لاہور (تھرسڈے ٹائمز) — آئی کیو ایئر (IQAir) کے لائیو فضائی معیار ٹریکر کے مطابق پیر کو لاہور دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ آلودہ بڑا شہر رہا، جبکہ سردیوں میں اسموگ کے عروج کے موسم سے پہلے پنجاب کے بیشتر حصے پر آلودہ ہوا چھائی رہی۔
آئی کیو ایئر نے پیر کو ایک موقع پر لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس، یعنی اے کیو آئی (AQI)، 199 ریکارڈ کیا، جو امریکی اے کیو آئی پیمانے پر "انتہائی غیر صحت بخش" درجے کی حد 200 کے قریب ہے۔ دن بھر ریڈنگز میں اتار چڑھاؤ رہا، اور باریک ذرات، یعنی پی ایم 2.5 (PM2.5)، بنیادی آلودہ عنصر تھے۔
صوبائی دارالحکومت سے باہر صورتحال زیادہ خراب
آلودگی صرف صوبائی دارالحکومت تک محدود نہیں تھی۔ پنجاب انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی 26 اکتوبر کی روزانہ رپورٹ میں صوبے کا اوسط اے کیو آئی 144 رہا، جو معتدل درجے میں آتا ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں سب سے زیادہ ریڈنگ 213 اور تلہ گنگ میں سب سے کم 96 ریکارڈ کی گئی، جبکہ لاہور میں یہ 178 رہی۔
پاکپتن، ملتان اور سرگودھا جیسے جنوبی اور وسطی اضلاع بھی دن کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل تھے، جہاں ریڈنگز 200 کے آس پاس یا اس سے اوپر رہیں۔
بارش کے آثار نہیں
محکمۂ موسمیات پاکستان نے منگل کو پنجاب کے بیشتر حصوں میں خشک موسم کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں صبح اور رات کے اوقات ٹھنڈے رہیں گے۔ منگل اور بدھ کو لاہور کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 29 سے 31 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی توقع ہے، اور شہر میں بارش کی پیش گوئی نہیں ہے۔
بارش کے بغیر فوری ریلیف کا کوئی امکان نہیں، تاہم آلودگی کی سطح پھر بھی ہوا، درجہ حرارت اور اخراج پر منحصر رہے گی۔
ماہرینِ صحت بچوں، بزرگوں اور دل یا سانس کے امراض میں مبتلا افراد کو مشورہ دیتے ہیں کہ جب ہوا خراب ہو تو گھر سے باہر کی سرگرمیاں کم کریں، اور جہاں تک ممکن ہو باہر کی آلودہ ہوا کو اپنے گھروں میں داخل ہونے سے روکیں۔



