spot_img

Columns

News

بالآخر 9 مئی کے منصوبہ ساز نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا، مریم نواز شریف

بالآخر 9 مئی کے منصوبہ ساز نے اعتراف کر لیا ہے۔ زمان پارک دہشتگردی کا ہیڈکوارٹر بنا رہا۔ چار ماہ تک جعلی پلستر باندھ کر منصوبہ بندی کی گئی۔ اگر احتجاج پُرامن تھا تو 200 سے زائد فوجی تنصیبات پر حملے کیوں ہوئے؟ اسی گروہ نے پارلیمنٹ، وزیراعظم ہاؤس اور پی ٹی وی پر بھی حملے کیے تھے۔

عمران خان نے کارکنان کو جی ایچ کیو کے سامنے احتجاج کی کال دینے کا اعتراف کر لیا

میں نے گرفتاری سے قبل کارکنان کو جی ایچ کیو کے سامنے پرامن احتجاج کی ہدایت کی تھی، جب پارٹی چیئرمین کو رینجرز اغواء کر کے لے جائے گی تو پھر کارکنان جی ایچ کیو کے سامنے ہی احتجاج کریں گے، ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ لانے سے بہتر ہے کہ پاکستان میں سیدھا سیدھا مارشل لاء لگا دیں۔

عزم استحکام ملٹری آپریشن نہیں بلکہ مہم ہے، ایک سیاسی مافیا اسے متنازعہ بنا رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

عزم استحکام ملٹری آپریشن نہیں بلکہ مہم ہے، ایک سیاسی مافیا اپنے مفادات کیلئے اس کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے، عدالتی نطام 9 مئی کے منصوبہ سازوں کو ڈھیل دے رہا ہے، ڈیجیٹل دہشتگرد جھوٹ اور فیک نیوز کے ذریعہ اضطراب پھیلا کر اپنی مرضی مسلط کرتا ہے۔

Joe Biden Quits 2024 U.S. Presidential Race Amidst Rising Pressure

President Joe Biden has made the unexpected decision to withdraw from the upcoming presidential race, following considerable pressure from key political allies. This decision, marks a significant shift in the political landscape as Biden, aged 81, steps down to focus on his current presidential duties for the remainder of his term.
spot_img
Analysisعمران خان کی اقتدار میں واپسی پاکستان کیلئے تباہ کن ہو گی،...

عمران خان کی اقتدار میں واپسی پاکستان کیلئے تباہ کن ہو گی، جریدہ وال سٹریٹ جرنل

عمران خان کا اقتدار میں واپس آنا پاکستان کیلئے معاشی، دفاعی اور سفارتی لحاظ سے تباہ کن ہو گا، عمران خان کی جنونیت اور میسیانک پاپولزم پاکستان کیلئے ڈیڈ اینڈ ہو گا۔

spot_img

نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی اخبار ”دی وال سٹریٹ جرنل“ نے تحریکِ انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان کے متعلق لکھا ہے کہ ان کا اقتدار میں واپس آنا پاکستان کیلئے معاشی، سفارتی اور دفاعی لحاظ سے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

دی وال سٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کرپشن کے سزا یافتہ مجرم ہیں، وہ چار ماہ سے جیل میں قید ہیں لیکن اس کے باوجود وہ پاکستان کیلئے سب سے بڑا سیاسی سوال بنے ہوئے ہیں، پاکستانی فوج عمران خان کی تحریکِ انصاف کو آئندہ برس 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی سے روکنے کیلئے پرعزم دکھائی دیتی ہے جبکہ ان کے حامی ابھی تک انہیں پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے ایک آخری امید کے طور پر دیکھتے ہیں۔

امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ اگر عمران خان مشکلات سے نکل کر غالب ہونے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ ہر گز پاکستان کیلئے بحرانوں سے نکلنے کا اشارہ نہیں ہو گا بلکہ یہ ممکنہ طور پر 240 ملین لوگوں کے ایٹمی ملک پاکستان کیلئے تیزی سے زوال کا باعث بنے گا۔

وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے آرٹیکل کے مطابق 71 سالہ عمران خان پانچ دہائیوں سے ایک عوامی پہچان رکھتے ہیں، وہ سابق کرکٹر اور آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ ایک ذہین شخص ہیں جنہوں نے اپنی والدہ کی یاد میں کینسر ہاسپٹل تعمیر کروایا، ان کی شادی برطانیہ کے رئیس خاندان کی جمائما گولڈ سمتھ سے ہوئی جبکہ ایک رائے یہ بھی پائی جاتی ہے کہ انہوں نے ملکی تاریخ کا طاقتور ترین سیاسی برانڈ متعارف کرایا ہے۔

نیو یارک میں قائم اخبار کے مطابق عمران خان خود کو ایک متقی انسان کے طور پر ظاہر کرتے ہیں، وہ 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان ہونے کی وجہ سے ایک لیڈر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں، بطور وزیراعظم انہوں نے اقوامِ متحدہ میں اسلامو فوبیا کا معاملہ اٹھایا جبکہ فرانس اور نیدرلینڈز کو اسلام پر غیر منصفانہ حملوں کے حوالہ سے تنقید کا نشانہ بنایا۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق تحریکِ انصاف ویڈیو کلپس کے لامتناہی ذخیرے کو استعمال کرتے ہوئے ان کم عمر ووٹرز کو عمران خان کی طرف متوجہ کر سکتی ہے جنہوں نے عمران خان کی بطور کھلاڑی صلاحیتوں کا مشاہدہ نہیں کیا، عمران خان کی شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ لندن کے نائٹس برج میں بھی اتنے ہی پرسکون دکھائی دیتے ہیں جتنے وہ پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں پشتون قبائلیوں کے درمیان نظر آتے ہیں۔

امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ پاکستان میں طویل عرصہ سے فوج سیاست میں مداخلت کر رہی ہے اور پاکستان کی فوج نے ہی عمران خان کو 2018 میں وزارتِ عظمٰی کی کرسی تک پہنچایا مگر آج عمران خان اسی پاکستانی فوج کے سب سے بڑے دشمن بن چکے ہیں۔

دی وال سٹریٹ جرنل کے مطابق عمران خان 2022 میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ اختلافات کے باعث اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے اور پھر رواں برس مئی میں عمران خان کی کرپشن کے ایک تاحال جاری مقدمہ میں گرفتاری پر ان کے حامیوں نے متعدد فوجی تنصیبات اور ایک سینیئر جنرل کے گھر پر حملہ کر دیا، پاکستانی اتھارٹیز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کے راہنماؤں اور ہزاروں کارکنان کو گرفتار کر لیا جبکہ عمران خان کو میڈیا پر مکمل طور پر بلیک آؤٹ کر دیا گیا۔

نیو یارک میں قائم اخبار نے لکھا ہے کہ عمران خان کو توہینِ عدالت اور دہشتگردی سمیت کم و بیش 200 مقدمات کا سامنا ہے جبکہ عمران خان کو ریاستی راز اِفشا کرنے کے جرم میں سزائے موت بھی سنائی جا سکتی ہے، عمران خان کرپشن کے مقدمہ میں سزا یافتہ مجرم ہیں اور اگر سزا کے خلاف ان کی اپیل کامیاب نہ ہو سکی تو وہ آئندہ پانچ برس کیلئے قومی اسمبلی کی رکنیت کیلئے نااہل رہیں گے اور انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

دی وال سٹریٹ جرنل کے آرٹیکل میں لکھا گیا ہے کہ اگر عمران خان کی پارٹی آئندہ انتخابات میں کلین سویپ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستانی فوج اور عدالتیں عمران خان کو دوبارہ اقتدار میں آنے کی اجازت دینے پر مجبور ہو سکتی ہیں لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پاکستان کیلئے تباہ کن ہو گا کیونکہ عمران خان کا میسیانک پاپولزم پاکستان کیلئے “ڈیڈ اینڈ” یعنی آخری انجام کو ظاہر کرتا ہے، عمران خان کے دورِ حکومت میں ان کے اتحاد اسلامیت، اینٹی امریکی اور بائیں بازوں کی معاشیات جیسے خیالات ناکام ہو چکے ہیں۔

امریکی اخبار کے مطابق گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے واشنگٹن کا دورہ کیا ہے لیکن عمران خان کی کامیابی اس امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو نقصان پہنچائے گی جو پاکستان کیلئے سب سے بڑا برآمدی مقام اور اس انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا اہم ترین رکن ہے جس کے قرضے پاکستان کے ذمہ واجب الادا ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستان کو آگے بڑھنے کیلئے بھارت کے ساتھ پرامن ماحول درکار ہے لیکن عمران خان کی جنونیت پاکستان کیلئے بھارت کے ساتھ مستقل محاذ آرائی کا سبب بن سکتی ہے، بھارت پاکستان کی نسبت نو گنا بڑی معیشت ہے اور وہ پاکستان سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ پاکستان کو بڑھتی ہوئی اندرونی دہشتگردی، فی کس آمدنی میں جمود، شرح کے لحاظ سے 30 فیصد کے قریب پہنچتی افراطِ زر اور بےروزگاری میں اضافہ جیسے مسائل کا سامنا ہے اور ایسے حالات میں پاکستان کو عمران خان جیسے ناکام خیالات کے کرشماتی ترجمان کی بجائے ایک پختہ قیادت کی ضرورت ہے۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
error: