یروشلم (تھرسڈے ٹائمز) — اسرائیل نے پیر کو اعلان کیا کہ اس کی افواج نے حماس کے سینئر رہنماؤں پر ہدفی حملہ بیرونی مداخلت کے بغیر کیا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ کارروائی صرف اسرائیلی کمانڈ کے تحت شروع اور مکمل ہوئی۔
Prime Minister's Office:
Today's action against the top terrorist chieftains of Hamas was a wholly independent Israeli operation.
Israel initiated it, Israel conducted it, and Israel takes full responsibility.
— Prime Minister of Israel (@IsraeliPM) September 9, 2025
وزیرِاعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ “مکمل طور پر آزادانہ اسرائیلی کارروائی تھی” اور اسرائیل نے یہ کارروائی کی اور اس کی پوری ذمہ داری بھی قبول کرتا ہے۔
یہ اعلان اس قیاس آرائی کو مسترد کرنے کی کوشش ہے کہ حملے میں کسی غیر ملکی تعاون کا کردار تھا، اور اسرائیل کی اس پالیسی کو اجاگر کرتا ہے جس کے تحت وہ یکطرفہ فوجی کارروائیاں کرتا ہے جنہیں وہ دہشت گرد قیادت قرار دیتا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی جاری ہے اور اسرائیل اپنی مہم کو آگے بڑھا رہا ہے، جبکہ حماس کو اسرائیل، امریکہ، یورپی یونین اور کئی دیگر حکومتوں نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔




