امریکہ کو فلسطین کے خلاف اسرائیل کی حمایت پر سعودی عرب اور مصر کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے، سعودی ولی عہد نے امریکی پالیسی کی براہِ راست مخالفت کی ہے، عبدالفتاح السیسی نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کو دفاع کے حق سے تجاوز قرار دیا ہے۔
In light of recent violent escalations, Saudi Arabia condemns provocations by Israel and calls for an immediate ceasefire, reiterating its support for a two-state solution to the Israeli-Palestinian conflict.
سابق برازیلین صدر بولسونارو کیلئے سب سے بڑا خطرہ ان گھڑیوں کو غبن کرنے کے بعد فلاڈیلفیا کے ایک شاپنگ مال میں فروخت کرنے کا معاملہ ہے جو سعودی شاہی خاندان کی طرف سے بطور تحفہ ملی تھیں، جیئر میسیاس بولسونارو نے مبینہ طور پر ان گھڑیوں کو فروخت کر کے کم از کم 68 ہزار ڈالرز حاصل کیے۔
پاکستان کو شمسی توانائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت کم و بیش 25 بلین ڈالرز کے معاہدوں کی توقع ہے، پاکستان کی دفاعی صنعتیں بھی سرمایہ کاری کیلئے کھلی ہیں جبکہ پاکستان زراعت کیلئے غیر کاشت شدہ سرکاری زمین طویل عرصہ کیلئے لیز پر دینے کیلئے بھی تیار ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.
Trump has cancelled his representatives’ planned trip to Islamabad for talks with Iran, saying too much time was being spent on travel and that Tehran can contact Washington directly if it wants negotiations.
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met Prime Minister Shehbaz Sharif in Islamabad, describing Pakistan as holding a significant place in Tehran’s foreign policy outlook while briefing Pakistan’s leadership on ceasefire developments, regional stability and bilateral cooperation.