اکستان کے معاملات بہتری کی جانب گامزن ہیں، مستقبل میں معاشی حالات مزید بہتر ہوں گے، پاکستان کی معیشت اب پہلے سے بہتر ہے جبکہ جلد ہی مزید استحکام پیدا ہو گا
عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدے نے پاکستان میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے اور مارکیٹس میں ان کی واپسی دیکھنے میں آ رہی ہے تاہم سرمایہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب پاکستان کے پاس غلطیوں کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، اس معاہدے کیلئے وزیراعظم صاحب نے بہت محنت کی ہے اور اس حوالے سے پچھلے 10 دن بہت اہم تھے، پاکستان سری لنکا بننے والا ملک نہیں ہے، اگر آئی ایم ایف نہ بھی ہوتا تب بھی ہم ڈیفالٹ نہ کرتے، ہمارے پاس پلان بی موجود تھا۔
یہ لمحہِ فخریہ نہیں بلکہ لمحہِ فکریہ ہے، قرضوں سے قومیں ترقی نہیں کیا کرتیں بلکہ یہ ہماری مجبوری ہے کہ ان حالات میں ایسا کرنا پڑا، دعا کریں کہ یہ آخری موقع ہو کہ ہم آئی ایم ایف کے پروگرام کا حصہ ہوں، اللّٰہ کرے کہ ہمیں دوبارہ اس کے پاس نہ جانا پڑے۔
سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل کے پہلے اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری میں حائل رکاوٹیں دور کرے گی، یہ کونسل سرمایہ کاروں کیلئے ون ونڈو کا کردار ادا کرے گی جبکہ زراعت، لائیو سٹاک، کان کنی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں صلاحیتوں کے علاوہ توانائی اور زرعی پیداوار میں بھی اصل ملکی صلاحیت سے استفادہ کیا جائے گا۔
Pakistan says the United States and Iran have expressed confidence in its role as a potential facilitator for talks, with Islamabad saying it would be honoured to host negotiations in the coming days.
امریکا و ایران دونوں نے ممکنہ مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ پاکستان آئندہ چند روز میں ممکنہ مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خطہ میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت اور تائید کی۔
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
Pakistan is preparing to host the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey and Egypt for bilateral meetings and a four-country diplomatic session in Islamabad that is expected to conclude with a joint communiqué and possibly a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif.
مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اتوار کی صبح، سعودی وزیرِ خارجہ سہ پہر پاکستان پہنچیں گے۔ شام کو چاروں وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہو گی جبکہ عشائیہ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔