تھرسڈے ٹائمز پر بھارتی ہیکرز کا خطرناک سائبر حملہ!

جامع سیکیورٹی تحقیقات میں ”تھرسڈے ٹائمز“ کے ڈیجیٹل نظام میں ہفتوں سے جاری دراندازی کا انکشاف ہوا ہے۔ تمام معمولات کی بحالی کے بعد ادارہ واضح کرتا ہے کہ آزاد و بےباک صحافت کیلئے ہمارا عزم بدستور برقرار ہے۔

دی تھرسڈے ٹائمز کا لوگو، غیر مجاز فائل اور سیشن سرگرمی کے علامتی سسٹم لاگ پر، جو 14 ستمبر سے 17 اکتوبر تک پھیلا ہوا ہے۔
تصویری خاکہ: دی تھرسڈے ٹائمز۔ دراندازی کا ایک علامتی منظر، اصل لاگ ڈیٹا نہیں۔

لندن/اسلام آباد/فرینکفرٹ (دی تھرسڈے ٹائمز) — ”تھرسڈے ٹائمز“ کو ایک بڑے اور خطرناک سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کو ادارہ کی جانب سے کی گئی سیکیورٹی تحقیقات کے بعد ”بھارتی ہیکرز“ سے منسوب کیا گیا ہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ادارہ کے ڈیجیٹل نظام میں منظم انداز سے کی گئی دراندازی کئی ہفتوں تک جاری رہی۔

تھرسڈے ٹائمز کے خلاف سائبر حملے کے دوران ادارے کے اہم نظاموں تک غیر مجاز و ناجائز رسائی حاصل کی گئی، نقصان دہ سوفٹ ویئر کے خفیہ اجزاء نصب کیے گئے اور ادارے کی آن لائن سرگرمیوں کے بعض حصوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کیلئے بار بار کوششیں کی گئیں۔

حملے کی سنگینی کے باوجود ”دی تھرسڈے ٹائمز“ نے تصدیق کی ہے کہ اُس کی ویب سائٹ اور تمام ڈیجیٹل سرگرمیاں مکمل طور پر معمول پر آ چکی ہیں۔ ادارے میں کام حسبِ معمول جاری ہے اور قارئین تک خبریں اور آزادانہ صحافتی رپورٹنگ بِلا تعطل پہنچائی جا رہی ہیں۔

اہم نکات

  1. ستمبر تک جانے والی ایک طویل دراندازی، جو معمول کی تکنیکی دیکھ بھال کے دوران سامنے آئی، ”دی تھرسڈے ٹائمز“ کے ڈیجیٹل نظام میں کی گئی۔ ادارہ اِسے بھارتی ہیکرز سے منسوب کرتا ہے۔
  2. حملہ آوروں نے بظاہر جائز نظامی سہولیات کی شکل میں اجزاء نصب کیے اور بار بار واپس آئے؛ 17 اکتوبر (ہفتہ) کی صبح بھی مزید سرگرمی کی نشاندہی ہوئی۔
  3. اِس نسبت کے پیچھے موجود تکنیکی شواہد ادارے کے سیکیورٹی انتظامات کے تحفظ کیلئے ظاہر نہیں کیے جا رہے۔
  4. ویب سائٹ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے، اور ادارے کے مطابق اُس کی ادارتی سمت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ”تھرسڈے ٹائمز“ پر بھارت میں جاری احتجاجی مظاہروں کی وسیع پیمانے پر کوریج جاری ہے۔ اِن مظاہروں میں مبینہ انتخابی بےضابطگیوں، عوامی اجتماعات پر پابندیوں اور احتجاج کرنے والے سیاسی و سماجی راہنماؤں کی گرفتاریوں جیسے معاملات نمایاں ہیں۔

ایک ایسے صحافتی ادارے کیلئے، جس کا بنیادی اصول ”ہم اُن عناصر کیلئے خطرہ ہیں جو جھوٹ کا کاروبار کرتے ہیں“ ہے، یہ واقعہ آزادانہ صحافت کی اہمیت کو ایک بار پھر اُجاگر کرتا ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب حقائق سیاسی مفادات کیلئے ناگوار ثابت ہو سکتے ہوں۔

کئی ہفتوں سے جاری دراندازی کا انکشاف

سائبر حملے کا انکشاف معمول کی تکنیکی دیکھ بھال کے دوران ہوا، جب ویب سائٹ کے بنیادی نظام میں غیر معمولی سرگرمیوں کی نشاندہی کے بعد وسیع پیمانے پر سیکیورٹی تحقیقات شروع کی گئیں۔

ابتدائی طور پر جو معاملہ ایک معمولی تکنیکی خرابی محسوس ہو رہا تھا، وہ جلد ہی ایک سنگین سیکیورٹی مسئلہ کی صورت اختیار کر گیا۔ تحقیقات کے دوران ادارے کے ڈیجیٹل نظام میں دانستہ طور پر چھپائے گئے نقصان دہ اجزاء کی موجودگی کے شواہد سامنے آئے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دراندازی کا آغاز کئی ہفتے قبل ہو چکا تھا، جبکہ مشتبہ سرگرمیوں کے شواہد ستمبر تک جاتے ہیں۔ حملہ آوروں نے غیر مجاز اجزاء نصب کیے، اُنہیں بظاہر جائز نظامی سہولیات کی شکل دی اور اپنی رسائی برقرار رکھنے کیلئے اندرونی نظام میں تبدیلیاں کیں۔

مزید جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ حملہ آور بار بار متاثرہ نظام میں واپس آتے رہے، جبکہ 17 اکتوبر (ہفتہ) کی صبح بھی ایسی مزید سرگرمیوں کی نشاندہی ہوئی۔ اِن سرگرمیوں کی نوعیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ویب سائٹ میں خلل ڈالنے کی محض ایک وقتی کوشش نہیں تھی، بلکہ یہ ایک طویل عرصہ تک جاری رہنے والی منظم کارروائی تھی۔

دراندازی کا سلسلہ ایک نظر میں

ستمبرمشتبہ سرگرمیوں کے شواہد اِسی مہینے تک جاتے ہیں۔
بعد کے ہفتےحملہ آور بار بار واپس آتے رہے اور رسائی برقرار رکھنے کیلئے بظاہر جائز نظامی سہولیات کی شکل کے اجزاء استعمال کرتے رہے۔
انکشافمعمول کی دیکھ بھال کے دوران غیر معمولی سرگرمی نے نظام کی وسیع جانچ پڑتال کو جنم دیا۔
17 اکتوبر (ہفتہ) کی صبححملہ آوروں کی مزید سرگرمی کی نشاندہی ہوئی۔
17 اکتوبر (ہفتہ)ادارے نے ویب سائٹ اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کے معمول پر آنے کی تصدیق کی۔

تحقیقات کے دوران ادارے کے اہم عملی نظاموں میں مداخلت کے شواہد بھی ملے ہیں، جس سے اُس کے ڈیجیٹل ڈھانچے کی سلامتی اور قابلِ اعتماد کارکردگی کو لاحق خطرات کے حوالہ سے سنگین خدشات پیدا ہوئے۔

سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر تحقیقات کی مکمل تکنیکی تفصیلات منظرِ عام پر نہیں لائی جا رہیں۔

سائبر حملے میں بھارتی ہیکرز کی شناخت

”دی تھرسڈے ٹائمز“ نے اپنی داخلی سیکیورٹی تحقیقات کے بعد اِس سائبر حملے کو حتمی طور پر بھارتی ہیکرز سے منسوب کیا ہے۔

ادارے کے مطابق تحقیقات کے نتائج نہ صرف نقصان دہ سرگرمیوں کے ماخذ کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ اِس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ حملے کے دوران ”دی تھرسڈے ٹائمز“ کے نظام میں دانستہ اور مسلسل مداخلت کی گئی۔

دی تھرسڈے ٹائمز نے اپنے سیکیورٹی انتظامات کے تحفظ کے پیشِ نظر حملہ آوروں کی شناخت سے متعلق تکنیکی شواہد عوامی سطح پر جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم اب تک عوامی طور پر کوئی ایسا دستیاب نتیجہ سامنے نہیں آیا جس سے بھارتی حکومت یا کسی سرکاری ادارے کا اِس کارروائی میں شامل یا ملوث ہونا ثابت ہو۔ اِسی طرح حملے کے پیچھے موجود مخصوص مقاصد بھی ظاہر نہیں کیے گئے۔

یہ واقعہ آزاد صحافتی اداروں کو درپیش سائبر خطرات کے حوالہ سے کئی اہم سوالات اُٹھاتا ہے، خصوصاً ایسے اداروں کیلئے جو قومی سرحدوں سے باہر سیاسی طور پر حساس معاملات سے متعلق رپورٹنگ کرتے ہیں۔

یہ حملہ ڈیجیٹل صحافت کو لاحق ایک بڑھتے ہوئے خطرے کی بھی عکاسی کرتا ہے، جس میں حملہ آور محض کسی ویب سائٹ کو عارضی طور پر بند کرنے کے بجائے اُس کے بنیادی نظام میں خفیہ طور پر طویل عرصہ تک موجود رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تحقیقات میں کیا سامنے آیا

  • ماخذ: ادارے کی داخلی سیکیورٹی تحقیقات کے بعد سائبر حملہ بھارتی ہیکرز سے منسوب کیا گیا ہے۔
  • طریقۂ کار: دانستہ اور بار بار مداخلت، جس میں بظاہر جائز نظامی سہولیات کی شکل میں چھپائے گئے اجزاء اور رسائی برقرار رکھنے کیلئے کی گئی تبدیلیاں شامل ہیں۔
  • دورانیہ: ستمبر میں شروع ہونے والی ایک طویل کارروائی، جس کی مزید سرگرمی 17 اکتوبر (ہفتہ) کی صبح بھی دیکھی گئی۔
  • شواہد: ادارے کے سیکیورٹی انتظامات کے تحفظ کیلئے تکنیکی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا رہیں۔

بھارت میں جاری احتجاجی مظاہروں کی رپورٹنگ

یہ سائبر حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں سیاسی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور طلباء و نوجوانوں کی تحریکیں اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں انتخابی عمل اور عوامی مظاہروں کے خلاف حکومتی اقدامات پر سوالات اُٹھا رہی ہیں۔

نئی دہلی سمیت بھارت کے مختلف شہروں میں حالیہ مظاہروں کا مرکز انتخابی فہرستوں میں مبینہ بےضابطگیاں، انتخابی حکام سے جواب دہی کے مطالبات اور مظاہرین کی گرفتاریاں رہی ہیں۔ بھارتی حکومت اور حکمران جماعت بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) اِن الزامات کو مسترد کرتی رہی ہیں کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں کا مقصد حکمراں جماعت کو سیاسی فائدہ پہنچانا تھا۔

”دی تھرسڈے ٹائمز“ اِن معاملات میں پیش رفت کی مسلسل رپورٹنگ کر رہا ہے، جس میں احتجاجی مظاہروں، پولیس کی کارروائیوں، سیاسی ردعمل اور جواب دہی کا مطالبہ کرنے والے شہریوں کی آوازوں کو نمایاں جگہ دی جا رہی ہے۔

احتجاجی منتظمین اور طلباء راہنماؤں کی گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ ایسے مظاہرے، جن میں شرکاء زیادہ جمہوری جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں، شہری آزادیوں اور سیاسی اختلافِ رائے جیسے معاملات کو موجودہ صورتحال کے مرکز میں لے آئے ہیں۔

احتجاج کے اہم کردار

یہ وہ افراد اور تنظیمیں ہیں جن کا ذکر ”دی تھرسڈے ٹائمز“ کی احتجاج سے متعلق رپورٹنگ میں آیا ہے۔ اِن کے نام صرف پس منظر کیلئے دیے گئے ہیں: اِس مضمون میں کوئی بات اِن میں سے کسی کو بھی سائبر حملے سے نہیں جوڑتی۔

بانی، کاکروچ جنتا پارٹی

ابھیجیت دیپکے

مئی میں نوجوانوں کی قیادت والی سی جے پی کی بنیاد رکھی۔ 10 اکتوبر کو دہلی پہنچنے پر وہ دو ساتھیوں سمیت اپنی پرواز سے حراست میں لیے گئے، اور ایک عدالت نے اگلے دن اُنہیں رہا کر دیا۔ بعد ازاں اُنہوں نے 16 اکتوبر کیلئے ”لہرا دو ترنگا“ احتجاج کا اعلان کیا۔

ہماری رپورٹ پڑھیں (انگریزی)

نوجوانوں کی قیادت والی طنزیہ تحریک

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)

مئی میں ابھیجیت دیپکے نے اِس کی بنیاد رکھی۔ اِس کے احتجاج میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ اور انتخابی فہرستوں پر نظرِ ثانی روکنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کسی بھی غلط کاری کی تردید کرتا ہے۔

ہماری رپورٹ پڑھیں (انگریزی)

وزیرِ اعظم، بھارت

نریندر مودی

احتجاج جاری رہنے کے دوران بھارت کو ”جمہوریت کی ماں“ قرار دے کر اُس کا دفاع کیا۔ حکومت اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اِس الزام کو مسترد کرتی ہیں کہ انتخابی فہرستوں کی تبدیلیوں کا مقصد حکمراں جماعت کو فائدہ پہنچانا تھا۔

ہماری رپورٹ پڑھیں (انگریزی)

صدر، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن

نیہا بورا

10 اکتوبر کو دہلی میں حراست میں لیے جانے والوں میں شامل تھیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ تحریک ملک بھر میں جاری ہے، دہلی کے جنتر منتر سے ممبئی کے شیواجی پارک تک۔

ہماری رپورٹ پڑھیں (انگریزی)

طلبہ تنظیم

آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA)

احتجاج میں شریک ایک طلبہ تنظیم۔ اِس کی صدر نیہا بورا 10 اکتوبر کو دہلی کے احتجاج میں زیرِ حراست آنے والوں میں شامل تھیں۔

ہماری رپورٹ پڑھیں (انگریزی)

10 اکتوبر (ہفتہ) کو دہلی میں حراست میں لیے گئے افراد کی دو گنتیاں

تعداد اِس بات پر منحصر ہے کہ گنتی کون کر رہا ہے۔

10 اکتوبر کو دہلی میں حراست میں لیے گئے افراد: ایک گنتی کے مطابق 2,000 سے زائد، دوسری کے مطابق کم از کم 7,000 دو پٹیوں والا چارٹ۔ روئٹرز کے مطابق، ایک اہلکار کے حوالے سے، دہلی پولیس کا بتایا ہوا اعداد و شمار 2,000 سے زائد ہے۔ انسانی حقوق کی نگران تنظیم سیویکس کے مطابق تعداد کم از کم 7,000 ہے۔ دہلی پولیس، بحوالہ روئٹرز 2,000+ انسانی حقوق کی نگران تنظیم سیویکس 7,000+
روئٹرز کے مطابق دہلی پولیس نے ایک اہلکار کے حوالے سے ”2,000 سے زائد“ افراد کو حراست میں لیا؛ سیویکس کے مطابق تعداد ”کم از کم 7,000“ ہے، جیسا کہ دی تھرسڈے ٹائمز نے 15 اکتوبر کو رپورٹ کیا۔ پٹیاں صفر سے پیمانے کے مطابق بنائی گئی ہیں۔

بھارت کے احتجاج پر دی تھرسڈے ٹائمز کی رپورٹنگ

دی تھرسڈے ٹائمز کے نزدیک اِن واقعات کی رپورٹنگ سیاسی سہولت یا مصلحت کا نہیں بلکہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔ صحافت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقتدار میں موجود افراد سے سوال کرے، متضاد دعوؤں کا جائزہ لے اور ایسے حقائق سامنے لائے جو بعض حلقوں کیلئے ناگوار ہو سکتے ہیں۔

سائبر حملے کا وقت بھارت میں جاری احتجاجی مظاہرے اِس بات کی واضح مثال ہیں کہ یہ عزم کیوں ضروری ہے۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں سیاسی دعوے متضاد ہوں، واقعات کی تشریحات پر اختلافات موجود ہوں اور عوامی کشیدگی بڑھ رہی ہو، صحافت کا بنیادی کردار حقائق کی تصدیق، دعوؤں کی جانچ پڑتال اور شواہد کو قارئین کے سامنے پیش کرنا ہے۔

صحافت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقتدار میں موجود افراد سے سوال کرے، متضاد دعوؤں کا جائزہ لے اور ایسے حقائق سامنے لائے جو بعض حلقوں کیلئے ناگوار ہو سکتے ہیں۔
دی تھرسڈے ٹائمز

کسی صحافتی ادارے کے ڈیجیٹل نظام پر حملہ اِس بات کا فیصلہ نہیں کر سکتا کہ وہ کن معاملات کی تحقیقات کرے گا یا کس طرح کے واقعات کی خبر دے گا۔

157واںرپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے 2026 ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں 180 ممالک کے درمیان بھارت کا درجہ، جو 2025 میں 151واں تھاماخذ: رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (RSF)، ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2026

ہم اُن عناصر کیلئے خطرہ ہیں جو جھوٹ کا کاروبار کرتے ہیں

”دی تھرسڈے ٹائمز“ کیلئے گزشتہ چند ہفتوں کے واقعات نے ادارہ کے بنیادی اصولوں کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کیا ہے۔

ادارے کے شناختی الفاظ، ”ہم اُن عناصر کیلئے خطرہ ہیں جو جھوٹ کا کاروبار کرتے ہیں“ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ”دی تھرسڈے ٹائمز“ کے صحافتی عزم کا اظہار ہیں۔ یہ عزم غلط معلومات کو چیلنج کرنے، اقتدار و اختیارات رکھنے والوں سے سوال کرنے اور عوامی مفاد میں اہم حقائق سامنے لانے سے متعلق ہے۔

بھارت میں احتجاجی مظاہروں کے تسلسل اور جمہوری جواب دہی سے متعلق سوالات کے عوامی بحث میں نمایاں ہونے کے ساتھ یہ عزم پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

”دی تھرسڈے ٹائمز“ واقعات کی مسلسل رپورٹنگ، تمام فریقوں کے دعوؤں کی جانچ پڑتال اور کسی بھی قسم کی دھمکی یا مداخلت کے بغیر اپنی ادارہ جاتی آزادی برقرار رکھنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

سائبر حملے سے پیدا ہونے والے مسائل حل ہو چکے ہیں۔ ویب سائٹ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔ ادارے کا صحافتی عملہ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔

دی تھرسڈے ٹائمز میں کام حسبِ معمول جاری ہے۔

ہم اُن عناصر کیلئے خطرہ ہیں جو جھوٹ کا کاروبار کرتے ہیں۔

ہمارے مشن کا ساتھ دیں: ہماری رپورٹنگ فالو کریں

دی تھرسڈے ٹائمز اُن عناصر کیلئے خطرہ ہے جو جھوٹ کا کاروبار کرتے ہیں۔ اِس کام کی حمایت کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہماری رپورٹنگ کو وہیں فالو کریں جہاں آپ روزانہ خبریں پڑھتے ہیں، اور جو کچھ مفید لگے اُسے آگے شیئر کریں۔

مزید مطالعہ∎

Raza Butt

Raza Butt is the editor of The Thursday Times.

ان کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔