مشرف صاحب اس دنیا سے جاچکے ہیں، اللہ تعالی انہیں معاف فرمائیں، لیکن قوم کو سوچنا چاہیے کہ کس نے قوم کے ساتھ کیا کیا ہے۔ عمران خان نے میرے اے سی اترانے کی بات کی، مگر میں انتقام کی سیاست نہیں کرتا۔ ملک میں مہنگائی میری وجہ سے نہیں، اگر مجھے نہ نکالا جاتا تو غربت اور بیروزگاری نہ ہوتی۔ شہباز شریف اور مریم نواز کی محنت سے روز مرہ اشیاء کی قیمتیں کم ہورہی ہیں، جو قابل تحسین ہے۔
دنیا کو چین کی ترقی سے سبق سیکھنا چاہیے، چین مختصر مدت میں دنیا کی دوسری بڑی معاشی و فوجی طاقت بن گیا، ہم چین کے عظیم اقتصادی ماڈل کی پیروی کر کے پنجاب سپیڈ کو پاکستان سپیڈ بنائیں گے، ہماری سب سے بڑی طاقت نوجوان افرادی قوت ہے۔
پاکستان کی چھ اکائیاں ہیں جن میں سے کشمیر، بلوچستان اور گلگت بلتستان کا صبر ختم ہو چکا جبکہ خیبرپختونخوا کا صبر ختم ہونے والا ہے، کیا صرف پنجاب اور سندھ پاکستان کی شکل ہوں گے؟ ایک شخص نے ریاست کا مستقبل داؤ پر لگا رکھا ہے۔
میں نے عمران خان کی طرح القادر ٹرسٹ جیسا کوئی 460 ارب کا ڈاکہ نہیں مارا تھا، آج ثاقب نثار کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں چلا گیا، چار پانچ لوگوں نے پاکستان سے خوشحالی چھین لی، عمران خان ظہیر الاسلام جیسے جرنیلوں کی بنائی ہوئی تیسری قوت تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔