اینکر ندیم ملک نے 30 مارچ کو اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دینے کا جو فیصلہ سنایا، وہ فیصلہ انہیں عدالت میں سنائے جانے سے پہلے معلوم ہو چکا تھا۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ نواز کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف نے اس سے ایک دن قبل قصور کے علاقہ کھڈیاں میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے یہی دعویٰ کیا تھا کہ نواز شریف کے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ ججز کی فیملیز کو پہلے سے معلوم تھا اور وہ فیصلہ سننے کیلئے عدالت کی گیلری میں موجود تھیں۔ مریم نواز نے کہا کہ یہ ججز عدلیہ کو اپنا جوائے لینڈ سمجھ کر اپنی بیگمات اور بچوں کی انٹرٹینمںٹ کیلئے فیصلے کرتے ہیں۔
اینکر ندیم ملک نے مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف کے خلاف نااہلی کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے 63(A) کا ایک فیصلہ سنایا جس میں 63(A) کا جو مفہوم بیان کیا گیا وہ ماورائے آئین ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جتنے بھی آئینی ماہرین سے پوچھا، انہوں نے یہی کہا کہ اس فیصلہ کا کوئی جواز کم از کم 1973 کے آئین کے اندر تو موجود نہیں ہے، یہ فیصلہ سیاسی فضا کو خراب کرنے میں اضافے کا سبب بنا ہے۔
نامور صحافی نے کہا کہ پاکستان میں 90 کی دہائی کے آغاز میں ایک ٹرائیکا آف پاور تھا جس میں ایک طرف 58(2B) کا اختیار رکھنے والا صدر، دوسری طرف وزیراعظم اور تیسری طرف سب سے طاقتور آرمی چیف ہوتا تھا۔ ان تینوں کے اختلافات اور اتحاد حکومتیں بنانے اور گرانے میں بڑا اہم کردار ادا کرتے تھے۔ وہ ٹرائیکا آف پاور وقت کے ساتھ بدل گیا یعنی 58(2B) کا اختیار ختم ہو گیا اور جو اختیارات پارلیمنٹ کے پاس ہونے چاہیے تھے وہ صدر آصف زرداری نے پارلیمنٹ کے حوالہ کر دیئے اور کسی حد تک آئین میں استحکام آ گیا لیکن ٹرائیکا آف پاور کی ایک نئی شکل ہمارے سامنے آئی جس میں ایک طرف آرمی چیف، دوسری طرف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور تیسری طرف وزیراعظم ہیں، ان میں منتخب صرف ایک ہے یعنی وزیراعظم اور وہی سب سے کمزور حالت میں ہے، یہاں تک کہ بعض ججز نے وزیراعظم کی چھٹی کرواتے وقت بڑے فخریہ انداز میں کہا کہ ہم پہلے بھی دو وزرائے اعظم کو گھر بھیج چکے ہیں اور اب تیسرے کو بھی بھیج دیں گے۔
اینکر کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے کچھ ایسے ازخود نوٹس اور ایسے فیصلے سامنے آئے جن سے یہ تاثر ابھرا کہ تحریکِ انصاف کو جب بھی عدالت کی ضرورت ہوتی ہے، عدالت دستیاب ہوتی ہے۔ عدالت پاکستان کے 22 کروڑ عوام کیلئے تو بوقتِ ضرورت اس طرح دستیاب نہیں ہے جس طرح تحریکِ انصاف اور عمران خان کیلئے دستیاب ہے۔
اینکر نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے اس رویہ کی وجہ سے بحیثیت ادارہ آج داؤ پر لگا ہوا ہے، آج اس ادارہ کا وجود داؤ پر لگا ہوا ہے، یہاں تک کہ سپریم کورٹ کے اندر موجود ججز کی جانب سے بھی چیف جسٹس کے ون مین شو کے خلاف آوازیں اٹھتی ہوئی سنائی دے رہی ہیں اور ایک جج کی آڈیو لیکس کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا صرف ایک فرد کے پاس یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ ازخود نوٹس لے سکے اور وہ اکیلا ہی ہر کیس میں بینچ تشکیل دے سکے۔
معروف اینکر کے مطابق ایک وکیل نے تحقیق کر کے انہیں بتایا کہ 73 مقدمات ایسے ہیں جن میں بننے والے بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن موجود تھے جبکہ صرف 3 مقدمات ایسے ہیں جن کے بینچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو شامل کیا گیا۔ سپریم کورٹ میں نظریاتی اور سیاسی تقسیم نظر آ رہی ہے اور یہ تقسیم ہمیں کسی گہری کھائی میں بھی لے جا سکتی ہے جس کا اندیشہ شدت کے ساتھ موجود ہے۔
ندیم ملک نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ سیاسی و فوجی قیادت اور چیف جسٹس کسی بند کمرے میں بیٹھ کر پاکستان اور پاکستان کے اداروں کے مستقبل کے متعلق کوئی اچھا فیصلہ کر لیں ورنہ خسارے کا سودا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بہت کچھ ٹوٹے گا تو کوئی راستہ نکل سکے گا۔
اس پروگرام میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نواز کے راہنما شاہد خاقان عباسی بھی موجود تھے۔ انہوں نے اس معاملہ پر اپنی رائے بیان کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی موجودہ حالت کی ذمہ دار خود عدلیہ ہی ہے جس نے وقت کے ساتھ ساتھ حالات کو خراب کیا ہے۔ حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ صرف وکیل نہیں بلکہ ایک عام شہری بھی ججز کا بینچ دیکھ کر بتا دیتا ہے کہ فیصلہ کیا آئے گا۔ حالت ایسی ہے کہ ریمارکس کچھ اور ہوتے ہیں جبکہ فیصلے کچھ اور ہوتے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ججز کی تقرری کا طریقہ کار تبدیل ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس کا انتخاب سینیارٹی کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے خرابی پیدا ہوتی ہے۔ ججز خود جج کا انتخاب کرتے ہیں اور آئندہ 15 سالوں کیلئے چیف جسٹس کے منصب پر آنے والوں کا فیصلہ ہو چکا ہے جو کہ مناسب طریقہ نہیں ہے۔ جس طرح وزیراعظم اور آرمی چیف سینیارٹی پر سیلیکٹ نہیں کیے جاتے بلکہ ان کی قابلیت اور دیگر پیمانے دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے، اسی طرح سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا انتخاب بھی ججز کی قابلیت اور فیصلوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
پروگرام کے میزبان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک وقت تھا جب “مُلّا ملٹری الائنس” ہوا کرتا تھا، اب وہ “جج جرنیل الائنس” میں تبدیل ہو چکا ہے اور اسی الائنس نے مسلم لیگ نواز کی حکومت کو کمزور کیا اور عمران خان کو “خدا”بنا کر پیش کر دیا۔
اینکر نے انکشاف کیا کہ انہیں نواز شریف کی نااہلی سے پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ معلوم ہو چکا تھا اور اسی طرح جہانگیر ترین اور عمران خان کے متعلق نااہلی کیسز کے فیصلے بھی انہیں موصول ہو چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ فیصلے غیر سیاسی ذرائع سے معلوم ہوئے تھے اور اس سے ان ججز کی شفافیت، ان کی عدالت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے تعلقات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ ندیم ملک نے کہا کہ یہ انصاف کے تقاضوں کے منافی اور نامناسب چیز تھی اور یہ ایک فکسڈ ارینجمنٹ تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مجھ جیسے رپورٹر کو یہ فیصلے معلوم تھے تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کس نوعیت کی انڈرسٹینڈنگ اور کمیونیکیشن تھی۔
میزبان صحافی نے کہا کہ عمران خان درحقیقت جنرل کیانی کا تھرڈ پولیٹیکل پاور ماڈل تھا اور اس کو حکومت میں لانے کیلئے جنرل فیض اور جنرل باجوہ کا بھی کردار تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جب عمران خان نے قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا تو 20 سے زائد لوگ عمران خان کو ووٹ نہیں دینا چاہتے تھے مگر پھر ایک صاحب چڑیا گھر لاہور سے اور دوسرے صاحب اسلام آباد سے بیٹھ کر انہیں فون کالز کر رہے تھے، تب جا کر وہ لوگ ووٹ دینے آئے تھے۔