پاکستان نے افغانستان کے اندر سرحدی علاقوں میں انٹیلیجنس معلومات کی بناء پر انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کیے ہیں جس کا اہم ترین ہدف حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد تھے جو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندر متعدد دہشتگرد حملوں کے ذمہ دار ہیں۔
انڈیا پاکستان کے اندر ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث ہے، بھارتی ایجنٹس اشوک کمار اور یوگیش کمار نے پاکستان میں شہریوں کو قتل کرایا، پاکستان کے پاس اس حوالہ سے مصدقہ شواہد موجود ہیں۔
پاکستانی سرزمین پر ایرانی حملہ ناقابلِ قبول، پاکستان غیر قانونی اقدام کا جواب دینے کا مکمل حق رکھتا ہے، نتائج کی ذمہ داری ایران پر عائد ہو گی، ایرانی سفیر کو پاکستان آنے سے روک دیا، پاکستانی سفیر کو بھی ایران سے واپس بلا لیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔