جماعت ایک جماعت تو رہے گی۔
وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ وہ جماعت ضرور رہے گی مگر آرٹیکل 51 والے مقاصد کے لیے وہ بطور جماعت نہیں ہو گی۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ کیا الیکشن کمیشن نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی؟ پریس کانفرنس ہوتی رہی۔
وکیل نے کہا کہ میں اس کا جواب اس لیے نہیں دے سکتا کیونکہ یہ تھیوریٹیکل سوال ہے، میں نے کوئی پریس کانفرنس خود نہیں سنی، میں صرف اس کیس تک خود کو محدود رکھوں گا، ججز میرے منہ سے کیوں الفاظ نکلوانا چاہتے ہیں؟

جسٹس منیب اختر نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان فیئر کمنٹ ہے۔
چیف جسٹس نے وکیل کو ہدایت دی کہ آپ آگے بڑھیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ ایک آئینی ادارے کی نمائندگی کررہے ہیں جس کا کام انتخابات کروانا ہے، پریس کانفرنسز پوری دنیا نے دیکھیں کیا الیکشن کمیشن نے دیکھا کیوں پریس کانفرنسز ہوئیں؟ کیا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری نہیں تھی کہ پریس کانفرنسز ہونے کی وجہ دیکھیں؟

وکیل سکنڈر بشیر نے جواب دیا کہ میں مفروضوں پر مبنی سوالات کا جواب نہیں دوں گا، مجھے معلوم نہیں پریس کانفرنسز کیوں ہوئیں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے چیئرمین سنی اتحاد کونسل حامد رضا کے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خطوط پڑھ کر سنائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کا بلے کے نشان سے متعلق فیصلہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروانے پر تھا، اس کے اثرات ہو سکتے تھے، جمہوریت کی ضرور بات کرنی ہے لیکن انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروانا، ہمارا کام نہیں کہ کون کس کو منتخب کرتا ہے، بطور وزیراعظم الیکشن کمیشن کو خط لکھا کہ ایک سال دے دیں انٹرا پارٹی الیکشن کیلئے، اب تو شاید الیکشن کمیشن کے دشمن ہو گئے ہیں، مجھے نہیں سمجھ آتی کیوں اپنی سیاسی جماعت میں انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرواتے، یہی جمہوریت ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ موجودہ کیس میں بار بار انتخابی نشان والے کیس کا ذکر کیا جا رہا ہے، انتخابی نشان سے متعلق کیس میں نظرثانی زیرِ التوا ہے، انتخابی نشان کیس میں بینچ کی ایک ممبر کی اوپن ہارٹ سرجری ہوئی ہے، نظرثانی کیس قانون کے مطابق سنا جائے گا، انتخابی نشان والے کیس پر دوسرا بنچ بحث نہیں کر سکتا۔

چیف جسٹس قاضی کا کہنا تھا کہ بلے کے نشان پر نہیں، سپریم کورٹ نے انٹرا پارٹی الیکشن پر فیصلہ دیا تھا، انٹرا پارٹی الیکشن اور بلے کے نشان کا فیصلہ کہنے میں فرق ہے، ایک طرف نظرثانی کر رہے اور دوسری طرف تبصرہ کر رہے ہیں، کسی اور بینچ کا فیصلے پر ریمارکس دینا درست نہیں، آگے چلیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کوئی بھی فیصلے کی قانونی حیثیت پر سوال نہیں اٹھا رہا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سماعت ہم پرسوں ساڑھے گیارہ تک ملتوی کرتے ہیں، آج کیس ختم نہیں ہو رہا، پرسوں تک کیس ملتوی کر دیتے ہیں مگر وکلا دلائل مختصر رکھیں۔

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی مزید سماعت 27 جون بروز جمعرات ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
error: