آج جو کچھ عمران خان کے ساتھ ہو رہا ہے اس کو نظام کا مزید بےنقاب ہونا نہیں کہتے بلکہ نظام کا اپنے انجام تک پہنچنا کہتے ہیں، چند برس پہلے تک جو عناصر اس بدبودار نظام کے سب سے بڑے بینفیشریز تھے ان کا انجام تک پہنچنا ہی دراصل اس بدبودار نظام کی موت ہے۔
حکومت ختم ہونے کے بعد جنرل قمر باجوہ سے ایوانِ صدر میں دو بار مذاکرات ہوئے، جنرل باجوہ نے کہا اچھے بچے بن جاؤ دو تہائی اکثریت دلاؤں گا، پلان سی تیار ہے 8 فروری کو پتہ لگ جائے گا، میں نے کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کی۔
عمران خان کا اقتدار میں واپس آنا پاکستان کیلئے معاشی، دفاعی اور سفارتی لحاظ سے تباہ کن ہو گا، عمران خان کی جنونیت اور میسیانک پاپولزم پاکستان کیلئے ڈیڈ اینڈ ہو گا۔
سپریم کورٹ نے "شوکت عزیز صدیقی کیس" میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) فیض حمید اور بریگیڈیئر (ر) عرفان رامے کو نوٹسز جاری دیئے۔اگر کسی فوجی افسر نے کسی کو فائدہ پہنچایا ہے تو وہ بھی اس جال میں پھنسے گا۔ چیف جسٹس
سویلینز کو ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ فوج کسی بھی صورت میں اپنے سابق چیف پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتی، سویلینز بار بار ایک ہی غلطی دوہراتے ہیں، سویلینز کو یہ بات اب سمجھ جانی چاہیے کہ فوج اپنے سابق سربراہ پر کسی بھی قسم کی تنقید برداشت نہیں کرتی۔
Pakistan says the United States and Iran have expressed confidence in its role as a potential facilitator for talks, with Islamabad saying it would be honoured to host negotiations in the coming days.
امریکا و ایران دونوں نے ممکنہ مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ پاکستان آئندہ چند روز میں ممکنہ مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خطہ میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت اور تائید کی۔
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
Pakistan is preparing to host the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey and Egypt for bilateral meetings and a four-country diplomatic session in Islamabad that is expected to conclude with a joint communiqué and possibly a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif.
مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اتوار کی صبح، سعودی وزیرِ خارجہ سہ پہر پاکستان پہنچیں گے۔ شام کو چاروں وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہو گی جبکہ عشائیہ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔