خالصتان تحریک سے نمٹنے کیلئے بھارٹی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، برطانوی وزیراعظم رشی سوناک

خالصتان تحریک سے نمٹنے کیلئے بھارت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، دونوں ممالک انٹیلی جینس معلومات بھی شیئر کر رہے ہیں۔ برطانیہ انتہا پسندی اور تشدد کی کسی بھی شکل کو قبول نہیں کرتا، برطانوی وزیراعظم کی نئی دہلی میں گفتگو

رائے دیں
A file photo is shown of British prime minister Rishi Sunak (L) with Bharati prime minister Narendra Modi (R) atop a backdrop of a Khalistan protest. — FILE/THE THURSDAY TIMES
A file photo is shown of British prime minister Rishi Sunak (L) with Bharati prime minister Narendra Modi (R) atop a backdrop of a Khalistan protest. — FILE/THE THURSDAY TIMES

دہلی—برطانوی وزیراعظم رشی سوناک نے کہا ہے کہ وہ ہندو ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور خالصتان تحریک سے نمٹنے کیلئے انڈین حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

بھارتی نژاد برطانوی وزیراعظم رشی سوناک اپنی اہلیہ کے ہمراہ جی 20 اجلاس میں شرکت کیلئے فی الوقت بھارت میں ہیں جہاں انہوں نے مبینہ طور پر خالصتان تحریک کے افراد کی جانب سے لندن میں انڈین ہائی کمیشن پر حملوں کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ میں کسی بھی طرح کی انتہا پسندی یا تشدد قابلِ قبول نہیں ہے۔

برطانوی کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر رشی سوناک کا کہنا تھا کہ میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ برطانیہ انتہا پسندی اور تشدد کی کسی بھی شکل کو قبول نہیں کرتا، ہم خالصتان تحریک سے نمٹنے کیلئے انڈین حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور دونوں ممالک اس حوالہ سے ایک دوسرے کے ساتھ انٹیلی جینس معلومات بھی شیئر کر رہے ہیں۔

رشی سوناک نے کہا کہ میں ہندو ہونے پر فخر محسوس کرتا ہوں اور میں نے اسی عقیدہ کے مطابق پرورش پائی ہے، اب جبکہ میں بھارت میں ہوں تو اگلے دو روز میں مندر بھی جاؤں گا اور چونکہ ابھی کچھ دن پہلے رکشا بندھن کا تہوار گزرا ہے لہذا میں نے اپنی بہنوں اور کزنز کیلئے راکھیاں بھی خریدی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے انڈیا واپس آ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے، یہ ایک ایسا ملک ہے جس کیلئے میں بہت زیادہ محبت رکھتا ہوں اور میرا خاندان یہیں سے تعلق رکھتا ہے، میرے لیے نریندر مودی بہت زیادہ قابلِ احترام ہیں اور میں یہاں برطانیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے انڈیا کیلئے جی 20 اجلاس کے کامیاب انعقاد میں اپنا کردار ادا کرنے آیا ہوں۔∎

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔

ناشر Thursday Media International thursday.media