Pakistan's stock market makes history as the KSE-100 Index crosses the 100,000-point milestone, signalling robust investor confidence and record trading volumes reshaping economic dynamics.
پاکستان سٹاک مارکیٹ نے نئی تاریخ رقم کردی۔ 100 انڈیکس نے تاریخ میں پہلی مرتبہ لاکھ پوائنٹس کا سنگ میل عبور کرلیا۔ کاروباری دن کے آغاز میں ہی زبردست تیزی دیکھی گئی اور 100 انڈیکس نے 1 لاکھ 368 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ کر ایک نئی بلندی کو چھولیا۔
Pakistan's stock market has crashed, with the benchmark KSE-100 Index plunging over 3,500 points, falling below the critical threshold of 95,000. After closing at 98,079 points the previous day, the Index dropped to 94,574 by the end of today.
سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، بینچ مارک کے ایس ای ہنڈرڈ انڈیکس میں 3500 سے زائد پوائنٹس کی کمی، سٹاک ایکسچینج 95 ہزار کی نفسیاتی حد بھی برقرار نہ رکھ سکا، گزشتہ روز 98 ہزار 79 پوائنٹس پر بند ہونے والا سٹاک ایکسچینج آج 94 ہزار 574 پوائنٹس پر بند ہوا۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ 2024 میں دنیا کی دوسری بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹ بن گئی ہے جو صرف ارجنٹینا کے S&P میروال انڈیکس سے پیچھے ہے۔ سیاسی استحکام، معاشی اصلاحات، مؤثر اقتصادی پالیسیز اور IMF کی حمایت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا۔
পাকিস্তান টি-টোয়েন্টি বিশ্বকাপ ২০২৬-এ অংশ নেবে, তবে জাতীয় দল ১৫ ফেব্রুয়ারি ভারতের বিপক্ষে নির্ধারিত ম্যাচে অংশগ্রহণ করবে না। বাংলাদেশের অংশগ্রহণে অস্বীকৃতির পর পাকিস্তান এই সিদ্ধান্ত নিয়েছে জাতীয় স্বার্থ, খেলোয়াড়দের নিরাপত্তা এবং নীতিগত অবস্থানের ভিত্তিতে।
Pakistan has confirmed its participation in the T20 World Cup 2026, but the national team will not take the field against India on 15 February, with officials citing national interest, player safety and a principled position after Bangladesh declined to participate.
پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کا اعلان کر دیا تاہم حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم 15 فروری کو بھارت کے خلاف کولمبو میں شیڈول میچ میں حصہ نہیں لے گی۔ فیصلہ قومی مفاد، کھلاڑیوں کی سلامتی اور اصولی مؤقف کے تحت کیا گیا ہے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بھارتی حمایت یافتہ ’’فتنہ الہندوستان‘‘ کے خلاف آپریشنز جاری، نوشکی میں بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے 12 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ کلیئرنس کارروائیوں میں اب تک 16 دہشتگرد مارے جا چکے ہیں۔
بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ ’’فتنہ الہندوستان‘‘ کے عزائم خاک میں مل گئے، پاکستان کی بہادر افواج نے 133 دہشتگرد ہلاک کر دیئے، دہشتگرد حملوں میں خواتین و بچوں سمیت 18 شہری اور سیکیورٹی فورسز کے 15 اہلکار شہید ہوئے، دہشتگردی کے مکمل خاتمہ تک آپریشنز جاری رکھیں گے۔