دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹس میں تنزلی کے باوجود پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 120,000 ہزار پوائنٹس کی ریکارڈ سطح عبور کرگیا۔
سٹاک مارکیٹ میں نئے سال کے دوسرے روز بھی نیا ریکارڈ قائم، بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں 1350 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ، سٹاک ایکسچینج 118367 پوائنٹس کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
Pakistan Stock Market showcased a remarkable upward trajectory as the benchmark KSE 100 Index gained by over 4,000 points, pushing past a significant psychological barrier of 14,000 points.
سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتہ کے آغاز پر زبردست تیزی کا رجحان، بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں 4600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ، سٹاک ایکسچینج ایک بار پھر 114000 پوائنٹس کی حد عبور کر گیا۔
Pakistan Stock Market maintains its historic bullish trend as the psychological barrier of 116,000 points is surpassed. The benchmark KSE-100 Index surged over 2000 points, reaching a record level of 116,300 points
At a moment when Asia has been pulled towards confrontation and uncertainty, Ishaq Dar has helped place Pakistan at the centre of the diplomatic effort for peace. In the past month, his steady, coalition-building approach has turned Islamabad into a credible channel for dialogue, resulting in the Islamabad Accords.
امریکا ایران موجودہ مذاکرات میں پاکستان واحد مواصلاتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے فوری جنگ بندی کیلئے دو مراحل پر مشتمل فریم ورک تیار کر لیا جو فریقین کے سامنے پیش کیا جا چکا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر، سٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیلئے ڈیڈ لائن میں توسیع اور فریقین کے درمیان براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ امریکی صدر نے منگل تک معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کے پاور پلانٹس اور پُلوں کو اڑا دیں گے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔