Islamabad (The Thursday Times) — Hajra Khan Panezai, an actress and writer born in Quetta, unveiled her book ‘Where Opium Grows’ on Friday, which, according to Hajra Khan, is the second edition of her first censored book. From the opening pages it is clear that this is not merely a book but a collection of sensational revelations, enough to shake the foundations of readers' beliefs.
Where Opium Grows gives Hajra Khan's startling accounts of Imran Khan's character and habits. They include his unrestrained use of drugs, particularly cocaine; his thoughts about his daughter Tyrian White; sexual relationships with a number of women, among them an English model and a Black pop disco diva; comments on women's bodies; an experience with boys at boarding school; and obsessive fantasies about young schoolgirls.
The author, Hajra Khan, faced severe difficulties in getting ‘Where Opium Grows’ published. She suffered a major setback when an agency in London initially declined to work with her after five months, after which she was forced to publish the novel herself through ‘Kindle’ in Washington DC. Hajra Khan described the process as psychologically calming but incomplete.
This edition is a second incarnation of the original version published via Kindle in 2014. On its initial publication she faced severe difficulties and her accounts were hacked, after which Hajra Khan had to remain silent for 9 years. Progress became possible only when the author finally found a publishing house willing to give her writing a chance, so that she could take her story to a wider world. Some changes were made in the new edition, and the identities of several characters in the first version were concealed. The journey from the self-published first digital version to a formally published book is not only Hajra Khan's triumph but an inspiration for all writers entering the incredible world of publishing.
Hajra Khan's "Where Opium Grows" looks into personal memories and cultural glimpses of Pakistan, particularly the early 1990s. At the start of the novel, the author recalls her meetings with her mother's young, unmarried sisters, who were passionate fans of Imran Khan, the cricketer-turned-politician. She marks her visits with stories, such as that of one aunt whose proof of her love for Imran Khan was that she kept a poster of him in a polo-neck T-shirt and glasses. According to the young author, Imran Khan seemed to her an ordinary man, whereas in her aunt's eyes he was, like a film star, her heartbeat.
The book captures an important moment in the history of Pakistan cricket, the 1992 World Cup victory. It was an occasion of pride and joy for cricket fans in Pakistan, and the victory raised Imran Khan, in their eyes, to the status of a saviour. The author describes the excitement in her family and across the country. People were celebrating, and some even kissed the television screen every time Imran Khan appeared.
اِسی پسِ منظر میں مصنفہ نے بطور ایک نوجوان لڑکی اپنے تجربات بیان کیے ہیں، وہ عمران خان کیلئے ملک گیر پذیرائی کا اپنے آئیڈیل ”جوئے ایلیٹ“ کے ساتھ موازنہ کرتی ہیں، اس کے بعد تحریر مزید ذاتی نوعیت کی جانب بڑھتی ہے اور کرکٹ ٹیم کی وطن واپسی پر کوئٹہ میں ہونے والی تقریب کا ذکر ہوتا ہے جہاں مصنفہ مالی مجبوریوں کے باوجود اپنے خاندان کو قائل کرتی ہیں کہ وہ اپنی اس کزن کے ساتھ تقریب میں شرکت کریں گی جس کو عمران خان کا دستخط شدہ بیٹ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
جہاں افیون اُگتی ہے میں ہاجرہ خان نے پاکستان کرکٹ ٹیم بالخصوص کپتان عمران خان کی کامیابی پر اہم تقریب کے حوالہ سے اپنے تجربے کو واضح طور پر بیان کیا، ایک بڑے ہال میں منعقد ہونے والی اس پروقار تقریب میں شہر کی اشرافیہ نے پورے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی اور جیسے ہی کھلاڑی ہال میں داخل ہوئے، روایتی لباس پہنے عمران خان توجہ کا مرکز بن گئے اور مداحوں نے ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔
تہوار جیسے ماحول کے باوجود عمران خان نے کھلاڑیوں میں میزبان شہر کیلئے بیزاری کے واضح احساسات کا مشاہدہ کیا اور کوئٹہ کی تقریب کو دوسرے مقامات کی نسبت کم دلکش پایا، یہ جذبات عمران خان کے تاثرات میں نمایاں تھے جس کے باعث انہوں نے تقریب کے جلد اختتام کی خواہش کا اظہار کیا، آکسفورڈ سے فارغ التحصیل عمران خان اپنے ہم عصروں میں نمایاں تھے اور ہر طرف سے تعریفیں سمیٹ رہے تھے، اس دوران ہاجرہ خان کی توجہ میں کوئی کمی نہیں آئی اور انہوں نے عمران خان کی جانب سے اپنے ساتھیوں پر حاوی ہونے اور انہیں پسِ منظر میں دھندلا کرنے کی کوشش کا بھی مشاہدہ کیا۔
اُس شام کی سب سے خاص بات ہاجرہ خان کی کزن کو عمران خان کی طرف سے دستخط شدہ بیٹ کی پیشکش تھی جو کہ اعصابی توقعات سے بھرپور لمحہ تھا۔ رسمی معاملات اور تقاریر کے بعد تقریب کا ماحول غیر رسمی ہو گیا جس میں شرکاء کو کھلاڑیوں سے بات چیت کا موقع ملا اور اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہاجرہ خان ہجوم میں سے گزرتی ہوئی عمران خان تک پہنچیں جو اُس وقت وزیرِ اعلٰی سے گفتگو میں مصروف تھے، ہاجرہ خان نے جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران خان سے فوٹو گراف کا مطالبہ کیا مگر عمران خان کی طرف سے استرداد نے انہیں احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیا۔
ہاجرہ خان ”جہاں افیون اُگتی ہے“ میں کرکٹ سے سیاست میں قدم رکھنے والے عمران خان کے ساتھ بعد میں ایک سماجی تقریب میں دلچسپ تصادم کا بھی ذکر کرتی ہیں، پارٹی میں نامور شخصیات موجود تھیں جبکہ مخصوص طرزِ عمل اور اپنے گرد موجود لوگوں پر گہرے اثرات کے باعث ایک الگ پہچان رکھنے والے عمران خان توجہ کا مرکز بنے ریے لیکن اس کے باوجود عمران خان الگ تھلگ سے نظر آئے جبکہ یہ صورتحال ہاجرہ خان سے مخفی نہ تھی۔
ہاجرہ خان تقریب میں مہمانوں کے ساتھ گھل مل گئیں مگر اس دوران بھی وہ عمران خان کے طرزِ عمل کا مشاہدہ کرتی رہیں جس میں عمران خان کا سگریٹ نوشی و شراب سے پرہیز اور دوسروں کا عمران خان کے ساتھ احترام سے بھرپور انداز میں بات چیت کرنا شامل تھا، وہ ابتدائی طور پر عمران خان کی جانب سے عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ان سے اپنا تعارف کروانے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہی تھیں تاہم پھر انہوں نے عمران خان کے ساتھ جرأت مندانہ گفتگو کا فیصلہ کیا، ایک مختصر سی گفتگو نے ہاجرہ خان پر عمران خان کا ایک گہرا تاثر چھوڑا۔
جہاں افیون اُگتی ہے میں ہاجرہ خان اُس پارٹی کے دوران عمران خان کے ساتھ ہونے والی ابتدائی ملاقات کے بعد سابق کرکٹر کے ساتھ اپنی غیر متوقع اور بڑھتی ہوئی بات چیت کو بیان کرتی ہیں، انہوں نے پارٹی کے بعد اگلی صبح عمران خان کو ایک ٹیکسٹ میسیج بھیجا جس سے گفتگو شروع ہوئی اور پھر عمران خان نے انہیں لاہور میں اپنے کینسر ہاسپٹل کے سالانہ گالا میں مدعو کیا جس کو پرجوش اور گھبرائی ہوئی ہاجرہ خان نے قبول کر لیا۔
گالا میں ہاجرہ خان کا تجربہ حیرت اور گھبراہٹ سے بھرپور رہا، انہوں نے عمران خان کی کمانڈنگ موجودگی اور دوسروں کی جانب سے عمران خان کو ملنے والی پذیرائی کا مشاہدہ کیا، تقریب تیزی سے اختتام پذیر ہوئی اور ہاجرہ خان ایک کار میں عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ایک نجی نوعیت کی محفل میں شرکت کیلئے روانہ ہو گئیں۔
ہاجرہ خان ”جہاں افیون اُگتی ہے“ میں عمران خان کے ساتھ اپنے پیچیدہ اور کثیر الجہتی تعلقات کو بیان کرتی ہیں، اگلی صبح انہیں عمران خان کی جانب سے ایک ٹیکسٹ میسیج موصول ہوتا ہے جس میں عمران خان ایک تعلق برقرار رکھنے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔
ہاجرہ خان اس کے بعد عمران خان کی طرف سے اسلام آباد کے بنی گالا میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی دعوت کا ذکر کرتی ہیں، یہ ملاقات دونوں کے درمیان دوستی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوتی ہے جس کے دوران عمران خان مصنفہ کو اپنی نجی دنیا کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں، فارم ہاؤس کی پرسکون اور خوبصورت ترتیب اس ملاقات کے دوران عمران خان کے رویے سے بالکل برعکس تھی، ہاجرہ خان حیرت میں مبتلا تھیں کیونکہ عمران خان مسلسل منشیات کا استعمال کر رہے تھے اور بےباکی کے ساتھ کسی پردہ کے بغیر مختلف موضوعات پر بات کر رہے تھے جن میں عمران خان کے ماضی کے تعلقات، ان کی شادی اور سماجی مسائل شامل تھے۔
اِس گفتگو کے دوران عمران خان کی شخصیت کے مختلف پہلو ظاہر ہوتے رہے، وہ باپ اور فلسفیانہ ہوتے ہوئے کچھ رویوں اور طرزِ زندگی کیلئے حقارت کے اظہار میں جھولتے رہے۔ ہاجرہ خان نے خود کو متضاد شخصیات کے درمیان محسوس کیا، وہ عوامی کردار کے پیچھے چھپے ایک الگ آدمی کو دیکھ رہی تھیں۔ عمران خان نے کھیل سے ریٹائرمنٹ، اپنے بچوں کے ساتھ کنکشن اور ناکام شادی کے متعلق اپنی جدوجہد کو بیان کیا اور یہ صورتحال شہرت کے بعد ایک نئی زندگی اور نئے مرحلوں کے چیلنجز سے دوچار آدمی کی تصویر پیش کر رہی تھی۔
ہاجرہ خان جیسے جیسے عمران خان اور ان کے دوستوں کے ساتھ مزید وقت گزارتی ہیں، وہ عمران خان کی شخصیت کے ایک ایسے پہلو کا مشاہدہ کرتی ہیں جو انہیں پریشان کن محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا ماحول جہاں منشیات کا بےدریغ استعمال ہوتا ہے، جوان عورتیں موجود رہتی ہیں اور وہ سب لوگ اس غیر معمولی ماحول میں پرسکون محسوس کرتے ہیں، یہ سب دیکھ کر ہاجرہ خان خود کو بےچین محسوس کرتی ہیں اور ان کے ذہن میں ان کے گرد موجود لوگوں کے انتخاب اور اقدار کے متعلق سوالات جنم لیتے ہیں۔
جہاں افیون اُگتی ہے میں ہاجرہ خان نے عمران خان کے ساتھ اپنے پیچیدہ تعلقات کو گہرائی میں جا کر بیان کرتے ہوئے عمران خان کی شخصیت، دونوں کے درمیان گفتگو اور دوستی کے متعلق مزید انکشافات کیے ہیں، وہ عمران خان کے طرزِ زندگی اور عادات کے ساتھ اپنی بڑھتی ہوئی واقفیت کو بیان کرتی ہیں جن میں مہمان نوازی کے دوران ان کا غیر جانبدارانہ رویہ اور ان کے کھانے (بالخصوص فرائیڈ چکن) کی عادات شامل ہیں۔
عمران خان اکثر موڈی رویہ رکھتے ہوئے فاصلے پر رہتے تھے تاہم ہاجرہ خان نے صبح کے اوقات میں عمران خان کے ساتھ حقیقی قربت اور تعلق کے لمحات کا تجربہ کیا، وہ عمران خان کی اس صلاحیت کی بھی داد دیتی ہیں کہ وہ ایک ساتھ گزرنے والے وقت میں ہاجرہ خان پر بھرپور توجہ دیتے تھے جس سے ہاجرہ خان کے اندر اپنی قدر اور اہمیت کا احساس پیدا ہوتا تھا۔ دونوں کے مابین ہونے والی گفتگو میں ذاتی تجربات سے لے کر وسیع سماجی مسائل موضوع رہے جن میں پاکستان کے اندر خواتین اور اقلیتوں کے ساتھ سلوک اور طالبان کا کردار شامل تھے، اس گفتگو میں کئی بار اختلافِ رائے بھی ہوتا تھا اور ہاجرہ خان اکثر ایسے مسائل بالخصوص انتہا پسندی اور دہشتگردی کے متعلق عمران خان کے نقطۂ نظر کو چیلنج کرتی رہیں۔
ہاجرہ خان نے تعلقات، جنسیت اور ماضی کے متعلق عمران خان کے رویوں کو بھی بیان کیا ہے، وہ عمران خان کی طرف سے پچھلی شادی کے متعلق تبصرے اور دولت و حیثیت کے متعلق ان کی رائے کو بھی نوٹ کرتی ہیں جو ہاجرہ خان کو موزوں لیکن عمران خان کے موجودہ طرزِ زندگی سے برعکس نظر آتے ہیں۔ وہ عمران خان کے دوسروں کے ساتھ تعاملات، خواتین کی جانب ان کے رویہ اور ذاتی خیالات کا بھی مشاہدہ کرتی ہیں اور یہ صورتحال ایک ایسے آدمی کی تصویر پیش کرتی ہے جو عوامی پہچان اور ذاتی شناخت کے درمیان جکڑا ہوا ہے۔
دونوں کے مابین دوستی کے دوران ان کی آپسی گفتگو مزید قربت اور ذاتی نوعیت اختیار کرتی ہے جبکہ عمران خان اپنے ماضی کے تعلقات، ازدواجی جدوجہد اور جنسی مایوسیوں کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہیں، عمران خان کھل کر اپنے خیالات اور تجربات کو بیان کرتے ہیں جس سے ان کا ایک ایسا پہلو سامنے آتا ہے جو تضادات اور پیچیدگیوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہاجرہ خان ان انکشافات کو سنتے ہوئے عمران خان کی عوامی پہچان کو اس نجی شخص کے ساتھ ملانے کی کوشش کرتی ہیں جو ان کے سامنے مباشرت کی تفصیلات بیان کر رہا ہوتا ہے۔
ہاجرہ خان شادی کے متعلق عمران خان کے خیالات کو بیان کرتی ہیں، عمران خان کہتے ہیں کہ شادی ان کیلئے کرکٹ کیریئر، انسان دوست سرگرمیوں اور یہاں تک کہ سیاست سے بھی زیادہ مشکل کام ہے، عمران خان اعتراف کرتے ہیں کہ وہ شادی کے دوران جنسی طور پر مایوس رہے اور اسی وجہ سے وہ دیگر خواتین حتیٰ کہ گھریلو ملازمہ کے بارے میں بھی سوچنے پر مجبور ہو گئے۔
عمران خان نے طلاق کے بعد اپنی سابقہ بیوی کے ساتھ انکاؤنٹر کا ذکر کرتے ہوئے تعلقات کی پیچیدگیوں اور خواتین کے متعلق اپنے رویہ کو بیان کیا، عمران خان بچوں پر اپنی طلاق کے اثرات اور اپنے اور اپنی سابقہ بیوی کیلئے جذباتی مضمرات پر غور کرنے کی بجائے اس معاملہ کو انا اور جنسی فتح کے طور پر بیان کر رہے تھے۔
ہاجرہ خان اپنی کتاب میں عمران خان کے ماضی کو بیان کرتی ہیں جس میں کراچی کی ایک طوائف کے ساتھ ان کا پہلا جنسی مِلاپ اور جنسی کارکنان اور دیگر خواتین کے بارے میں ان کے خیالات شامل ہیں، وہ عمران خان کے نظریات کو چیلنج کرتی ہیں اور خواتین کو جنسی کارکن بننے کیلئے مجبور کر دینے والے حالات کے متعلق ہمدردانہ خیالات کیلئے قائل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس باب میں عمران خان کی ذاتی ترجیحات اور ظاہری جسمانی ساخت کے متعلق ان کے تبصروں کو بھی بیان کیا گیا ہے جس کے مطابق مُنحَنی (خمیدہ) جسم والی خواتین عمران خان کی ترجیح رہی ہیں۔
ہاجرہ خان نے اِس دوستی کے دوران ایک موقع پر عمران خان سے کیلیفورنیا کی خاتون ”سیٹا وائٹ“ کے ساتھ شادی کے بغیر پیدا ہونے والی عمران خان کی پہلی اولاد “ٹیریان وائٹ” کے متعلق دریافت کیا، عمران خان نے ”ٹیریان“ کے ساتھ اپنے بڑھتے ہوئے تعلق کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیریان گرمیوں میں پاکستان آتی ہے اور زمان پارک میں ان کی بہن کے ساتھ رہتی ہے۔ ٹیریان کے جوانی کی طرف بڑھنے کے متعلق عمران خان کی باتیں ان کے مابین بڑھتے تعلقات اور ماضی کی پیچیدگیوں کے متعلق ممکنہ مفاہمت کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ہاجرہ خان ایک موقع پر بنی گالا میں عمران خان کی رہائش پر ان کے ساتھ ایک پریشان کن ملاقات کو خاص طور پر یاد کرتی ہیں، وہ بتاتی ہیں کہ یہ نومبر کی ایک سرد رات تھی اور عمران خان کوکین کا بےتحاشا استعمال کر رہے تھے اور یہ صورتحال غیر معمولی طور پر عمران خان کے بہت زیادہ پریشان اور بےچین رویہ کو ظاہر کر رہی تھی، ہاجرہ خان نے مشاہدہ کیا کہ عمران خان تیزی کے ساتھ اپنی مایوسی اور بےچینی سے نکلنے کیلئے منشیات استعمال کر رہے تھے جبکہ عمران خان نے ہاجرہ کو بھی کوکین کی پیشکش کی تاہم ہاجرہ کے انکار پر عمران خان نے طنزیہ انداز میں ہاجرہ کے سخت ہونے کے متعلق تبصرہ شروع کر دیا۔
عمران خان نے ہاجرہ کو بتایا کہ وہ سکول کی نوجوان لڑکیوں کے متعلق جنونی تصورات رکھتے ہیں اور عمران خان بار بار اس بات کو یاد کرتے رہے کہ انہوں نے بورڈنگ سکول میں لڑکوں کے ساتھ کس طرح تجربہ کیا تھا جو کہ ہمیشہ ان کی یادداشت میں رہا ہے، عمران خان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ وہ 12 سے 14 برس کی عمر کے لڑکوں کے بارے میں بھی ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔
جہاں افیون اُگتی ہے میں مصنفہ ہاجرہ خان نے ایک ایسا واقعہ بھی بیان کیا ہے جس میں ایک بیوہ خاتون نے انہیں بتایا کہ وہ عمران خان کی ایک “لیبراڈور کتیا” کے ساتھ مباشرت کی عینی شاہد ہیں۔
مصنفہ مزید بتاتی ہیں کہ عمران خان کس طرح بنی گالا میں اپنی وسیع تر جائیداد کے بارے میں بات کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جو کہ اسلام آباد کے ایک متموّل علاقہ میں واقع ہے اور بہت قیمتی ہے، عمران خان نے بتایا کہ وہ ایسی جگہ پر اس طرح کی طرزِ زندگی کا کتنا شوق رکھتے ہیں۔
اِس کے برعکس ہاجرہ خان زمان پارک میں عمران خان کے خستہ حال خاندانی گھر میں اپنے پہلے وزٹ کو یاد کرتی ہیں۔ وہاں فرش ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا، ٹائلز داغدار اور کریکنگ پینٹ جبکہ فرنیچر بھی خراب ہو چکا تھا۔ گھر کی حالت اس قدر خراب تھی کہ ہاجرہ کو داغدار ٹائلز اور ٹوائلٹ باؤل کی وجہ سے ایک لڑکے سے یہ درخواست کرنا پڑی کہ وہ باتھ روم کو کسی اچھے کلینر سے صاف کرے۔ یہ موازنہ دونوں گھروں میں معیارِ زندگی کے نمایاں فرق کی وضاحت کرتا ہے اور اس سے عمران خان کے حالات یا وقت کے ساتھ ترجیحات میں تبدیلی بھی واضح ہوتی ہے۔
باب کے اِس حصہ میں ہاجرہ خان بتاتی ہیں کہ کس طرح عمران خان منشیات استعمال کرتے ہوئے اپنے ماضی بالخصوص اپنی جوانی کے جنسی تعلقات کی یادیں تازہ کرتے ہیں، عمران خان ایسی خوفناک کہانیاں بیان کرتے ہیں جو کم تجربہ کار ہاجرہ کے نقطۂ نظر کیلئے بہت پیچیدہ ہیں، ان میں ایک سنہرے بالوں والی انگلش ماڈل اور 1980 کی ایک سیاہ فام پاپ ڈسکو ڈیوا کے ساتھ حسین یادیں شامل ہیں۔
اِس کے بعد عمران خان ان دوسری خواتین کے بارے میں بات کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں جن کو وہ جانتے ہیں، ان میں برطانوی سوشلائیٹ ”گسلین میکسویل“ اور شہزادی ”ڈیانا“ شامل ہیں۔ عمران خان نے ایک امیر انڈین دوست کے سماجی حلقے میں تعارف کیلئے ”ڈیانا“ کا ذکر تو کیا مگر ”ٹیریان“ کی والدہ (سیٹا وائٹ) کے متعلق بات کرنے سے گریز کیا کیونکہ وہ اس موضوع پر بات کرنے میں بےچینی محسوس کرتے ہیں۔ ہاجرہ اس تمام گفتگو کے دوران عمران خان کے رویے کا مشاہدہ کرتی ہیں، ان کی کہانیاں سنتی ہیں اور خود کو عمران خان کی زندگی کے پراسرار اور نجی پہلوؤں کی طرف متوجہ رکھتی ہیں۔
یہ جائزہ مکمل طور پر ہاجرہ خان کی شائع ہونے والی کتاب ”سروائیونگ پاکستان ایز اے وومن، این ایکٹریس اینڈ نوئنگ عمران خان“ کے مواد پر مبنی ہے جبکہ تھرسڈے ٹائمز کسی بھی لحاظ سے کتاب کے مواد کیلئے ذمہ دار نہیں ہے۔
ہاجرہ خان کی نئی کتاب ”ویئر دی اوپئم گروز: سروائیونگ پاکستان ایز اے وومن، این ایکٹریس اینڈ نوئنگ عمران خان” کا دوسرا ایڈیشن منظرِ عام پر آ چکا ہے۔



