جنرل (ر) فیض حمید پر ریٹائرمنٹ کے بعد فوج میں بغاوت اور 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد سامنے آنے پر سزا دیے جانے کا امکان ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی حراست میں لے کر پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت مناسب انضباطی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
میں نے فوج پر کبھی کوئی الزام نہیں لگایا، ہم فوج سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، فوج اپنا نمائندہ مقرر کرے، جسٹس عامر فاروق مجھے ٹیریان کیس میں پھنسانا چاہتا تھا، جماعتِ اسلامی کے دھرنا اور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بلوچ عوام کی حمایت کرتا ہوں۔
پاکستان میں اقلیتوں کیخلاف بڑھتے حملے ہمارے لیے باعثِ شرمندگی ہیں، ذاتی جھگڑوں پر توہینِ مذہب کا الزام لگا کر قتل کیا جا رہا ہے، ملک جتنا ہمارا ہے اتنا اقلیتوں کا بھی ہے، تحریکِ انصاف آج بھی 9 مئی والی ہے اور دہشتگردوں کیساتھ کھڑی ہے۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔