خوف اور دہشت پھیلانے والا نظام ختم کر دیا گیا ہے، اب قانون ہاتھ میں لینا ممکن نہیں رہا۔ وفاقی حکومت کی ٹی ایل پی پر پابندی کے بعد ان کے اثاثوں کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔ یہ اقدام کسی جماعت نہیں بلکہ انتشار پھیلانے والے عناصر کے خلاف ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ثابت کیا کہ بہادری اور عوامی خدمت ساتھ چل سکتے ہیں۔
فیض آباد دھرنے کے بعد سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مسلسل ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، کسی کو قتل کے فتوے جاری کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بےبنیاد الزام لگانے والے کی وہی سزا ہے جو اس الزام کے مرتکب فرد کو دی جاتی ہے، ریاست مذہب، سیاست یا ذاتی مفادات کے نام پر کوئی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گی۔
فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ مایوس کن ہے، ایسا لگتا ہے کہ رپورٹ صرف جنرل (ر) فیض حمید کو کلین چِٹ دینے کیلئے بنائی گئی ہے، اگر فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد ہوتا تو 9 مئی کا سانحہ پیش نہ آتا۔
عمران خان پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ”سپائلٹ براٹ“ ہے، یہ اسٹیبلشمنٹ کا وہ لےپالک بچہ ہے جس کو مارشل لاء کی بجائے جمہوری ادوارِ حکومت میں گود لیا گیا، اس کی غیر آئینی خواہشات کی تکمیل کیلئے ریاستی نظام درہم برہم کیا گیا۔
پراجیکٹ عمران خان کی کامیابی کیلئے تیار کی گئی سازشوں میں خطرناک ترین مذہب کارڈ تھا جبکہ مذہب کارڈ کے تحت جمہوری حکومت پر کیے گئے حملوں میں خطرناک ترین فیض آباد دھرنا تھا۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ غزہ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی تنازعات تک وسعت کی تجویز بھارت کیلئے کشمیر کے حوالہ سے پریشان کُن ثابت ہو سکتی ہے۔