عمران خان ڈِگّی میں چھپ کر گیا اور جنرل اعجاز امجد کے گھر پر جنرل باجوہ کے گِٹّوں کو ہاتھ لگائے، اب یہ کسی اور کے گِٹّے پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ 9 مئی اور آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کی معافی مانگیں، عمر ایوب ماضی میں چمچہ گیری کرتا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ابتدائی 100 دن کی حکومت پر عوامی رائے سامنے آئی ہے۔ آئی پی او آر کے سروے کے مطابق 55 فیصد افراد نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ شہری علاقوں میں 62 فیصد اور دیہی علاقوں میں 48 فیصد افراد مطمئن ہیں۔
مشرف صاحب اس دنیا سے جاچکے ہیں، اللہ تعالی انہیں معاف فرمائیں، لیکن قوم کو سوچنا چاہیے کہ کس نے قوم کے ساتھ کیا کیا ہے۔ عمران خان نے میرے اے سی اترانے کی بات کی، مگر میں انتقام کی سیاست نہیں کرتا۔ ملک میں مہنگائی میری وجہ سے نہیں، اگر مجھے نہ نکالا جاتا تو غربت اور بیروزگاری نہ ہوتی۔ شہباز شریف اور مریم نواز کی محنت سے روز مرہ اشیاء کی قیمتیں کم ہورہی ہیں، جو قابل تحسین ہے۔
جس جماعت نے الیکشن میں حصہ ہی نہیں لیا وہ سیاسی جماعت کی تعریف میں کیسے آ سکتی ہے؟ مفروضوں کی بنیاد پر یہاں آگے نہیں بڑھ سکتے، ایک کاغذ کے ٹکڑے پر آپ پارٹی کہہ رہے ہیں مگر آپ نے تو الیکشن ہی نہیں لڑا۔ جس سیاسی جماعت سے انتخابی نشان لے لیا گیا، کیا اس جماعت کے امیدواروں پر پابندی عائد کی گئی تھی کہ وہ کسی دوسری جماعت سے الیکشن نہیں لڑ سکتے تھے؟
میں نے عمران خان کی طرح القادر ٹرسٹ جیسا کوئی 460 ارب کا ڈاکہ نہیں مارا تھا، آج ثاقب نثار کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں چلا گیا، چار پانچ لوگوں نے پاکستان سے خوشحالی چھین لی، عمران خان ظہیر الاسلام جیسے جرنیلوں کی بنائی ہوئی تیسری قوت تھے۔
أكدت باكستان أنها ستقف إلى جانب السعودية في حال وقوع هجمات إيرانية، مهما كانت الظروف ومهما كان التوقيت. وبحسب بلومبرغ، فإن العلاقة بين الرياض وإسلام آباد قامت دائماً على مبدأ الوقوف المشترك في أوقات الأزمات والتحديات.
سعودی وزیرِ خارجہ کے پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور روسی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطے، خطہ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب گفتگو میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے سفارتی روابط اور سیاسی مشاورت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی حملوں کی صورت میں سعودی عرب کی مدد ضرور کرے گا، پھر چاہے جو بھی حالات ہوں اور وقت کوئی بھی ہو۔ پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ اِس اصول پر عمل کرتے رہے ہیں کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
Pakistan has moved to shut down the impression of informal peace talks with the Afghan Taliban, insisting that there will be no dialogue without concrete and verifiable action against cross-border militancy.