Pakistan says no finality exists on a reported US visit by Field Marshal Asim Munir and no decision has been taken on sending troops to Gaza, The Thursday Times confirms.
پاکستان کی 2025 میں سفارتی معجزات کی بدولت خارجہ محاذ پر پاکستان کی غیر معمولی کامیابیاں۔ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ، امریکہ سے تعلقات کی بحالی، ایران اور ترکی کے ساتھ اقتصادی تعاون، اور چین کے ساتھ تعلقات کا فروغ اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی نے خطے کا توازن بدل دیا ہے۔
پاکستان نے انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کی قانونی حیثیت کا دفاع کیا ہے۔ پاکستان نے عالمی انسانی حقوق کے بیانیے میں مقصدیت زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے دوہرے معیارات سے گریز کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔
پاکستان نے افغانستان کے اندر سرحدی علاقوں میں انٹیلیجنس معلومات کی بناء پر انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کیے ہیں جس کا اہم ترین ہدف حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد تھے جو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندر متعدد دہشتگرد حملوں کے ذمہ دار ہیں۔
انڈیا پاکستان کے اندر ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث ہے، بھارتی ایجنٹس اشوک کمار اور یوگیش کمار نے پاکستان میں شہریوں کو قتل کرایا، پاکستان کے پاس اس حوالہ سے مصدقہ شواہد موجود ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یورپ میں لگژری پراپرٹیز و فائیو سٹار ہوٹلز سمیت وسیع سرمایہ کاری سلطنت رکھتے ہیں جو لندن سے جرمنی و سپین تک ہے۔ مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے سوئس بینک اکاؤنٹس و برطانوی پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔