سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے بلامقابلہ صدر منتخب ہو گئے، ان کے مقابل کسی نے بھی جماعت کی صدارت کے امیدوار کے طور پر کاغذاتِ نامزدگی جمع نہیں کرائے، میاں نواز شریف چوتھی بار جماعت کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی ملاقات، تجارت و سرمایہ کاری اور باہمی دلچسپی و علاقائی امور پر گفتگو، متحدہ عرب امارات کے صدر کی جانب سے پاکستان میں 10 ارب ڈالرز سرمایہ کاری کی یقین دہانی۔
ہماری حکومت کا تختہ نہ الٹایا جاتا تو آج ہم ایشیاء سمیت پوری دنیا میں سب سے آگے ہوتے، تین بندوں نے 25 کروڑ عوام کے منتخب وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکال دیا، پھر ایک ایسا بندہ لایا گیا جس نے ملک میں تباہی مچا دی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس؛ نواز شریف کو 28 مئی (یومِ تکبیر) کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کا صدر منتخب کیا جائے گا، وزیراعظم شہباز شریف 28 مئی تک مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر نامزد۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے استعفٰی دے دیا، جماعت کی مرکزی مجلسِ عاملہ کا اجلاس 18 مئی کو طلب کر لیا گیا جس میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو ایک بار پھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کا صدر منتخب کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔