اس ملک کے عوام کے لیے نہ یہ فیصلہ نیا ہے نہ عدالت کی یہ بے انصافی۔ بھٹو کے قتل سے لیکر ہر آمر کے حق میں فیصلے دینے والے آج بھی زندہ ہیں۔ آج بھی ترازو کے پلڑے برابر نہیں۔ آج بھی میزان طاقتوروں کی جانب جھکا ہوا ہے۔
چیف جسٹس وزیراعظم بھی بن چکا ہے، وزیرِ داخلہ بھی بن چکا ہے، وزیرِ دفاع بھی بن چکا ہے، چیف الیکشن کمشنر بھی بن چکا ہے، پارلیمنٹ بھی بن چکا ہے۔ ایک لاڈلے کیلئے ریاست کو مفلوج کر کے سب کچھ تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال افسوسناک ہے، پاکستان دردناک صورتحال سے گزر رہا ہے۔
عدالتوں میں جو کچھ ہو رہا ہے، یہ مجھے 2017 کا تسلسل لگتا ہے کیونکہ 2017 میں ایسا ہی ایک بینچ بنا تھا جس نے ملک کا مستقبل تاریک کر دیا تھا۔ قوم آنکھیں کھولے، قوم کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہو رہا ہے۔
نواز شریف کی نااہلی سے پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ موصول ہو چکا تھا۔ یہ فیصلے غیر سیاسی ذرائع سے معلوم ہوئے تھے اور اس سے ان ججز کی شفافیت، ان کی عدالت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کھل کر سامنے آ چکے ہیں جو انصاف کے تقاضوں کے منافی اور نامناسب چیز تھی اور یہ ایک فکسڈ ارینجمنٹ تھی۔
وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا ریکارڈ کابینہ ڈویژن کی سرکاری ویب سائٹ پر اپلوڈ کردیا ہے۔توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا 466 صفحات پر مشتمل ریکارڈ اپلوڈ کیا گیا،توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور،سابق وزرا اعظم،وفاقی وزرا اور سرکاری افسران کے نام شامل ہیں جن میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز مشرف، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، سابق صدر آصف زرداری، صدر ممنون حسین کے نام شامل ہیں۔
Pakistan says the United States and Iran have expressed confidence in its role as a potential facilitator for talks, with Islamabad saying it would be honoured to host negotiations in the coming days.
امریکا و ایران دونوں نے ممکنہ مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ پاکستان آئندہ چند روز میں ممکنہ مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خطہ میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت اور تائید کی۔
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
Pakistan is preparing to host the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey and Egypt for bilateral meetings and a four-country diplomatic session in Islamabad that is expected to conclude with a joint communiqué and possibly a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif.
مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اتوار کی صبح، سعودی وزیرِ خارجہ سہ پہر پاکستان پہنچیں گے۔ شام کو چاروں وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہو گی جبکہ عشائیہ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔