US and Pakistani soldiers concluded Exercise Inspired Gambit this week, focusing on infantry coordination and counterterrorism tactics in a sign of sustained defence engagement between the two countries.
پاکستان اور امریکا کے مابین تیرہویں مشترکہ فوجی مشقوں انسپائرڈ گیمبٹ 2026 کا آغاز ہو گیا جن کا مقصد کاونٹر ٹیررازم میں تجربات کے تبادلہ، حربی طریقہ کار اور مؤثر انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کی ٹیکنیک کو بہتر بنانا ہے۔
There is a certain discipline in Ahmed Sharif’s choice of words as of late. Melodrama is avoided, but denial is not indulged either. If Pakistan is to argue its case internationally, he suggests that it must first lay out its qualms.
Pakistan’s military has described terrorism as the country’s most serious threat, pointing to significant gains in 2025 and warning that any future aggression from India or Afghanistan would trigger a decisive response.
دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے، دہشت گردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ پاکستان سے، اور ریاستی پالیسی واضح، غیر مبہم اور غیر متزلزل ہے۔ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور مستقبل پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور معرکہِ حق میں بھارت کو دیا گیا فیصلہ کن سبق اس عزم کا واضح ثبوت ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یورپ میں لگژری پراپرٹیز و فائیو سٹار ہوٹلز سمیت وسیع سرمایہ کاری سلطنت رکھتے ہیں جو لندن سے جرمنی و سپین تک ہے۔ مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے سوئس بینک اکاؤنٹس و برطانوی پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔