افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ بلوچستان میں دہشتگردوں کے زیرِ استعمال ہے، سیکیورٹی ذرائع

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد چھوڑا گیا جدید اسلحہ اب پاکستان، بالخصوص بلوچستان میں سرگرم دہشتگرد عناصر کے ہاتھوں میں پہنچ چکا ہے اور دہشتگرد کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس سے قبل سی این این کی رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ طالبان پاکستان کے خلاف امریکی ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستانی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد وہاں چھوڑا گیا بھاری مقدار میں فوجی ساز و سامان اور اسلحہ اب پاکستان، بالخصوص بلوچستان میں سرگرم دہشتگرد عناصر کے ہاتھوں میں پہنچ چکا ہے، جس کے باعث دہشتگرد کارروائیوں کی شدت اور نوعیت میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان سے انخلا کے بعد جو عسکری سامان طالبان کے کنٹرول میں آیا، اس میں نائٹ وژن ڈیوائسز، جدید رائفلز، بارودی مواد، ڈرونز، کمیونیکیشن آلات اور بلٹ پروف جیکٹس شامل تھیں۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق اس سامان کا ایک بڑا حصہ اب بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کے قبضے میں پایا گیا ہے اور حالیہ کارروائیوں میں اس کے استعمال کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ چند مہینوں میں بلوچستان میں ہونے والے متعدد دہشتگرد حملوں کے بعد ملنے والے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور جدید امریکی ساختہ اسلحہ اور ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی فائر پاور میں اضافہ ہوا ہے بلکہ نقل و حرکت، نگرانی اور نشانہ بازی کی صلاحیت بھی بہتر ہوئی ہے۔

ایک سیکیورٹی اہلکار کے مطابق نوشکی، شابان ویلی اور مکران ڈویژن میں آپریشنز کے دوران امریکی ساختہ M4 کاربائن، تھرمل ڈرونز اور کمیونیکیشن جیمرز برآمد کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مقامی یا روایتی اسلحے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ جدید ہے اور زمینی حقائق میں براہِ راست فرق ڈال رہی ہے۔

سی این این کی حالیہ رپورٹ: طالبان کے زیرِ استعمال امریکی ہتھیار پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں
چند روز قبل سی این این کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ طالبان کے زیرِ استعمال امریکی ساختہ ہتھیار پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کے پاس موجود رائفلوں کے سیرل نمبرز سے ان کی امریکی ساخت ثابت ہوئی، جبکہ بعض ہتھیاروں پر پراپرٹی آف امریکن گورنمنٹ کی مارکنگ بھی موجود تھی۔ اسی رپورٹ میں امریکی فوج کے حوالے سے کہا گیا کہ کابل انخلا سے قبل افغان فورسز کے تقریباً 75 فیصد ہتھیار طالبان کے ہاتھ لگے تھے، جو بعد ازاں مختلف راستوں سے خطے میں پھیلتے گئے۔

امریکہ کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی محکمہ دفاع اس بات کو تسلیم کر چکا ہے کہ افغانستان سے انخلاء کے دوران اربوں ڈالر مالیت کا عسکری ساز و سامان وہاں رہ گیا تھا۔ امریکی مؤقف کے مطابق یہ سامان افغان نیشنل آرمی کے لیے چھوڑا گیا تھا، مگر طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ ان کے کنٹرول میں چلا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی سی این این سے گفتگو
سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ جب اسلحہ کی منڈی میں پہنچتا ہے تو بالآخر دہشتگردوں کے ہاتھ لگ جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ ہتھیار دنیا کے کسی بھی حصے میں سامنے آ سکتے ہیں، کیونکہ مختلف دہشتگرد تنظیمیں اور غیر ریاستی عناصر مضبوط اور منظم روابط رکھتے ہیں۔

بلوچستان میں سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ جدید اسلحے کی دستیابی نے دہشتگرد گروہوں کو زیادہ منظم اور مؤثر بنا دیا ہے، جبکہ سرحد پار مبینہ محفوظ پناہ گاہیں ان کی سرگرمیوں کو مزید تقویت دے رہی ہیں۔ حکام کے مطابق خطرہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں رہ سکتا، کیونکہ جدید ہتھیار اور ٹیکنالوجی دہشتگرد نیٹ ورکس کو وسیع تر جغرافیے میں کارروائیاں کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک سابق اہلکار کے مطابق افغانستان میں جاری عدم استحکام کے اثرات براہِ راست بلوچستان میں محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں دہشتگرد اب روایتی طریقوں کے بجائے جدید ٹیکنالوجی اور نئی حکمت عملی کے ساتھ حملے کر رہے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق افغانستان میں غیر منظم عسکری ذخائر کی موجودگی صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے سیکیورٹی چیلنج بن سکتی ہے۔ وسط ایشیائی ممالک اور ایران پہلے ہی اپنی سرحدی نگرانی بڑھا چکے ہیں، جبکہ پاکستان میں بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دہشتگردوں کی تکنیکی برتری بعض علاقوں میں سیکیورٹی آپریشنز کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: