قومی سلامتی کا معاشی سیکیورٹی سے براہِ راست تعلق ہے۔ اگر ہم معاشی طور پر مضبوط ہوں گے تو ہماری نیشنل سیکیورٹی بہتر ہو جائے گی۔ ملکی استحکام کو تباہ کرنے اور انتشار پھیلانے کیلئے دارالحکومت پر چڑھائی کی گئی۔ سٹاک ایکسچینج میں ایک لاکھ پوائنٹس پر سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔
السعودية صديق وشقيق مخلص لباكستان، وأي تصريحات مسيئة بحقها تعد عداءً لباكستان وجريمة لا تُغتفر. أي محاولة لعرقلة الصداقة بين باكستان والسعودية ستُواجه بحزم. السعودية قدمت دعمها لباكستان دائمًا في المجالات المالية والدبلوماسية والسياسية، بحسب رئيس الوزراء الباكستاني شهباز شريف۔
Saudi Arabia is Pakistan's steadfast friend and brother, and any venomous remarks against it are an act of hostility towards Pakistan and an unforgivable crime. Any hand that attempts to disrupt the Pakistan-Saudi friendship will be dealt with firmly, says Pakistani prime minister Shehbaz Sharif.
سعودی عرب پاکستان کا مُرَبّی دوست اور بھائی ہے، اس کے خلاف زہر آلودہ بیان پاکستان سے دشمنی اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔ جو ہاتھ پاکستان سعودی عرب دوستی میں رکاوٹ بنے گا اسے توڑ دیں گے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مالی، سفارتی اور سیاسی حمایت کی، وزیراعظم شہباز شریف۔
کوپ 27 و کوپ 28 میں کیے گئے وعدے پورا کرنا ہونگے، پاکستان نے 2022 میں تباہ کن سیلاب کا سامنا کیا جس میں 30 ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا، محفوظ مستقبل کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا، بروقت اقدامات نہ کیے تو آنیوالی نسلیں معاف نہ کریں گی۔
Pakistan says the United States and Iran have expressed confidence in its role as a potential facilitator for talks, with Islamabad saying it would be honoured to host negotiations in the coming days.
امریکا و ایران دونوں نے ممکنہ مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ پاکستان آئندہ چند روز میں ممکنہ مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خطہ میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت اور تائید کی۔
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
Pakistan is preparing to host the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey and Egypt for bilateral meetings and a four-country diplomatic session in Islamabad that is expected to conclude with a joint communiqué and possibly a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif.
مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اتوار کی صبح، سعودی وزیرِ خارجہ سہ پہر پاکستان پہنچیں گے۔ شام کو چاروں وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہو گی جبکہ عشائیہ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔