عوام نے اپنے نمائندوں کو منتخب کیا مگر یہاں سیاست کو گالی بنا دیا گیا، پارلیمنٹ سمیت کوئی بھی ادارہ آئین کی بالادستی کے بغیر نہیں چل سکتا، مہنگائی کم ہو رہی ہے جس پر حکومت کی تعریف کرنی چاہیے، ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہو گا۔
شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، فساد فی الارض برپا کرنے والوں پر زمین تنگ رہے گی، فتنہ الخوارج کا خاتمہ کریں گے، دہشتگردوں کو جہاں پائیں گے سرکوبی کریں گے، فوج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے والے عناصر کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یومِ دفاع پاکستان کی قومی شناخت کا ایک عظیم حوالہ ہے، وطن کی خاطر جانیں قربان کرنے والوں کو جتنا خراجِ عقیدت پیش کیا جائے کم ہے، فتنہ الخوارج اور اس کے سہولتکاروں کا مکمل خاتمہ کریں گے، دہشتگردی کا سر کچلنے تک ہم سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔
Google has launched an initiative to produce 500,000 Chromebooks in Pakistan, marking the first presentation to PM Shehbaz Sharif during the Agay Barho event, where a report highlighted Pakistan’s growing IT exports and the need for further digital skills investment; Google emphasised its role in creating nearly 1 million jobs in 2023 and contributing Rs3.9 trillion to the economy.
مسلم لیگ (ن) واحد جماعت ہے جو مشکل ترین حالات میں عوام کو ریلیف دینا جانتی ہے، پی ٹی آئی کی ناقص پالیسیز نے ملک کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیلا، مسلم لیگ (ن) عوام کو مہنگائی و بجلی کے بھاری بِلز سے نجات دلائے گی اور معیشت کی مضبوطی کیلئے جو بھی کرنا پڑا کرے گی۔
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔