مریم نواز شریف کے متحدہ عرب اماراتی صدر کیساتھ سفارتی مصافحے پر بےجا تنقید نے صنفی تعصب کو بےنقاب کر دیا۔ یہ تنقید مریم نواز کے انقلابی اقدامات اور اصلاحاتی پالیسیز پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ مریم نواز کی قیادت صنفی تعصب کے خلاف مزاحمت کی علامت بھی ہے۔
The backlash from PTI circles over Maryam Nawaz’s diplomatic handshake with the UAE President lays bare the deep-seated misogyny overshadowing her leadership. This fixation on protocol exposes a calculated attempt to undermine her transformative initiatives through gendered criticism.
میں عوامی خدمت کیلئے آلو پیاز ٹماٹر کی قیمتیں چیک کرنے اور کم کرنے آئی ہوں، جتنے کام میں 100 دنوں میں کر آئی ہوں مخالفین 300 برس میں نہیں کر سکتے، اپوزیشن پر ترس آتا ہے، انکے پاس گالم گلوچ و نعروں کے سوا کچھ نہیں۔
ادارے ایگزیکٹو میں مداخلت کر کے عوام کی ترقی و خوشحالی میں رکاوٹ بن رہے ہیں، عدالتوں کا کام ذاتی پسندیدگی یا ناپسندیدگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ عدل و انصاف پر فیصلے کرنا ہوتا ہے، یہاں پر اپنی مرضی کی توہینِ عدالت لگائی جاتی ہے، راہنما مسلم لیگ (ن) سلمیٰ بٹ۔
مریم نواز کے بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب پہلے 100 دن ترقی و خوشحالی کے ایک انقلاب کا آغاز ہیں جن میں نواز شریف آئی ٹی سٹی، کلینکس آن وہیل، فیلڈ ہاسپٹلز، فری میڈیسن ڈیلوری، نیور اگین ایپ، ائیر ایمبولینس، سستی روٹی و دیگر منصوبے شامل ہیں۔
پاکستان سعودی عرب دفاعی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت متوقع؛ جنگی تجربات رکھنے والی افواج کے حامل پاکستان کا کردار کلیدی ہے، جنوبی ایشائی ایٹمی طاقت کسی بھی شراکت داری کو مضبوط دفاعی ساکھ فراہم کرتی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔