پاکستان سٹاک ایکسچینج 100 انڈیکس جون 2025 تک 1 لاکھ 6 ہزار پوائنٹس تک پہنچنے کی توقع ہے، اگلے 12 ماہ کے دوران سرمایہ کاری میں اضافہ کے ساتھ مالی سال 2025 کیلئے جی ڈی پی 3 اعشاریہ 5 فیصد سے 4 فیصد تک بڑھنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں نیا ریکارڈ قائم ہو گیا، آج 70 ہزار کی نفسیاتی حد بھی عبور ہو گئی، سٹاک ایکسچینج 70 ہزار 172 کی سطح پر پہنچ چکا ہے، گزشتہ روز سٹاک مارکیٹ میں 69 ہزار کی تاریخ ساز نفسیاتی حد عبور ہوئی تھی۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں نیا ریکارڈ قائم ہو گیا، آج 69 ہزار کی نفسیاتی حد بھی عبور ہو گئی، سٹاک ایکسچینج 69 ہزار 619 کی سطح پر پہنچ گیا، مجموعی طور پر ہنڈرڈ انڈیکس میں 1203 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں بھی کمی
پاکستان سٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، آج کاروباری روز کے اختتام تک مجموعی طور پر ہنڈرڈ انڈیکس میں 869 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، سٹاک ایکسچینج 67 ہزار 756 کی سطح بند ہوئی۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں نیا ریکارڈ قائم، آج 66 ہزار کی نفسیاتی حد بھی عبور ہو گئی، سٹاک ایکسچینج 66 ہزار 547 کی سطح پر پہنچ گیا، مجموعی طور پر ہنڈرڈ انڈیکس میں 641 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں بھی کمی
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔