ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو جاتا، وہ یوتھ جو باشعور ہے اور بڑوں کیلئے عزت و احترام جانتی ہے وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہے، ہم انشاءاللّٰه غربت اور بےروزگاری کا خاتمہ کریں گے۔
ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں، ہم کھوکھلے نعرے نہیں لگاتے، ہم سچی اور کھری باتیں کرتے ہیں، ہم انشاءاللّٰه اپنا ہر وعدہ پورا کرتے ہیں، طلال چوہدری کی وفا بےمثال ہے، فیصل آباد میں صرف میٹرو بس نہیں بلکہ اورنج لائن ٹرین بھی ہونی چاہیے۔
ہم نے قسم کھائی ہے کہ ملک و قوم کی خدمت میں سب کچھ کر گزرنا ہے، میرے ساتھ جو ظلم ہوا میں وہ برداشت کر رہا ہوں لیکن جو ظلم عوام کے ساتھ کیا گیا وہ میں برداشت نہیں کر سکتا، ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، ترقی و خوشحالی کیلئے بہت محنت کرنا پڑے گی۔
ہمیں بار بار اقتدار سے نکالا گیا اور ہم ہر بار جیلیں اور جلاوطنی کاٹ کر واپس آئے، ہم نے 2022 میں ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کی بھاری سیاسی قیمت ادا کی اور آئندہ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہمارا راستہ نہ روکا جانا تو آج پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوتا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے عام انتخابات 2024 کیلئے انتخابی منشور پیش کر دیا جس کے مطابق نیب کا ادارہ ختم کیا جائے گا، مالی سال 2025 تک مہنگائی میں 10 فیصد کمی لائی جائے گی جبکہ چار سالوں میں مہنگائی کو 4 سے 6 فیصد تک لایا جائے گا، منشور میں فی کس آمدنی کو پانچ برس میں 2 ہزار ڈالرز کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔