9.9 C
Islamabad
Thu, 24 November 2022

اسلامو فوبیا، ایک گمراہ کن اصطلاح

تھرسڈے ٹائمز نیوز لیٹر کو سبسکرائب کیجئے

خبریں اور اداریے براہ راست سب سے پہلے اپنی ای میل میں حاصل کریں۔

Your information will be processed in accordance with our data use policy
- Advertisement -

+ other posts

Ashraf Quraishi is The Thursday Times' correspondent in New York. He has been in the journalistic field for over fifty years.

اہل اسلام ان کے عقائد،ان کی مقدس کتاب قران عظیم ان کی خواتین کے ملبوس ،ان کی عبادت گاہوں کے خلاف ایک عرصے سے نفرت اور اس نفرت کے نتیجے میں تشدد کی جو لہر جاری ہے اسے نظر انداز کرنا تو اب ممکن نہیں رہا لیکن اس سنگین اور گھناؤنے جرم کے خلاف جو آوازیں اٹھ رہی ہیں وہ کچھ مشکوک ہیں۔ او آئی سی کے اجلاس میں ہمارے سابق وزیر اعظم نےبھی اسے اسلامو فوبیا کا نام دیا اور اسلاموفوبیا کو اجاگر کرنے والوں کی تعریف و توصیف کے ساتھ ساتھ اسے لباس وغیرہ سے جس طرح خلط ملط کر دیا  اگرچہ باعث تشویش تو تھا لیکن مین نے یہ سمجھا کہ سابق وزیراعظم اکثر اہم مسائل کےبارے میں پریشان خیالی کے شکار رہتے ہیں۔ اور اس سنگین ترین مسئلے پر ان کی بے ربط گفتگو ان کے سر پر لٹکتی عدم اعتماد کی تحریک کی وجہ سے  بھی ہوسکتی ہے۔

امریکی کانگریس کی ممبر الہان عمر نے حال ہی میں پاکستان کا نجی دورہ کیا اور سابق وزیر اعظم سے اپنی ملاقات میں اسلاموبیا کے خلاف آواز اٹھانے پر انھیں سراہا۔ الہان عمر جس بات پر کسی کو چاہیں سراہ سکتی ہیں لیکن ان کا یہ طرز عمل ایک خطرناک غلط فہمی کو تقویت پہنچانے کا سبب بناہے۔ الہان عمر کو ایوان زیریں کی ممبر منتخب ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گذرا  اباس سے پہلے وہ لیبر پارٹی میں تھیں 2019 میں وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پرممبر کانگریس منتخب ہوئیں اورتب سے  ہمیشہ کسی نہ کسی تنازعے میں ملوث رہی ہیں۔ حال ہی میں دوران پرواز کچھ لوگ ایسٹر کاگیت گا رہے تھے ،الہان عمر نے ان کا مذاق اڑایا اور اس پر اعتراض کیا جب ان کی وڈیو پر ہر طرف سے اعتراض ہونے لگے تو انھوں نے کہا پھر کسی پرواز میں میں بھی نماز باجماعت کا اہتمام کر سکتی ہوں۔ یہ جواب بہت اچھا تھا لیکن الہان اگر شروع سے ایسٹر کاگیت گانے والے کا مضحکہ نہ اڑاتیںاور اس پر اپنا اعتراض ریکارڈ کراتیں تو ایک سیدھا سادا معاملہ ایک تنازعہ نہ بنتا۔اس سے قبل اسرائیل سے عہد وفا پر ان کے اعتراض کو anti-semitic قرار دیا گیا۔ اگر الہان عمر ہمارے وزیر اعظم کی طرح مئلے کی بنیاد اور اس کےظاہر اور باطن کی تفہیم سے لابلد نہ ہوتیں تو وہ اسلاموفوبیا کی اصطلاح کو ترک کرچکی ہوتیں۔حالیہ دنوں میں اسرائیل اور فلسطین کے مئلے پر امریکیوں کی سوچ میں ایک تبدیلی آئی ہے جس کی وجہ سے الہان عمر  اس سلسلے میں زیادہ مشکلات سے محفوظ رہیں۔ لیکن جس بات کو یہودی بنیاد بناکر اپنے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کرتے اگر الہان عمر اس نکتے تک پہنچ جاتیں تو ان کا بیانیہ یکسر بدل چکا ہوتا۔دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ دانستہ یا نادانستہ کسی مسلم دشمن طبقے کے جال میں آگئی ہیں۔

اسلاموفوبیا کی اصطلاح  مسلمانوں کے لئے دام ہم رنگ زمیں ہے۔فوبیا کیا ہے یہ ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے نفسیات دان اسے بیماری بھی کہتے ہیں۔ لیکن نفسیات دانوں اور جسمانی معالجوں میں بیماری کی تعریف الگ الگ ہے۔اگر کوئی شخص بار بار اپنا دامن جھٹکتا ہے تو جسمانی معالج اسے درخور اعتنا نہین سمجھتا لیکن نفسیت دان اسے بیماری قرار دیتا ہے۔ جسمانی معالج عام طور پر فوبیا کو مرض نہیں قرار دیتے۔

فوبیا کو ہم “توہم” یا وہمی خوف کہہ سکتے ہیں۔ فوبیا کی بہت سی اقسام ہیں ،بلندی کا خوف، پانی کا خوف بھیڑ بھاڑ کا خوف،کیڑوں مکوڑوں اور بعض جانوروں کا خوف حتیٰ کہ انسانوں کا خوف بھی ہوسکتا ہے۔ کچھ لوگ مکڑی سے ڈرتے ہیں کتوں بلیوں سے ڈرتے ہیں۔اور میں نے مرغی سے ڈرنے والے لوگ بھی دیکھے ہیں اور لال بیگ سے ڈرنے والے بھی۔ ان تمام اقسام کے خوف میں مبتلا لوگ فوبیا کے شکار یا فوبیا کے مریض ہوتے ہیں۔اس میں یاد رکھنے والا قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ فوبیا خوف کی پیدوار ہے نفرت کی نہیں۔اگرچہ ہماری بعض خواتین جو چھپکلی سے ڈرتی ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ چھپکلی سے ڈرتی نہیں انھین چھپکلی سے گھن آتی ہے۔ فوبیا کا شکار یا مریض جس چیز سے خوف کھاتا ہے اس کے قریب جانے سے گریز کرتا ہے اور جس قدر ہوسکے اس سے بچ کے رہتا ہے۔ بلندی کے فوبیا کا شکار  بلندی پر نہیں چڑھتا۔ پانی سے خوف میں مبتلا شخص ندی نالے میں نہیں اترتا بلکہ قریب تک نہیں جاتا۔کتے بلی سے ڈرنے والا کتے یا بلی کے مالک سے کہتا ہے کہ اپنی بلی یا کتے کو دور رکھو۔گویا یہ بات طے ہے کہ فوبیا کے شکار جس چیز سے خوف کھاتے ہیں اس سے حتی الوسع دور رہتے ہیں اور اس کا سامنا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔فوبیا کے مریض جس چیز سے ڈرتے اس سے اس حد تک نفرت نہیں کرتے کہ اسے صفحہ ہستی سے مٹانے پر تل جائیں۔بلندی سے ڈرنے والا بلندیوں کے خاتمے پر نہیں تل جاتا کتے بلیوں سے ڈرنے والا کتے بلیوں کے شکار پر نہیں نکل کھڑا ہوتا،مردوں سے ڈرنے والا یا والی مردوں کی جنس کا خاتمہ کرنے کے درپے نہیں ہوجاتے۔مکڑی کے فوبیا میں گرفتار مکڑیوں کی نسل ختم کرنے کی مہم پر نہیں لگ جاتا۔ گویا فوبیا ایک حقیقی یا غیر حقیقی خوف کا نام ہے جس کی بنیاد خوف ہے نفرت دشمنی اور تشدد یا دہشت گردی نہیں ہے۔ فوبیا کا شکار نفرت تشدد اور دہشت گردی سے اپنے خوف کا ردعمل ظاہر نہیں کرتا۔ کیا مسلمانوں سے نفرت کرنے والے ان کی مساجد کو نقصان پہنچانے والے ان کے ملبوس کو نشانہ بنانے والے ان کی مقدس کتاب کو جلانے ان کے مذہبی بزرگوں کے خلاف گستاخی کرنے والے فوبیا کا شکار ہیں اگر کوئی یہ سوچتا ہے تو یا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے یا وہ جان جان بوجھ کر نفرت اور دہشت گردی کو ایک معصوم نقاب میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔

کسی کی جنس رنگ نسل مذہب لباس اس کے آبائی وطن اس کی جنسی ترجیح اس کی زبان وغیرہ وغیرہ کی بنیاد پر نفرت تشدد اوراس کے خلاف دہشت گردی ایک سنگین ترین جرم ہے اور یہ hate crime مانا جا تا ہے۔یہودی اپنے خلاف ہونے والی ذرا سی بات کے خلاف اسی قانون کا سہارے لیتے ہیں اور انھوں اسے خاص طور پر یہودی نسل سے منسوب کرکے سامی نسل سے دشمنی کا نام دے رکھا ہے۔ سامی نسل کی دشمنی کا الزام لگنے پر بڑے بڑے پروفیسر اینکر اور بڑے بڑے عہدوں پر فائز خواتین وحضرات اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور بعض کو سزائیں بھی بھگتنا پڑیں۔ یہودی اپنے خلاف نفرت کو یہودو فوبیا کیوں نہیں کہتے؟کیوں کہ وہ بہت عقل مند ہیں وہ ان اصطلاحات کے گورکھ دھندے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ان میں کوئی الہان عمر اور عمران خان نہیں ہے۔ وہ جب دیکھتے ہیں کہ مسلمانوںپر کوئی پابندی لگنے والی ہے تو وہ مسلمانوں کے ساتھ کحڑے ہوجاتے ہیں۔ دوران ملازمت انھوں نے ڈاڑھی کی اجازت میں مسلمانوں کا ساتھ دیا ۔ مکی مسجد بروکلین نیو یارک کے میناروں کی تعمیر کی اجازت حاصل کرنے کے لئے وہ مسلمانوں کے شانہ بشانہ نیویارک سٹی کی گورنمنٹ سے لڑتے رہے۔

شاید اسلاموفوبیا کا پردہ چاک کرنے کے لئے بھی ہم یہودیوں کی مدد کا انتظار کر رہے ہیں۔کسی بھی شخص یا گروہ کے خلاف اس کی نسل اس کے آبائی وطن زبان لباس طرز معاشرت جنسی ترجیحات مذہب معذوری جسمانی نقص ذہنی پس ماندگی کی وجہ سے اظہار نفرت اور امتیازی سلوک یا تشدد hate crime کے زمرے میں آتا ہے۔ اور اس کی سزا سخت ہے۔ہمارے ہاں جیسے معمولی مار پیٹ پر بھی پولیس میں شکایت درج کرانے والے دہشت گردی کی دفعہ لگوانے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح امریکا میں افریقن امریکن کے خلاف کوئی جرم ہوتا ہے تو سب سے پہلا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ اسےجرم نفرت قرار دیا جائے۔ کئی بار پولیس والوں نے کسی سیاہ فام کو گولی ماردی پولیس کا مؤقف تھا کہ مقتول یا مضروب پویس پر حملہ کر رہا تھا یا اسے بھاگنے سے روکنے کے لئے  گولی چلائی گئی افریقن امریکن بالآخر تفیش کرانے کے لئے مظاہرے کرتے ہیں اور اگر ذرا سا بھی شائبہ ہو کہ گولی مارنے والے نےسیاہ فاموں کے خلاف کوئی نفرت آمیز لفظ ادا کیا تھا تو بس ایسے میں  جرم نفرت کے تحت مقدمہ چلانے پر اصرار ہوتا ہے اور جب یہ مقدمہ چلتا ہے تو پولیس والے پر قتل کا مقدمہ الگ سے بنتا ہے۔ hate crime میں غلط فہمی کو بھی عذر گناہ تسلیم نہیں کیا جاتا ،یعنی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں تو مسلمان کو مارنا چاہتا تھا غلطی سے سکھ مارا گیا گیا ۔اسی طرح  جرم نفرت کا ارتکاب کرنے والے پر اس سنگین جرم کے ساتھ ساتھ دوسرے جرائم کی دفعات بھی بدستور لگتی ہیں مثال کے طور پر ناجائز اسلحہ،پراپرٹی کو نقصان پہنچانا، لوگوں کو ناجائز طور پر زیر حراست رکھنا لوٹ مار کرنا، دہشت پھیلانا وغیرہ وغیرہ۔الہان عمر افریقن امریکن ہونے کے حوالے سے hate crime اور اس کی سنگینی سے بھی خوب واقف ہیں اور یہ بھی جانتی ہیں ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف جو جرائم ہورہے ہیں وہ کسی فوبیا کا نتیجہ نہیں ہیں جو لوگ مسمانوں پر گاڑیاں چڑھا کر پورے پورے خاندان کو قتل کررہے ہیں مساجد کو نقصان پہنچا رہے ہیں  نقاب کے خلاف مہم چلا رہے ہیں قران کریم کو جلارہے ہیں  کیا وہ مسلمانوں سے  فوبیا کے انداز میں خوٖف زدہ  ہیں۔  فوبیا میں مبتلا لوگ تو خود اپنے خوف کےسبب سےڈرکر دور بھاگتےہیں دوسروں کے لئے خوف کا باعث نہیں بنتے۔آپ نےکبھی سنا یا پڑھا ہے کہ پانی سے وہمی خوف میں مبتلا کسی شخص نے پانی کے ذرائع کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہو۔ بھیڑ بھاڑ سے خوف زدہ کسی شخص نے کسی مجمعے کو الٹ دیا ہو۔مکڑی سے خوف زدہ شخص نے گھر میں مکڑیاں دیکھ کر گھر کو آگ لگا دی ہو؟

میری تمام مسلمانوں بالخصوص مسلم امہ کے ابھرتے ہوئے رہنمائی کے دعوی داروںسے اور میڈیا سے گذارش ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ایک سنگین ترین جرم کومعصوم الفاط کے پردے میں چھپاکر مسلمانوں کے ساتھ زیادتی نہ کریں میں میڈیا سے بھی گزارش کروں گاکہ جان بوجھ کر پھیلائے جانے والےمغالطے کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ورنہ ہم فوبیا کے کھلونوں سے بہلائے جاتے رہیں گے اور خوں مسلم بہتا رہے گاہماری مقدس کتابوں اور عبادت گاہوں کی بے حرمتی ہوتی رہے گی۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

RELATED ARTICLES

FRESH OFF THE PRESS

ایک جعلی اور جھوٹا سازشی بیانیہ بنا کر ملک میں ہیجان کی کیفیت پیدا کی گئی، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ

فوج پچھلے ستر برس سے سیاست اور سیاسی معاملات میں ملوث رہی ہے جو کہ ایک غیر آئینی اقدام تھا اور یہی وجہ ہے کہ فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے

فرح گوگی نے توشہ خانہ گھڑی اورتحائف میرے پاس کیش کے عوض بیچے، عمر فاروق

توشہ خانہ گھڑی اور تحائف بیچنے کیلئے سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر نے عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی سہیلی فرح گوگی کو میرے پاس دبئی بھیجا جس نے کیش کے عوض وہ تحفے مجھے بیچے

ترکی کے شہر استنبول میں بم دھماکہ متعدد ہلاکتیں اور کئی افراد زخمی

استنبول میں بم دھماکہ چار افراد جانبحق 38 افراد زخمی ہوگئے

عمران خان امریکہ پر سازش کے الزامات لگانے کے بعد اس سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، برطانوی جریدہ

بین الاقوامی معتبر جریدہ فنانشل ٹائمز میں شائع مضمون کیمطابق عمران خان نے جس امریکہ پرسازش کا الزام لگایا تھا اسی امریکہ سے تعلقات بہتر کرنے کے خواہاں ہیں

پاکستان نیوزی لینڈ کو شکست دیکرٹی ٹونٹی ورلڈ کپ فائنل میں پہنچ گیا

پاکستان کرکٹ ٹیم نے شاندار آل راونڈ پرفارمنس دیتے ہوئے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو ورلڈ ٹی ٹونٹی کے پہلے سیمی فائنل میں 8 وکٹ سے ہرا کر ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے فائنل میں رسائی حاصل کرلی ہے

Public vandalism and criminal prosecution

The Criminal Damage Act 1971 states that the penalty for offences, such as graffiti, carry up to 10 years in prison, or a fine of up to £5k.

عمران خان کو کوئی فیس سیونگ نہیں دی جائیگی، میاں نواز شریف

دس لاکھ لانے کا دعوی کرنے والا ابھی تک دو ہزار بندے اکٹھے نہیں کر سکا عوام کی لا تعالقی کی وجہ وہ شر انگیز جھوٹ ہیں جن کا کچا چٹھہ قوم کے سامنے آ چکا ہے

عمران خان کے لانگ مارچ کنٹینر کے نیچے آکر خاتون صحافی جاں بحق

تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران مریدکے میں لانگ مارچ کی کوریج کرتے ہوئے نجی نیوز چینل فائیو کی خاتون صحافی رپورٹر تحریک انصاف کے کنٹینر کے نیچے آکر جاں بحق ہوگئیں

 فوج پر غداری کے الزامات لگانے والے رات کی تاریکی میں پردوں کے پچھے کیوں چھپ چھپ کرسپہ سالارسے ملتے ہیں، ڈی جی آئی...

ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مخصوص جھوٹا بیانیہ بنا کر لوگوں کو گمراہ کیا گیا اداروں پر اور اسکی لیڈر شپ یہاں تک کی آرمی چیف پر بھی بے جا الزام تراشی کی گئی معاشرے میں تقسیم اور غیر معمولی اضطراب پیدا کرنے کی کوشش کی گئی

Rishi Sunak is the UK’s new prime minister

Sunak has secured over 100 votes of confidence from his fellow party members