Pakistan's KSE Hundred Index surpasses 94,000 points, marking a new high as trading volumes soar. Strong market momentum reflects renewed investor confidence and economic resilience.
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتہ کے آخری روز بھی زبردست تیزی، 100 انڈکس نے 93,000 ریکارڈ پوائنٹس کی سطح عبور کرلی۔ سٹاک مارکیٹ 400 سے زائد پوائنٹس اضافہ کیساتھ 93,000 پوائنٹس کی سطح عبور کرگئی۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتہ کے دوسرے روز بھی زبردست تیزی، 100 انڈکس نے 92,000 ریکارڈ پوائنٹس کی سطح عبور کرلی۔ سٹاک مارکیٹ 1000 سے زائد پوائنٹس اضافہ کیساتھ 92,000 پوائنٹس کی سطح عبور کرگئی۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخ ساز دن، بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں نیا ریکارڈ قائم ہو گیا، سٹاک ایکسچینج 90 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کر گئی، اب تک 1 ہزار 143 پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رحجان جاری، 100 انڈکس سے 700 زائد پوانٹس اضافہ کیساتھ 87,000 پوانٹس کی سطح عبور کرگیا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد اور معیشت میں استحکام ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔
أكدت باكستان أنها ستقف إلى جانب السعودية في حال وقوع هجمات إيرانية، مهما كانت الظروف ومهما كان التوقيت. وبحسب بلومبرغ، فإن العلاقة بين الرياض وإسلام آباد قامت دائماً على مبدأ الوقوف المشترك في أوقات الأزمات والتحديات.