کابل (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کیمطابق پاکستان نے اتوار کے روز افغانستان کے بگرام ایئربیس کو نشانہ بنایا، حملوں میں بگرام ایئربیس کے شمالی حصے میں واقع کم از کم ایک طیارہ ہینگر اور دو بڑے گودام تباہ ہوگئے۔
پاکستانی اعلیٰ فوجی ذرائع کیمطابق پاکستان نے متعدد حملے کیے جن کا مقصد عسکری سامان اور رسد کو تباہ کرنا تھا۔ افغان حکام نے بھی اتوار کے روز بگرام پر حملے کی تصدیق کی اور اسے “فضائی یلغار” قرار دیا، تاہم نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
بگرام کی علامتی اور عسکری اہمیت
بگرام ایئربیس کابل سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال میں واقع ہے اور دو دہائیوں تک افغانستان میں امریکی جنگ کا مرکزی اڈہ رہا۔ 2021 میں امریکی انخلا کے بعد طالبان کے لیے یہ اڈہ ایک بڑی علامتی فتح سمجھا گیا۔ 2022 سے 2024 تک طالبان ہر سال 15 اگست کو، یعنی اقتدار میں واپسی کی سالگرہ پر، اسی اڈے پر اپنی عسکری طاقت کی نمائش کرتے رہے۔ بعد ازاں یہ سلسلہ رک گیا، جس کے پس منظر میں امریکی سیاست میں بگرام سے متعلق بڑھتی ہوئی بحث کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کا مؤقف اور الزامات
پاکستان کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیاں اس “کھلی جنگ” کا حصہ ہیں جس کا جواز پاکستان اس بنیاد پر پیش کرتا ہے کہ افغان طالبان حکومت ایسے عناصر کو محفوظ ٹھکانے فراہم کر رہی ہے جو پاکستان میں برسوں سے جاری شورش کے دوران سیکڑوں پاکستانی اہلکاروں کی ہلاکت کا سبب بنے۔ افغان حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے، تاہم اقوام متحدہ اور بعض آزاد رپورٹس میں افغانستان میں پاکستانی طالبان کی موجودگی کے حوالے سے نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔
ایک ریٹائرڈ پاکستانی جنرل کے مطابق ان حملوں کا مقصد عسکریت پسندوں کے اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر کو ختم کرنا اور افغان فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول، پاکستان بار بار اپنی سرزمین پر حملوں اور دراندازی کے خطرات برداشت نہیں کر سکتا۔
مقامی عینی شاہدین کی معلومات
بگرام کے ساتھ واقع قصبے کے چار رہائشیوں نے بتایا کہ اتوار کی صبح سورج نکلنے کے فوراً بعد اڈے کے اندر کم از کم دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ تین افراد کے مطابق فضاء میں کم از کم ایک جنگی طیارے کی آواز بھی سنائی دی۔ رہائشیوں نے ممکنہ ردِعمل کے خدشے کے باعث مکمل نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔
سیٹلائٹ تصاویر میں کیا نظر آیا
سیٹلائٹ تصاویر میں اتوار کی صبح کے وقت اڈے کے شمالی حصے میں واقع بعض عمارتوں کو شدید نقصان دکھائی دیتے ہیں، جن میں ایک ہینگر اور دو بڑے گودام شامل ہیں۔ پاکستانی عہدیدار نے یہ نہیں بتایا کہ اندر کون سا سازوسامان یا کتنا ذخیرہ نشانہ بنا۔
کشیدگی کے اگلے امکانات
اطلاعات کے مطابق پاکستان نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران افغان فوجی اہداف پر درجنوں حملے کیے ہیں، تاہم بگرام جیسے علامتی اور اسٹریٹجک مقام کو نشانہ بنانا اس تنازعے میں ایک بڑا موڑ سمجھا جا رہا ہے۔ افغان وزارتِ دفاع نے حملے کی تصدیق کی ہے، مگر نقصان یا جوابی حکمت عملی کے حوالے سے تفصیل نہیں دی گئی۔







