مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کا اقتدار میں واپس آنا ملکی معاشی استحکام اور پالیسیز کے تسلسل کیلئے خوش آئند ہے، کاروبار اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے جبکہ مہنگائی میں کمی واقع ہوئی ہے۔
فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ مایوس کن ہے، ایسا لگتا ہے کہ رپورٹ صرف جنرل (ر) فیض حمید کو کلین چِٹ دینے کیلئے بنائی گئی ہے، اگر فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد ہوتا تو 9 مئی کا سانحہ پیش نہ آتا۔
سعودی ولی عہد اور سعودی عرب کے وزیر اعظم محمد بن سلمان کے مئی کے دوسرے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کرنے کا امکان ہے۔ سعودی ولی عہد کے دورے کے دوران پاکستان میں اربوں ڈالرز کی انوسٹمنٹ کے فیصلے متوقع ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی منظوری دی ہے۔ اس کمی کا مقصد عوام کو مالی راحت ریلیف فراہم کرنا اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس فیصلے سے عوام کے لئے روزمرہ کے اخراجات میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔