دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹس میں تنزلی کے باوجود پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 120,000 ہزار پوائنٹس کی ریکارڈ سطح عبور کرگیا۔
سٹاک مارکیٹ میں نئے سال کے دوسرے روز بھی نیا ریکارڈ قائم، بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں 1350 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ، سٹاک ایکسچینج 118367 پوائنٹس کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
Pakistan Stock Market showcased a remarkable upward trajectory as the benchmark KSE 100 Index gained by over 4,000 points, pushing past a significant psychological barrier of 14,000 points.
سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتہ کے آغاز پر زبردست تیزی کا رجحان، بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں 4600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ، سٹاک ایکسچینج ایک بار پھر 114000 پوائنٹس کی حد عبور کر گیا۔
Pakistan Stock Market maintains its historic bullish trend as the psychological barrier of 116,000 points is surpassed. The benchmark KSE-100 Index surged over 2000 points, reaching a record level of 116,300 points
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔
أكدت باكستان أنها ستقف إلى جانب السعودية في حال وقوع هجمات إيرانية، مهما كانت الظروف ومهما كان التوقيت. وبحسب بلومبرغ، فإن العلاقة بين الرياض وإسلام آباد قامت دائماً على مبدأ الوقوف المشترك في أوقات الأزمات والتحديات.