شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن سمٹ میں کئی بڑے سربراہانِ مملکت آ رہے ہیں۔ پاکستان روس، چین، برطانیہ اور امریکہ سمیت سب کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات چاہتا ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کامیاب جا رہی ہے۔ پاکستان میں صرف ایک پارٹی کی ضد کی وجہ سے سیاسی بھونچال ختم نہیں ہو رہا۔
غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی ہونی چاہیے، فلسطینی عوام 6 ماہ سے جنگ اور بھوک کا سامنا کر رہے ہیں، غزہ میں جنگ بندی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا مطالبہ ہے، ہمیں غزہ کے مسلمانوں کو بھولنا نہیں چاہیے۔
Pakistan's Chief of Army Staff, General Syed Asim Munir, embarked on his first official visit to the U.S., meeting top U.S. officials and the UN Secretary-General to discuss bilateral interests, regional security, and global conflicts, with a focus on counterterrorism and the Kashmir issue.
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.
Prime Minister Shehbaz Sharif says Pakistan has received Iran’s response, signalling that Islamabad’s mediation channel remains active as regional diplomacy enters a sensitive phase.
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث عوام سراپا احتجاج، وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا۔ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔