کشمیر، بلوچستان، گلگت بلتستان کا صبر ختم ہو چکا، خیبرپختونخوا کا ختم ہونے والا ہے۔ ترجمان تحریک انصاف

پاکستان کی چھ اکائیاں ہیں جن میں سے کشمیر، بلوچستان اور گلگت بلتستان کا صبر ختم ہو چکا جبکہ خیبرپختونخوا کا صبر ختم ہونے والا ہے، کیا صرف پنجاب اور سندھ پاکستان کی شکل ہوں گے؟ ایک شخص نے ریاست کا مستقبل داؤ پر لگا رکھا ہے۔

A file photo is shown of PTI spokesperson Rauf Hassan at Islamabad on May 29, 2024. — FILE/THE THURSDAY TIMES
A file photo is shown of PTI spokesperson Rauf Hassan at Islamabad on May 29, 2024. — FILE/THE THURSDAY TIMES

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان تحریکِ انصاف کے ترجمان رؤوف حسن نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈکٹیٹرشپ نے اپنے اقتدار کو قائم رکھنے اور اس کی طوالت کیلئے ریاست کا مستقبل داؤ پر لگا رکھا ہے۔

ترجمان پی ٹی آئی رؤوف حسن نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی 6 اکائیاں ہیں جن میں سے گلگت بلتستان، کشمیر اور بلوچستان میں صبر بالکل ختم ہو چکا ہے جبکہ خیبرپختونخوا کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہونے والا ہے، کیا پاکستان کی شکل صرف پنجاب اور سندھ ہوں گے؟ کیا صرف پنجاب اور سندھ کو پاکستان کی شکل کے طور پر دیکھا جائے گا؟

رؤوف حسن کا کہنا تھا کہ ڈکٹیٹر شپ نے اپنے اقتدار کو قائم رکھنے اور اسے طول دینے کیلئے ریاست کا مستقبل داؤ پر لگا رکھا ہے، ایک شخص نے اپنے اقتدار کو بڑھانے کیلئے ریاست کو مشکل میں ڈال رکھا ہے، ریاست پر اسٹیبلشمنٹ کا زور بڑھتا جا رہا ہے، ہماری لڑائی فوج کے ساتھ نہیں بلکہ صرف ایک شخص کے ساتھ ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک میں آئین و قانون کو بحال کیا جائے۔

انہوں نے کہا ہے کہ تحریکِ انصاف کے بارے میں غلط بیانیہ بنایا جا رہا ہے، حمود الرحمن کمیشن میں پوری فوج کو نہیں بلکہ صرف جنرل یحیٰی خان کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، ایک شخص کی وجہ سے ملک کے دو ٹکڑے ہوئے، ہم موازنہ اس لیے کر رہے ہیں کہ آج بھی پاکستان میں ایک شخص کی ضد ہے، حمود الرحمن کمیشن میں فوج کے خلاف کچھ نہیں ہے بلکہ اس میں فوج کے بہادری کا ذکر ہے۔

ترجمان تحریکِ انصاف کا کہنا تھا کہ ملک ریاض پر پریشر بڑھایا جا رہا ہے لیکن انہوں نے کہا ہے کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے، اگر انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے تو مزید مسائل جنم لیں گے، عمران خان کے خلاف ثبوت نہیں ملے تو اب ملک ریاض پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور اسی مقصد کے تحت راولپنڈی میں نجی سوسائٹی پر چھاپہ مارا گیا لیکن ملک ریاض ڈٹ گیا ہے۔

رؤوف حسن نے کہا کہ خاور مانیکا نے عمران خان کے خلاف غلط زبان استعمال کی، دباؤ کے باعث وکیل سے کہا کہ کیس کو دوبارہ بیان کیا جائے، اب توشہ خانہ کے حوالہ سے ایک اور مقدمہ بنایا جا رہا ہے، ان کا منصوبہ ہے کہ کسی طرح عمران خان کو جیل میں رکھا جائے، عدت کیس ایک بھونڈا اور بےہودہ کیس ہے، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔∎

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

اس ڈیسک کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔