پاکستانی سٹاک مارکیٹ ایشیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹ بن گئی، رواں برس ڈالر کے لحاظ سے 27 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، روپیہ مستحکم ہوا ہے جبکہ افراطِ زر میں کمی سے شرح سود میں بھی کمی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
عمران خان کا ایجنڈا پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور فتنہ و فساد پھیلانے کا ہے، پاکستان کی سلامتی اور بہتری اسی میں ہے کہ عمران خان جیل میں رہے، عمران خان جمہوریت پر نہیں بلکہ فسطائیت پر یقین رکھتا ہے۔
پوری دنیا کو یہ واضح پیغام ہے کہ چین اور پاکستان کی دوستی ناقابلِ تسخیر اور اٹوٹ ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور چینی قیادت کے مابین سی پیک کی اپ گریڈیشن پر اتفاق ہوا ہے، ہم دونوں ممالک کے مابین تعاون کو نئی جہتوں تک پہنچانے کے خواہاں ہیں۔
انتخابات کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی پوزیشن بہتر ہو رہی ہے، بجٹ نے IMF ڈیل کے امکانات بڑھا دیئے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ FY24 کی GDP کے 0.3 فیصد تک محدود ہونے کی توقع ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 15.1 بلین ڈالرز تک پہنچ چکے ہیں۔
مستقبل کا راستہ چن لیا ہے، وعدہ کرتا ہوں موجودہ آئی ایم ایف پروگرام آخری ہو گا، ایسے اداروں کا خاتمہ کیا جائے گا جو پاکستان پر بوجھ بن چکے، ماضی میں جب بھی ترقی کا سفر شروع ہوا کوئی حادثہ ہو گیا۔
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.