Pakistan's stock market surges past historic 120,000-point milestone, defying global downturn as investor confidence climbs on positive economic reforms.
پاکستان سٹاک مارکیٹ نے 2024 میں 22 برس کی نسبت بہترین سالانہ منافع کیساتھ تقریباً تمام مارکیٹس کو پیچھے چھوڑ دیا۔ آئندہ برس معاشی حالات میں مزید بہتری، شرح سود و افراطِ زر میں کمی اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخی بلندیوں کا سفر، سٹاک ایکسچینج میں 113400 کی نفسیاتی حد عبور ہو گئی، بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں 2671 سے زائد پوائنٹس اضافہ کے ساتھ سٹاک ایکسچینج 1 لاکھ 13 ہزار 481 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی کا رجحان برقرار، سٹاک ایکسچینج میں 1 لاکھ 10 ہزار کی نفسیاتی حد عبور ہو گئی، سٹاک ایکسچینج بینچ مارک KSE ہنڈرڈ انڈیکس میں 1 ہزار 175 سے زائد پوائنٹس اضافہ کے ساتھ 1 لاکھ 10 ہزار 229 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
At a moment when Asia has been pulled towards confrontation and uncertainty, Ishaq Dar has helped place Pakistan at the centre of the diplomatic effort for peace. In the past month, his steady, coalition-building approach has turned Islamabad into a credible channel for dialogue, resulting in the Islamabad Accords.
امریکا ایران موجودہ مذاکرات میں پاکستان واحد مواصلاتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے فوری جنگ بندی کیلئے دو مراحل پر مشتمل فریم ورک تیار کر لیا جو فریقین کے سامنے پیش کیا جا چکا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر، سٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیلئے ڈیڈ لائن میں توسیع اور فریقین کے درمیان براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ امریکی صدر نے منگل تک معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کے پاور پلانٹس اور پُلوں کو اڑا دیں گے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔