وفاقی حکومت کی جانب سے معاشی استحکام اور ملک میں سرمایہ کاری لانے کیلئے بنائے گئے فورم "سپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل" نے اربوں ڈالرز کے ایسے 28 بڑے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے جن میں خلیجی ممالک کو سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے گی جبکہ ان پراجیکٹس میں دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر اور بلوچستان میں ریکوڈک منصوبہ بھی شامل ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کو اپریل 2022 میں حکومت ملی تو پاکستان کو مشکل ترین معاشی چیلنجز کا سامنا تھا اور پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت سنبھالتے ہی معیشت کی بحالی کیلئے بہترین فیصلے کیے اور شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کے معاشی حالات اب بہتری کی جانب گامزن ہیں۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران بانڈز میں 40 فیصد اضافہ کے باعث پاکستان کے اثاثے بڑھے ہیں جبکہ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ تقریباً 9 فیصد اضافہ کے ساتھ عالمی سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی مارکیٹس میں شامل رہی ہے۔
اس عرصہ کے دوران ہم نے سیاست نہیں بلکہ ریاست کی حفاظت کی اور ریاست کو بچانے کیلئے اپنی سیاست کی قربانی دی، ہم نے معیشت اور خارجہ تعلقات سمیت دیگر شعبوں میں لگی آگ بجھائی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.
Trump has cancelled his representatives’ planned trip to Islamabad for talks with Iran, saying too much time was being spent on travel and that Tehran can contact Washington directly if it wants negotiations.
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met Prime Minister Shehbaz Sharif in Islamabad, describing Pakistan as holding a significant place in Tehran’s foreign policy outlook while briefing Pakistan’s leadership on ceasefire developments, regional stability and bilateral cooperation.