ڈھاکہ (تھرسڈے ٹائمز) — بنگلہ دیشی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے سارک کو جنوبی ایشیاء کے تقریباً دو ارب لوگوں کیلئے ایک بامعنی پلیٹ فارم کے طور پر دوبارہ فعال کیے جانے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سارک کی روح زندہ اور قائم ہے، بیگم خالدہ ضیاء کے جنازے میں ہم نے حقیقی سارک کا مشاہدہ کیا ہے۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر (ایکس) پر آفیشل اکاؤنٹ سے جاری کیے گئے پیغام میں کہا ہے کہ ’’سارک کی روح زندہ اور قائم ہے‘‘ جبکہ انہوں نے منگل کے روز وفات پانے والی سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ بیگم خالدہ ضیاء کے جنازے میں جنوبی ایشیائی ممالک کی اہم شخصیات کی موجودگی اور اُن کی جانب سے اظہارِ یکجہتی کو اِس کی علامت قرار دیا ہے۔
SAARC Spirit is Alive, Professor Yunus Tells Visiting South Asian Dignitaries
DHAKA, January 1, 2026: Chief Adviser Professor Muhammad Yunus on Thursday said that “the SAARC spirit is alive and well,” citing the strong presence and solidarity shown by South Asian nations at the… pic.twitter.com/WNhCQGirZl
— Chief Adviser of the Government of Bangladesh (@ChiefAdviserGoB) January 1, 2026
پروفیسر محمد یونس نے کہا ہے کہ وہ سارک کے رکن ممالک کی جانب سے بنگلہ دیش کی 3 مرتبہ منتخب ہونے والی خاتون وزیراعظم کیلئے اِس احترام سے دلی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
ڈھاکہ میں بدھ کے روز بیگم خالدہ ضیاء کے جنازے میں پورے جنوبی ایشیاء سے اعلیٰ سطحی وفود شریک ہوئے جن میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق، بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر، نیپال کے وزیرِ خارجہ بالا نندا شرما، سری لنکا کے وزیرِ خارجہ وجیتھا ہیراتھ اور مالدیپ کے وزیرِ ہائر ایجوکیشن و لیبر علی حیدر احمد شامل تھے۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر کی جانب سے جاری باضابطہ پیغام میں بتایا گیا ہے کہ بیگم خالدہ ضیاء کے جنازے کے بعد پاکستان کے پارلیمانی سپیکر ایاز صادق اور نیپال، سری لنکا اور مالدیپ کے وزراء نے سٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنا میں چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے ملاقاتیں کیں جہاں معززین نے مرحومہ بیگم خالدہ ضیاء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور جمہوریت کیلئے اُن کی جدوجہد اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان اتحاد و تعاون کے فروغ کیلئے اُن کی کوششوں کو یاد کیا۔ معزز مہمانوں نے بیگم خالدہ ضیاء کے جنازے میں بھرپور اور ریکارڈ توڑ عوامی شرکت پر حیرت کا اظہار کیا جبکہ پروفیسر یونس نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ انہیں (بیگم خالدہ ضیاء کو) واقعی کتنا چاہتے تھے۔
اِن ملاقاتوں کے دوران پروفیسر یونس نے بار بار جنوبی ایشیائی تنظیم برائے علاقائی تعاون (سارک) کو بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مالدیپ کے وزیر علی حیدر احمد سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے کل کے جنازے میں حقیقی سارک روح دیکھی، سارک اب بھی زندہ ہے، سارک کی روح اب بھی زندہ ہے‘‘۔
بنگلہ دیشی حکومت کے سربراہ محمد یونس نے سری لنکن وزیرِ خارجہ وجیتھا ہیراتھ سے گفتگو میں کہا ’’کل عملی طور پر سارک کو دیکھا گیا، ہم نے مل کر غم اور دکھ بانٹا ہے‘‘۔
پروفیسر یونس کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیو یارک میں سارک راہنماؤں کا ایک غیر رسمی اجلاس بلانے کیلئے اپنی کوشش کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں چاہتا تھا کہ سارک راہنما آپس میں مل بیٹھیں، چاہے صرف پانچ منٹ ہی کے لیے ہی بیٹھیں‘‘۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سارک کو جنوبی ایشیاء کے تقریباً دو ارب لوگوں کیلئے ایک بامعنی پلیٹ فارم کے طور پر دوبارہ فعال کیا جائے گا۔
چیف ایڈوائزر بنگلہ دیشی عبوری حکومت کی جانب سے جاری باضابطہ پیغام کے مطابق بنگلہ دیش کے آئندہ انتخابات بھی گفتگو کا نمایاں موضوع رہے۔ پروفیسر یونس نے کہا کہ بنگلہ دیش 12 فروری کو آزاد، منصفانہ اور پُرامن انتخابات کے انعقاد کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔
پروفیسر محمد یونس نے پاکستان کے پارلیمانی سپیکر سردار ایاز صادق کو بتایا کہ انتخابات کے بعد وہ اپنے پرانے پیشہ ورانہ کردار کی طرف واپس لوٹ جائیں گے۔ ملاقاتوں کے دوران سری لنکن اور نیپالی وزرائے خارجہ نے کہا کہ وہ بیرونِ ملک مقیم بڑی تعداد میں بنگلہ دیشیوں کیلئے ڈاک کے ذریعہ ووٹنگ (پوسٹل ووٹنگ) کے آغاز کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔
پروفیسر یونس نے بتایا کہ عبوری حکومت کی جانب سے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ نظام متعارف کرائے جانے کے بعد بیرونِ ملک رہنے اور کام کرنے والے تقریباً 7 لاکھ بنگلہ دیشیوں نے پوسٹل بیلٹ کیلئے رجسٹریشن کرائی ہے۔ اِس حوالہ سے سری لنکن وزیر وجیتھا ہیراتھ نے کہا کہ ’’ہم آپ کے تجربات سے سیکھیں گے‘‘۔
واضح ریے کہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر کے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری کیے گئے پیغام میں پروفیسر محمد یونس کی پاکستانی پارلیمانی سپیکر صادق کے ساتھ ملاقات کی تصاویر دکھائی گئی ہیں۔




