وفاقی حکومت نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل پر ترقی دینے کی منظوری دے دی

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ’’معرکہِ حق‘‘ کے دوران آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی شاندار عسکری قیادت اور جرأت و بہادری اور ملکی خودمختاری و علاقائی سالمیت یقینی بنانے پر انہیں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دے دی گئی۔

A file photo is shown of the Chief of Army Staff, General Hafiz Syed Asim Munir Ahmed Shah, NI HI. — FILE/THE THURSDAY TIMES
A file photo is shown of the Chief of Army Staff, General Hafiz Syed Asim Munir Ahmed Shah, NI HI. — FILE/THE THURSDAY TIMES

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — وفاقی حکومت نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل پر ترقی دینے کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا ہے جس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ’’آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص‘‘ اور ’’معرکہِ حق‘‘ میں زبردست فتح اور دشمنوں کے عزائم خاک میں ملانے پر مبارکباد پیش کی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ’’معرکہِ حق‘‘ میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی شاندار عسکری قیادت اور جرأت و بہادری، پاکستان کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے اور دشمن کے مقابلے میں وطن کے دلیرانہ دفاع کے اعتراف میں انہیں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی تجویز دی جس کو وفاقی کابینہ سے منظور کر لیا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کہا گیا کہ دشمن کی جانب سے پاکستان کی خود مختاری اور سرحدی سالمیت کو پامال کرنے کی مذموم کوشش کی گئی جبکہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مثالی جرأت و بہادری اور عزم کے ساتھ پاک فوج کی قیادت کی اور مسلح افواج کی جنگی حکمتِ عملی اور کاوشوں کو بھرپور طریقے سے ہم آہنگ کیا، جنرل عاصم منیر کی بےمثال قیادت کی بدولت پاکستان کو ’’معرکہِ حق‘‘ میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

وفاقی کابینہ کے اس اہم اجلاس میں ’’معرکہِ حق‘‘ اور ’’آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص‘‘ کی اعلیٰ حکمتِ عملی اور دلیرانہ قیادت کی بنیاد پر ملکی سلامتی کو یقینی بنانے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے پر جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دی گئی ہے۔∎

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔