spot_img

Columns

News

عید سے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کردی گئی

وزیراعظم شہباز شریف نے عید پر پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے 20 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 33 پیسے کمی کا اعلان کیا ہے۔ نئی قیمتیں آج رات 12 بجے سے نافذ ہوں گی۔ حکومت نے یکم جون کو بھی قیمتیں کم کی تھیں، جس سے عوام کو مجموعی طور پر 35 روپے کا ریلیف ملا ہے۔

عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا خاتمہ جلد ہونے والا ہے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت زیادہ ہے، یہ سلسلہ مولوی تمیز الدین کیس سے شروع ہوا، عدلیہ اس مداخلت کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے اور جلد اس کا خاتمہ ہونے والا ہے، ایک جج کو کسی کا ڈر نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ دنیا کی بہترین کارکردگی والی مارکیٹ بن گئی, امریکی جریدہ بلومبرگ

پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے بہترین کارکردگی کی بنا پر ڈالر میں دنیا کی ٹاپ پرفارمر سٹاک مارکیٹ کا اعزاز حاصل کر لیا ہے، جس میں گزشتہ ایک برس کے دوران تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافہ کو ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے اور حکومتی اقدامات کی بدولت مستقبل میں مزید بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔

وفاقی بجٹ کے بعد سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 76 ہزار کی نفسیاتی حد عبور

وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے کے بعد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 76 ہزار کی نفسیاتی حد عبور ہو گئی، آج ہنڈرڈ انڈیکس میں مجموعی طور پر 3 ہزار 410 پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔

وفاقی بجٹ کے بعد سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 75 ہزار کی نفسیاتی حد عبور

وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے کے بعد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 75 ہزار کی نفسیاتی حد عبور ہو گئی، آج ہنڈرڈ انڈیکس میں اب تک 3 ہزار سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے۔
spot_img
Analysisتھرسڈے ٹائمز اردو ریویو؛ ”جہاں افیون اُگتی ہے“ عمران خان کی زندگی...

تھرسڈے ٹائمز اردو ریویو؛ ”جہاں افیون اُگتی ہے“ عمران خان کی زندگی کے حیرت انگیز رازوں سے پردہ اٹھاتی کتاب

تھرسڈے ٹائمز اردو ریویو؛ ہاجرہ خان کی کتاب "جہاں افیون اُگتی ہے" عمران خان کی زندگی کے حیرت انگیز رازوں بشمول منشیات کے استعمال، پلے بوائے طرزِ زندگی اور جنونی تصورات سے پردہ اٹھاتی ہے۔

spot_img

  اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — ہاجرہ خان پانیزئی — کوئٹہ میں پیدا ہونے والی ایک اداکارہ اور مصنفہ ہیں، انہوں نے جمعہ کے روز اپنی کتاب ”جہاں افیون اُگتی ہے“ کی نقاب کشائی کی ہے جبکہ ہاجرہ خان کے مطابق یہ ان کی پہلی سینسرڈ کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے۔ اِس کتاب کے آغاز سے ہی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ تہلکہ خیز انکشافات کا ایسا مجموعہ ہے جو قارئین کے خیالات کی بنیادوں کو ہلا دینے کیلئے کافی ہے۔

جہاں افیون اُگتی ہے — میں ہاجرہ خان کی جانب سے عمران خان کے کردار اور عادات و اطوار کے متعلق حیرت انگیز باتیں بیان کی گئی ہیں، ان میں منشیات بالخصوص کوکین کا بےدریغ استعمال، اپنی بیٹی ٹیریان وائٹ کے متعلق خیالات، انگلش ماڈل اور سیاہ فام پاپ ڈسکو ڈیوا سمیت متعدد خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات، خواتین کی جسمانی بناوٹ کے متعلق تبصرے، بورڈنگ سکول میں لڑکوں کے ساتھ ہونے والا تجربہ اور سکول کی جوان لڑکیوں کے متعلق جنونی تصورات شامل ہیں۔

اِس کتاب ”جہاں افیون اُگتی ہے“ کی اشاعت کیلئے مصنفہ ”ہاجرہ خان“ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ابتدائی طور پر لندن میں ایک ایجنسی کی جانب سے پانچ ماہ کے بعد تعاون سے انکار پر انہیں ایک بڑا دھچکا لگا جس کے بعد وہ اپنا یہ ناول واشنگٹن ڈی سی میں بذریعہ “کنڈل“ خود شائع کرنے پر مجبور ہوئیں جبکہ ہاجرہ خان نے اس عمل کو نفسیاتی طور پر باعثِ سکون لیکن نامکمل قرار دیا۔

یہ ایڈیشن 2014 میں بذریعہ کنڈل شائع ہونے والے اصل ورژن کا دوسرا جنم ہے جبکہ ابتدائی اشاعت میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا ہڑا، ان کے اکاؤنٹس کو ہیک کیا گیا جس کے بعد ہاجرہ خان کو 9 سالوں پر محیط طویل خاموشی اختیار کرنا پڑی، پیش رفت تب ممکن ہوئی جب بالآخر مصنفہ کو اپنی داستان ایک وسیع تر دنیا تک پہنچانے کیلئے ایک ایسا اشاعتی ادارہ ملا جو ان کی تحریر کو موقع دینے کیلئے راضی ہو گیا۔ نئے ایڈیشن میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں اور پہلے ورژن میں شامل کئی کرداروں کی شناخت کو چھپایا گیا، اپنے طور پر شائع کیے گئے پہلے ڈیجیٹل ورژن سے باقاعدہ رسمی طور پر شائع ہونے والی کتاب تک کا سفر صرف ہاجرہ خان کی ہی فتح نہیں بلکہ اشاعت کی ناقابلِ یقین دنیا میں قدم رکھنے والے تمام مصنفین کیلئے تحریک کا باعث ہے۔

ہاجرہ خان کی ”جہاں افیون اُگتی ہے“ ذاتی یادوں اور پاکستان کی ثقافتی جھلکیوں بالخصوص 1990 کی دہائی کے اوائل کی جانب جھانکتی ہے، ناول کے آغاز میں مصنفہ اپنی والدہ کی ان جوان اور غیر شادی شدہ بہنوں سے اپنی ملاقاتوں کو یاد کرتی ہیں جو کرکٹر سے سیاستدان بننے والے عمران خان کی پرجوش مداح تھیں، مصنفہ اپنے ان دوروں کو کہانیوں سے نشان زد کرتی ہیں جیسے کہ ایک خالہ کی عمران خان سے محبت کا ثبوت یہ تھا کہ انہوں نے پولو گلے والی ٹی شرٹ میں ملبوس اور عینک پہنے ہوئے عمران خان کی تصویر والا پوسٹر رکھا ہوا تھا، نوجوان مصنفہ کے مطابق انہیں عمران خان ایک عام سا آدمی نظر آیا جبکہ ان کی خالہ کے نزدیک عمران خان کسی فلمی ستارے کی طرح ان کے دل کی دھڑکن تھا۔

اِس کتاب میں پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے ایک اہم لمحہ، 1992 کے ورلڈ کپ کی فتح، کو محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ پاکستان میں کرکٹ شائقین کیلئے فخر اور خوشی کا موقع تھا، اِس فتح نے عمران خان کو کرکٹ شائقین کے نزدیک ایک نجات دہندہ کے درجہ تک پہنچا دیا تھا۔ مصنفہ اپنے خاندان اور ملک بھر میں جوش و خروش کو بیان کرتی ہیں، لوگ جشن منا رہے تھے جبکہ کچھ تو ایسے بھی تھے کہ وہ ہر بار عمران خان کے نظر آنے پر ٹیلی ویژن کی سکرین کو چومتے تھے۔

اِسی پسِ منظر میں مصنفہ نے بطور ایک نوجوان لڑکی اپنے تجربات بیان کیے ہیں، وہ عمران خان کیلئے ملک گیر پذیرائی کا اپنے آئیڈیل ”جوئے ایلیٹ“ کے ساتھ موازنہ کرتی ہیں، اس کے بعد تحریر مزید ذاتی نوعیت کی جانب بڑھتی ہے اور کرکٹ ٹیم کی وطن واپسی پر کوئٹہ میں ہونے والی تقریب کا ذکر ہوتا ہے جہاں مصنفہ مالی مجبوریوں کے باوجود اپنے خاندان کو قائل کرتی ہیں کہ وہ اپنی اس کزن کے ساتھ تقریب میں شرکت کریں گی جس کو عمران خان کا دستخط شدہ بیٹ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

جہاں افیون اُگتی ہے میں ہاجرہ خان نے پاکستان کرکٹ ٹیم بالخصوص کپتان عمران خان کی کامیابی پر اہم تقریب کے حوالہ سے اپنے تجربے کو واضح طور پر بیان کیا، ایک بڑے ہال میں منعقد ہونے والی اس پروقار تقریب میں شہر کی اشرافیہ نے پورے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی اور جیسے ہی کھلاڑی ہال میں داخل ہوئے، روایتی لباس پہنے عمران خان توجہ کا مرکز بن گئے اور مداحوں نے ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔

تہوار جیسے ماحول کے باوجود عمران خان نے کھلاڑیوں میں میزبان شہر کیلئے بیزاری کے واضح احساسات کا مشاہدہ کیا اور کوئٹہ کی تقریب کو دوسرے مقامات کی نسبت کم دلکش پایا، یہ جذبات عمران خان کے تاثرات میں نمایاں تھے جس کے باعث انہوں نے تقریب کے جلد اختتام کی خواہش کا اظہار کیا، آکسفورڈ سے فارغ التحصیل عمران خان اپنے ہم عصروں میں نمایاں تھے اور ہر طرف سے تعریفیں سمیٹ رہے تھے، اس دوران ہاجرہ خان کی توجہ میں کوئی کمی نہیں آئی اور انہوں نے عمران خان کی جانب سے اپنے ساتھیوں پر حاوی ہونے اور انہیں پسِ منظر میں دھندلا کرنے کی کوشش کا بھی مشاہدہ کیا۔

اُس شام کی سب سے خاص بات ہاجرہ خان کی کزن کو عمران خان کی طرف سے دستخط شدہ بیٹ کی پیشکش تھی جو کہ اعصابی توقعات سے بھرپور لمحہ تھا۔ رسمی معاملات اور تقاریر کے بعد تقریب کا ماحول غیر رسمی ہو گیا جس میں شرکاء کو کھلاڑیوں سے بات چیت کا موقع ملا اور اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہاجرہ خان ہجوم میں سے گزرتی ہوئی عمران خان تک پہنچیں جو اُس وقت وزیرِ اعلٰی سے گفتگو میں مصروف تھے، ہاجرہ خان نے جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران خان سے فوٹو گراف کا مطالبہ کیا مگر عمران خان کی طرف سے استرداد نے انہیں احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیا۔

ہاجرہ خان ”جہاں افیون اُگتی ہے“ میں کرکٹ سے سیاست میں قدم رکھنے والے عمران خان کے ساتھ بعد میں ایک سماجی تقریب میں دلچسپ تصادم کا بھی ذکر کرتی ہیں، پارٹی میں نامور شخصیات موجود تھیں جبکہ مخصوص طرزِ عمل اور اپنے گرد موجود لوگوں پر گہرے اثرات کے باعث ایک الگ پہچان رکھنے والے عمران خان توجہ کا مرکز بنے ریے لیکن اس کے باوجود عمران خان الگ تھلگ سے نظر آئے جبکہ یہ صورتحال ہاجرہ خان سے مخفی نہ تھی۔

ہاجرہ خان تقریب میں مہمانوں کے ساتھ گھل مل گئیں مگر اس دوران بھی وہ عمران خان کے طرزِ عمل کا مشاہدہ کرتی رہیں جس میں عمران خان کا سگریٹ نوشی و شراب سے پرہیز اور دوسروں کا عمران خان کے ساتھ احترام سے بھرپور انداز میں بات چیت کرنا شامل تھا، وہ ابتدائی طور پر عمران خان کی جانب سے عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ان سے اپنا تعارف کروانے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہی تھیں تاہم پھر انہوں نے عمران خان کے ساتھ جرأت مندانہ گفتگو کا فیصلہ کیا، ایک مختصر سی گفتگو نے ہاجرہ خان پر عمران خان کا ایک گہرا تاثر چھوڑا۔

جہاں افیون اُگتی ہے میں ہاجرہ خان اُس پارٹی کے دوران عمران خان کے ساتھ ہونے والی ابتدائی ملاقات کے بعد سابق کرکٹر کے ساتھ اپنی غیر متوقع اور بڑھتی ہوئی بات چیت کو بیان کرتی ہیں، انہوں نے پارٹی کے بعد اگلی صبح عمران خان کو ایک ٹیکسٹ میسیج بھیجا جس سے گفتگو شروع ہوئی اور پھر عمران خان نے انہیں لاہور میں اپنے کینسر ہاسپٹل کے سالانہ گالا میں مدعو کیا جس کو پرجوش اور گھبرائی ہوئی ہاجرہ خان نے قبول کر لیا۔

گالا میں ہاجرہ خان کا تجربہ حیرت اور گھبراہٹ سے بھرپور رہا، انہوں نے عمران خان کی کمانڈنگ موجودگی اور دوسروں کی جانب سے عمران خان کو ملنے والی پذیرائی کا مشاہدہ کیا، تقریب تیزی سے اختتام پذیر ہوئی اور ہاجرہ خان ایک کار میں عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ایک نجی نوعیت کی محفل میں شرکت کیلئے روانہ ہو گئیں۔

ہاجرہ خان ”جہاں افیون اُگتی ہے“ میں عمران خان کے ساتھ اپنے پیچیدہ اور کثیر الجہتی تعلقات کو بیان کرتی ہیں، اگلی صبح انہیں عمران خان کی جانب سے ایک ٹیکسٹ میسیج موصول ہوتا ہے جس میں عمران خان ایک تعلق برقرار رکھنے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔

ہاجرہ خان اس کے بعد عمران خان کی طرف سے اسلام آباد کے بنی گالا میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی دعوت کا ذکر کرتی ہیں، یہ ملاقات دونوں کے درمیان دوستی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوتی ہے جس کے دوران عمران خان مصنفہ کو اپنی نجی دنیا کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں، فارم ہاؤس کی پرسکون اور خوبصورت ترتیب اس ملاقات کے دوران عمران خان کے رویے سے بالکل برعکس تھی، ہاجرہ خان حیرت میں مبتلا تھیں کیونکہ عمران خان مسلسل منشیات کا استعمال کر رہے تھے اور بےباکی کے ساتھ کسی پردہ کے بغیر مختلف موضوعات پر بات کر رہے تھے جن میں عمران خان کے ماضی کے تعلقات، ان کی شادی اور سماجی مسائل شامل تھے۔

اِس گفتگو کے دوران عمران خان کی شخصیت کے مختلف پہلو ظاہر ہوتے رہے، وہ باپ اور فلسفیانہ ہوتے ہوئے کچھ رویوں اور طرزِ زندگی کیلئے حقارت کے اظہار میں جھولتے رہے۔ ہاجرہ خان نے خود کو متضاد شخصیات کے درمیان محسوس کیا، وہ عوامی کردار کے پیچھے چھپے ایک الگ آدمی کو دیکھ رہی تھیں۔ عمران خان نے کھیل سے ریٹائرمنٹ، اپنے بچوں کے ساتھ کنکشن اور ناکام شادی کے متعلق اپنی جدوجہد کو بیان کیا اور یہ صورتحال شہرت کے بعد ایک نئی زندگی اور نئے مرحلوں کے چیلنجز سے دوچار آدمی کی تصویر پیش کر رہی تھی۔

ہاجرہ خان جیسے جیسے عمران خان اور ان کے دوستوں کے ساتھ مزید وقت گزارتی ہیں، وہ عمران خان کی شخصیت کے ایک ایسے پہلو کا مشاہدہ کرتی ہیں جو انہیں پریشان کن محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا ماحول جہاں منشیات کا بےدریغ استعمال ہوتا ہے، جوان عورتیں موجود رہتی ہیں اور وہ سب لوگ اس غیر معمولی ماحول میں پرسکون محسوس کرتے ہیں، یہ سب دیکھ کر ہاجرہ خان خود کو بےچین محسوس کرتی ہیں اور ان کے ذہن میں ان کے گرد موجود لوگوں کے انتخاب اور اقدار کے متعلق سوالات جنم لیتے ہیں۔

جہاں افیون اُگتی ہے میں ہاجرہ خان نے عمران خان کے ساتھ اپنے پیچیدہ تعلقات کو گہرائی میں جا کر بیان کرتے ہوئے عمران خان کی شخصیت، دونوں کے درمیان گفتگو اور دوستی کے متعلق مزید انکشافات کیے ہیں، وہ عمران خان کے طرزِ زندگی اور عادات کے ساتھ اپنی بڑھتی ہوئی واقفیت کو بیان کرتی ہیں جن میں مہمان نوازی کے دوران ان کا غیر جانبدارانہ رویہ اور ان کے کھانے (بالخصوص فرائیڈ چکن) کی عادات شامل ہیں۔

عمران خان اکثر موڈی رویہ رکھتے ہوئے فاصلے پر رہتے تھے تاہم ہاجرہ خان نے صبح کے اوقات میں عمران خان کے ساتھ حقیقی قربت اور تعلق کے لمحات کا تجربہ کیا، وہ عمران خان کی اس صلاحیت کی بھی داد دیتی ہیں کہ وہ ایک ساتھ گزرنے والے وقت میں ہاجرہ خان پر بھرپور توجہ دیتے تھے جس سے ہاجرہ خان کے اندر اپنی قدر اور اہمیت کا احساس پیدا ہوتا تھا۔ دونوں کے مابین ہونے والی گفتگو میں ذاتی تجربات سے لے کر وسیع سماجی مسائل موضوع رہے جن میں پاکستان کے اندر خواتین اور اقلیتوں کے ساتھ سلوک اور طالبان کا کردار شامل تھے، اس گفتگو میں کئی بار اختلافِ رائے بھی ہوتا تھا اور ہاجرہ خان اکثر ایسے مسائل بالخصوص انتہا پسندی اور دہشتگردی کے متعلق عمران خان کے نقطۂ نظر کو چیلنج کرتی رہیں۔

ہاجرہ خان نے تعلقات، جنسیت اور ماضی کے متعلق عمران خان کے رویوں کو بھی بیان کیا ہے، وہ عمران خان کی طرف سے پچھلی شادی کے متعلق تبصرے اور دولت و حیثیت کے متعلق ان کی رائے کو بھی نوٹ کرتی ہیں جو ہاجرہ خان کو موزوں لیکن عمران خان کے موجودہ طرزِ زندگی سے برعکس نظر آتے ہیں۔ وہ عمران خان کے دوسروں کے ساتھ تعاملات، خواتین کی جانب ان کے رویہ اور ذاتی خیالات کا بھی مشاہدہ کرتی ہیں اور یہ صورتحال ایک ایسے آدمی کی تصویر پیش کرتی ہے جو عوامی پہچان اور ذاتی شناخت کے درمیان جکڑا ہوا ہے۔

دونوں کے مابین دوستی کے دوران ان کی آپسی گفتگو مزید قربت اور ذاتی نوعیت اختیار کرتی ہے جبکہ عمران خان اپنے ماضی کے تعلقات، ازدواجی جدوجہد اور جنسی مایوسیوں کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہیں، عمران خان کھل کر اپنے خیالات اور تجربات کو بیان کرتے ہیں جس سے ان کا ایک ایسا پہلو سامنے آتا ہے جو تضادات اور پیچیدگیوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہاجرہ خان ان انکشافات کو سنتے ہوئے عمران خان کی عوامی پہچان کو اس نجی شخص کے ساتھ ملانے کی کوشش کرتی ہیں جو ان کے سامنے مباشرت کی تفصیلات بیان کر رہا ہوتا ہے۔

ہاجرہ خان شادی کے متعلق عمران خان کے خیالات کو بیان کرتی ہیں، عمران خان کہتے ہیں کہ شادی ان کیلئے کرکٹ کیریئر، انسان دوست سرگرمیوں اور یہاں تک کہ سیاست سے بھی زیادہ مشکل کام ہے، عمران خان اعتراف کرتے ہیں کہ وہ شادی کے دوران جنسی طور پر مایوس رہے اور اسی وجہ سے وہ دیگر خواتین حتیٰ کہ گھریلو ملازمہ کے بارے میں بھی سوچنے پر مجبور ہو گئے۔

عمران خان نے طلاق کے بعد اپنی سابقہ بیوی کے ساتھ انکاؤنٹر کا ذکر کرتے ہوئے تعلقات کی پیچیدگیوں اور خواتین کے متعلق اپنے رویہ کو بیان کیا، عمران خان بچوں پر اپنی طلاق کے اثرات اور اپنے اور اپنی سابقہ بیوی کیلئے جذباتی مضمرات پر غور کرنے کی بجائے اس معاملہ کو انا اور جنسی فتح کے طور پر بیان کر رہے تھے۔

ہاجرہ خان اپنی کتاب میں عمران خان کے ماضی کو بیان کرتی ہیں جس میں کراچی کی ایک طوائف کے ساتھ ان کا پہلا جنسی مِلاپ اور جنسی کارکنان اور دیگر خواتین کے بارے میں ان کے خیالات شامل ہیں، وہ عمران خان کے نظریات کو چیلنج کرتی ہیں اور خواتین کو جنسی کارکن بننے کیلئے مجبور کر دینے والے حالات کے متعلق ہمدردانہ خیالات کیلئے قائل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس باب میں عمران خان کی ذاتی ترجیحات اور ظاہری جسمانی ساخت کے متعلق ان کے تبصروں کو بھی بیان کیا گیا ہے جس کے مطابق مُنحَنی (خمیدہ) جسم والی خواتین عمران خان کی ترجیح رہی ہیں۔

ہاجرہ خان نے اِس دوستی کے دوران ایک موقع پر عمران خان سے کیلیفورنیا کی خاتون ”سیٹا وائٹ“ کے ساتھ شادی کے بغیر پیدا ہونے والی عمران خان کی پہلی اولاد “ٹیریان وائٹ” کے متعلق دریافت کیا، عمران خان نے ”ٹیریان“ کے ساتھ اپنے بڑھتے ہوئے تعلق کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیریان گرمیوں میں پاکستان آتی ہے اور زمان پارک میں ان کی بہن کے ساتھ رہتی ہے۔ ٹیریان کے جوانی کی طرف بڑھنے کے متعلق عمران خان کی باتیں ان کے مابین بڑھتے تعلقات اور ماضی کی پیچیدگیوں کے متعلق ممکنہ مفاہمت کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ہاجرہ خان ایک موقع پر بنی گالا میں عمران خان کی رہائش پر ان کے ساتھ ایک پریشان کن ملاقات کو خاص طور پر یاد کرتی ہیں، وہ بتاتی ہیں کہ یہ نومبر کی ایک سرد رات تھی اور عمران خان کوکین کا بےتحاشا استعمال کر رہے تھے اور یہ صورتحال غیر معمولی طور پر عمران خان کے بہت زیادہ پریشان اور بےچین رویہ کو ظاہر کر رہی تھی، ہاجرہ خان نے مشاہدہ کیا کہ عمران خان تیزی کے ساتھ اپنی مایوسی اور بےچینی سے نکلنے کیلئے منشیات استعمال کر رہے تھے جبکہ عمران خان نے ہاجرہ کو بھی کوکین کی پیشکش کی تاہم ہاجرہ کے انکار پر عمران خان نے طنزیہ انداز میں ہاجرہ کے سخت ہونے کے متعلق تبصرہ شروع کر دیا۔

عمران خان نے ہاجرہ کو بتایا کہ وہ سکول کی نوجوان لڑکیوں کے متعلق جنونی تصورات رکھتے ہیں اور عمران خان بار بار اس بات کو یاد کرتے رہے کہ انہوں نے بورڈنگ سکول میں لڑکوں کے ساتھ کس طرح تجربہ کیا تھا جو کہ ہمیشہ ان کی یادداشت میں رہا ہے، عمران خان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ وہ 12 سے 14 برس کی عمر کے لڑکوں کے بارے میں بھی ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔

جہاں افیون اُگتی ہے میں مصنفہ ہاجرہ خان نے ایک ایسا واقعہ بھی بیان کیا ہے جس میں ایک بیوہ خاتون نے انہیں بتایا کہ وہ عمران خان کی ایک “لیبراڈور کتیا” کے ساتھ مباشرت کی عینی شاہد ہیں۔

مصنفہ مزید بتاتی ہیں کہ عمران خان کس طرح بنی گالا میں اپنی وسیع تر جائیداد کے بارے میں بات کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جو کہ اسلام آباد کے ایک متموّل علاقہ میں واقع ہے اور بہت قیمتی ہے، عمران خان نے بتایا کہ وہ ایسی جگہ پر اس طرح کی طرزِ زندگی کا کتنا شوق رکھتے ہیں۔

اِس کے برعکس ہاجرہ خان زمان پارک میں عمران خان کے خستہ حال خاندانی گھر میں اپنے پہلے وزٹ کو یاد کرتی ہیں۔ وہاں فرش ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا، ٹائلز داغدار اور کریکنگ پینٹ جبکہ فرنیچر بھی خراب ہو چکا تھا۔ گھر کی حالت اس قدر خراب تھی کہ ہاجرہ کو داغدار ٹائلز اور ٹوائلٹ باؤل کی وجہ سے ایک لڑکے سے یہ درخواست کرنا پڑی کہ وہ باتھ روم کو کسی اچھے کلینر سے صاف کرے۔ یہ موازنہ دونوں گھروں میں معیارِ زندگی کے نمایاں فرق کی وضاحت کرتا ہے اور اس سے عمران خان کے حالات یا وقت کے ساتھ ترجیحات میں تبدیلی بھی واضح ہوتی ہے۔

باب کے اِس حصہ میں ہاجرہ خان بتاتی ہیں کہ کس طرح عمران خان منشیات استعمال کرتے ہوئے اپنے ماضی بالخصوص اپنی جوانی کے جنسی تعلقات کی یادیں تازہ کرتے ہیں، عمران خان ایسی خوفناک کہانیاں بیان کرتے ہیں جو کم تجربہ کار ہاجرہ کے نقطۂ نظر کیلئے بہت پیچیدہ ہیں، ان میں ایک سنہرے بالوں والی انگلش ماڈل اور 1980 کی ایک سیاہ فام پاپ ڈسکو ڈیوا کے ساتھ حسین یادیں شامل ہیں۔

اِس کے بعد عمران خان ان دوسری خواتین کے بارے میں بات کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں جن کو وہ جانتے ہیں، ان میں برطانوی سوشلائیٹ ”گسلین میکسویل“ اور شہزادی ”ڈیانا“ شامل ہیں۔ عمران خان نے ایک امیر انڈین دوست کے سماجی حلقے میں تعارف کیلئے ”ڈیانا“ کا ذکر تو کیا مگر ”ٹیریان“ کی والدہ (سیٹا وائٹ) کے متعلق بات کرنے سے گریز کیا کیونکہ وہ اس موضوع پر بات کرنے میں بےچینی محسوس کرتے ہیں۔ ہاجرہ اس تمام گفتگو کے دوران عمران خان کے رویے کا مشاہدہ کرتی ہیں، ان کی کہانیاں سنتی ہیں اور خود کو عمران خان کی زندگی کے پراسرار اور نجی پہلوؤں کی طرف متوجہ رکھتی ہیں۔

یہ جائزہ مکمل طور پر ہاجرہ خان کی شائع ہونے والی کتاب ”سروائیونگ پاکستان ایز اے وومن، این ایکٹریس اینڈ نوئنگ عمران خان“ کے مواد پر مبنی ہے جبکہ تھرسڈے ٹائمز کسی بھی لحاظ سے کتاب کے مواد کیلئے ذمہ دار نہیں ہے۔

ہاجرہ خان کی نئی کتاب ”ویئر دی اوپئم گروز: سروائیونگ پاکستان ایز اے وومن، این ایکٹریس اینڈ نوئنگ عمران خان” کا دوسرا ایڈیشن منظرِ عام پر آ چکا ہے۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
error: