پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رحجان برقرار، ہنڈرڈ انڈکس مسلسل دوسرے روز 82 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کرگیا، سٹاک ایکسچینج 700 سو سے زائد پوائنٹس اضافہ کے ساتھ 82 ہزار 200 پوائٹس کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، ہنڈرڈ انڈکس 82 ہزار پوائنٹس کی نحد بھی عبور کرگیا، سٹاک ایکسچینج 1500 سو سے زائد پوائنٹس اضافہ کے ساتھ 82 ہزار پوائٹس کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔
موڈیز نے پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی صورتحال اور مستحکم ہوتی بیرونی مالیاتی پوزیشن کے پیش نظر پاکستان کی ریٹنگ کو مستحکم نقطہ نظر کے ساتھ سی اے اے 2 تک اپ گریڈ کر دیا ہے۔ موڈیز کے مطابق، پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ بھی نمایاں طور پر کم ہوگیا ہے۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان، آج دوسری بار 80 ہزار کی نفسیاتی حد عبور ہو گئی، سٹاک ایکسچینج 80 ہزار 400کی سطح پر پہنچ چکا ہے، ہنڈرڈ انڈیکس میں اب تک 760 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔
پاکستانی سٹاک مارکیٹ ایشیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹ بن گئی، رواں برس ڈالر کے لحاظ سے 27 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، روپیہ مستحکم ہوا ہے جبکہ افراطِ زر میں کمی سے شرح سود میں بھی کمی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ غزہ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی تنازعات تک وسعت کی تجویز بھارت کیلئے کشمیر کے حوالہ سے پریشان کُن ثابت ہو سکتی ہے۔