دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق عمران خان سیاسی طور پر تنہائی کا شکار ہیں، وہ سوشل میڈیا پر ”کی بورڈ وارئیر“ بن کر رہ گئے ہیں جبکہ تحریکِ انصاف انہدام کی طرف گامزن ہے۔
تحریکِ انصاف نے آج رات کیلئے انتہائی گھٹیا ڈرامہ رچانے کی پلاننگ کی تھی تاکہ لوگوں کو گمراہ کیا جا سکے مگر ایجنسیوں کی بروقت کارروائی سے یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔
عمران خان نے 14 مئی کو زوم میٹنگ کے دوران سب کو 9 مئی کے واقعات کی مذمت سے منع کر دیا اور کہا کہ کوئی بھی دفاعی پالیسی کی جانب نہیں جائے گا۔ عمران خان زوم میٹنگز میں اپنے ترجمانوں کو فوج کے خلاف بیانات دینے کی ہدایات جاری کرتے تھے۔
سابق وزیراعظم نے امریکی کانگریس کی خاتون رکن میکسین واٹرز سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ عمران خان اور تحریکِ انصاف کے حق میں کوئی بیان جاری کریں کیونکہ ان کا بیان پاکستان میں ارتعاش پیدا کریگا جو پاکستان کے موجودہ حالات میں عمران خان اور تحریکِ انصاف کیلئے مددگار ہو گا۔
میرے حامیوں کو معلوم ہے کہ مجھے قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اس کے پیچھے حکومت کا ہاتھ تھا جبکہ اس واقعہ کی تحقیقات بھی نہیں کی گئیں۔جب مجھے فوج نے اغواء کروایا تو ایسا سخت ردعمل تو آنا ہی تھا۔
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔
A robot dog clip has derailed India’s AI summit after online users identified the device as a Chinese-made model. Congress and Rahul Gandhi seized on the claim, turning it into a credibility crisis for the event.