پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ عموماً اُن لوگوں کو سب سے زیادہ خطرناک دکھائی دیتی ہے جو اقتدار کے ایوانوں سے باہر کھڑے ہوتے ہیں۔ اقتدار سے قربت مفاہمت کو جنم دیتی ہے، جبکہ دوری مذمت اور مخالفت کو ہوا دیتی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن، جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اقتدار کے قریب رہنے کا فن بخوبی جاننے والے سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں، آج خود کو اقتدار سے دور پاتے ہیں، اور اِس فاصلے کے ساتھ اُن کی آواز بھی بلند ہوتی جا رہی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کئی دہائیوں تک محض ایک سیاستدان نہیں بلکہ اقتدار کی غلام گردشوں کا مستقل حصہ رہے، اُن کی جماعت کے پاس کبھی اتنی پارلیمانی نشستیں نہیں رہیں کہ وہ تنہا حکومت بنا سکے، مگر اُنہیں اِس کی ضرورت بھی کم ہی پیش آئی۔ اُن کے پاس ایک ایسی صلاحیت تھی جو نشستوں کی تعداد سے کہیں زیادہ اہم ثابت ہوتی رہی: مذاکرات میں صبر، سیاسی اتحادوں کا رخ بھانپنے کی مہارت اور پارلیمان کی چند نشستوں کو اقتدار کی میز پر مستقل جگہ میں تبدیل کرنے کا ہنر۔ حکومتیں آتی رہیں، جاتی رہیں، لیکن مولانا فضل الرحمٰن اکثر اقتدار کے قریب ہی رہے۔
اِسی سیاسی تاریخ کے تناظر میں اسٹیبلشمنٹ کے سخت ترین ناقد کے طور پر اُن کے نئے کردار کو سمجھنا ضروری ہے۔ جمعرات کو ملتان میں ایک جلسہ سے خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے وفاقی حکومت کو جعلی اور سیاسی طور پر شکست خوردہ قرار دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومتی قیادت کے پاس اپنے فیصلوں کا اختیار نہیں اور طاقتور ادارے سویلین جمہوریت کی قیمت پر اپنے اختیارات میں اضافہ کر رہے ہیں۔
یہ کسی معاملہ فہم مذاکرات کار کی زبان نہیں تھی۔ یہ مزاحمت کے محاذ پر کھڑے سیاستدان کا لہجہ تھا۔ گزشتہ ایک دہائی سے پاکستانی سیاست پر نظر رکھنے والوں کیلئے یہ الفاظ نئے نہیں ہوں گے، البتہ اِنہیں ادا کرنے والی آواز ضرور مختلف ہے۔ انتخابی دھاندلی کے الزامات، ادارہ جاتی مداخلت کی شکایات، سیاسی مخالفین کی قانونی و سیاسی حیثیت کو یکسر مسترد کرنا اور منتخب حکمرانوں کو غیرمنتخب طاقتوں کی کٹھ پتلی قرار دینا، یہ سب عمران خان کی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سیاسی بیانیہ کے نمایاں اجزاء رہے ہیں۔
آج مولانا فضل الرحمٰن بھی یہی زبان اتنی روانی سے بول رہے ہیں کہ یہ حالیہ پاکستانی سیاست کے دلچسپ ترین تضادات میں سے ایک بن چکا ہے۔ یہ عمران خان کی تحریکِ انصاف کے سیاسی بیانیہ کی زبان ہے، اور مولانا فضل الرحمٰن کا آج اِسی زبان میں اتنی روانی سے گفتگو کرنا حالیہ پاکستانی سیاست کے عجیب و غریب موڑوں میں سے ایک ہے۔
اِس صورتحال کی ستم ظریفی نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ یہ مولانا فضل الرحمٰن ہی تھے جو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی قیادت کر رہے تھے، اُس سیاسی اتحاد کی جس نے اپریل 2022 میں پارلیمنٹ میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعہ عمران خان کو اقتدار سے بےدخل کیا۔
مولانا عمران خان کے سخت ترین سیاسی مخالفین میں شمار ہوتے تھے۔ لیکن آج وہ اُنھی دلائل اور الزامات کو دہرا رہے ہیں جو عمران خان کی تحریک اُس سیاسی نظام کے خلاف استعمال کرتی رہی ہے جسے قائم کرنے میں خود مولانا فضل الرحمٰن نے کردار ادا کیا تھا۔
مولانا کے لہجے میں آنے والی اِس تبدیلی کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ رواں برس کے آغاز میں فوجیوں کے بارے میں اُن کے اِس بیان نے، کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی تنخواہ لیتے ہیں، شدید تنقید کو جنم دیا۔ بہت سے لوگوں نے اُن کے الفاظ کو وردی میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کی قربانیوں کی اہمیت گھٹانے کے مترادف سمجھا۔ مولانا نے اِس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اُن کی تنقید ادارہ جاتی طاقت استعمال کرنے والی قیادت کے خلاف تھی، نہ کہ اُن فوجیوں کے خلاف جو اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔
اُن کی پیش کردہ یہ تفریق حقیقی بھی ہے اور اہم بھی۔ فوجی قیادت پر تنقید کرنا اور جان قربان کرنے والے فوجیوں کی قربانیوں کو کم تر ظاہر کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ لیکن مولانا جیسے تجربہ کار سیاستدان، جنہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی مذہبی اور قومی ذمہ داریوں کا حوالہ دیتے ہوئے گزاری ہے، اُنہیں بخوبی اندازہ ہونا چاہیے کہ اُن کے الفاظ کس قدر وزن رکھتے ہیں۔ آئینی بالادستی کے حق میں دلیل دینے کیلئے شہید فوجیوں کی قبروں کو سیاسی بیان بازی کا میدان بنانا ضروری نہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن اپنے سیاسی ماضی کو بھی خاموشی سے نظرانداز نہیں کر سکتے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں متحدہ مجلسِ عمل، جس کی قیادت میں مولانا فضل الرحمٰن نمایاں کردار ادا کر رہے تھے، ایک ایسے آئینی سمجھوتے کا حصہ بنی جس نے فوجی قیادت کے تحت قائم سیاسی نظام کے اہم پہلوؤں کو آئینی جواز فراہم کیا۔ اِس کے بعد آنے والے برسوں میں مولانا مختلف حکومتوں اور بدلتے ہوئے سیاسی اتحادوں کا حصہ بنتے رہے۔ سیاسی حالات خواہ جیسے بھی رہے ہوں، وہ اثر و رسوخ کے مراکز سے شاذ و نادر ہی دور دکھائی دیئے۔
جب عمران خان کی حکومت ختم ہوئی تو مولانا کی جماعت اُس کی جگہ قائم ہونے والے حکومتی اتحاد کا حصہ بن گئی۔ فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد، جب جمعیت علمائے اسلام (ف) نئی وفاقی حکومت سے باہر رہ گئی، تو موجودہ سیاسی نظام کے خلاف مولانا کی تنقید بتدریج زیادہ سخت اور مزاحمتی ہوتی چلی گئی۔
مولانا فضل الرحمٰن اور اسٹیبلشمنٹ سے بدلتے تعلقات
پرویز مشرف کا دور
متحدہ مجلسِ عمل، جس کی قیادت میں مولانا فضل الرحمٰن بھی شامل تھے، ایک ایسے آئینی سمجھوتے کا حصہ بنی جس نے فوجی قیادت کے تحت سیاسی نظام کے اہم پہلوؤں کو جواز فراہم کیا۔
اپریل 2022
مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی قیادت کرتے ہوئے پارلیمانی تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعہ عمران خان کی حکومت کے خاتمہ میں کردار ادا کیا۔
سال 2022 تا 2024
جمعیت علمائے اسلام (ف) عمران خان کی حکومت کے بعد قائم ہونے والے حکومتی اتحاد کا حصہ رہی۔
فروری 2024
عام انتخابات کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) نئی وفاقی حکومت سے باہر رہ گئی۔
سال 2026 کے اوائل
فوجیوں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے عوض تنخواہیں ملنے سے متعلق مولانا کے بیان پر شدید تنقید سامنے آئی۔
اٹھارہ اکتوبر 2026
ملتان میں مولانا نے وفاقی حکومت کو ”جعلی“ قرار دیا اور اداروں کے خلاف جمہوریت کی قیمت پر اپنے اختیارات بڑھانے کا الزام عائد کیا۔
اِس تمام تاریخ کا مطلب یہ نہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن کے موجودہ تحفظات لازماً غیر مخلصانہ ہیں۔ پاکستان میں ادارہ جاتی مداخلت کی طویل تاریخ کسی بھی سیاستدان کو، اُس کے اپنے ماضی سے قطع نظر، اعتراض کرنے کی معقول بنیاد فراہم کرتی ہے۔ کوئی درست دلیل محض اِس لیے غلط نہیں ہو جاتی کہ اُسے پیش کرنے والے کا اپنا سیاسی ریکارڈ متنازع ہو۔
لیکن سیاسی ریکارڈ سوالات ضرور پیدا کرتا ہے، اور مولانا فضل الرحمٰن کا ریکارڈ ایک واضح سوال کو جنم دیتا ہے۔
آخر آئینی مزاحمت کی زبان عین اُس وقت اتنی سخت اور غیر مصالحت پسند کیوں ہو گئی جب مولانا کی جماعت اُس سیاسی اثر و رسوخ سے محروم ہو گئی جس سے وہ ماضی میں لطف اندوز ہوتی رہی تھی؟ آئینی بالادستی کا دفاع کرنے اور اقتدار کی کشمکش میں آئینی شکایات کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے میں فرق ہے۔ مولانا کا لہجہ جتنا جارحانہ ہوتا جا رہا ہے، اِن دونوں رویوں کے درمیان فرق اتنا ہی دھندلا دکھائی دینے لگا ہے۔
پاکستان کے جمہوری مسائل صرف غیرمنتخب اداروں کی مداخلت کا نتیجہ نہیں ہیں۔ اِن مسائل کو وہ سیاستدان بھی برقرار رکھتے ہیں جو ادارہ جاتی اثر و رسوخ کو اُس وقت خوش آمدید کہتے ہیں جب اِس سے اُنہیں فائدہ پہنچ رہا ہو، اور اِس کے خطرات کا ادراک اُنہیں تب ہوتا ہے جب سیاسی حالات اُن کے خلاف ہو جاتے ہیں۔ اقتدار کے اچھے دنوں میں کی گئی ہر مفاہمت اُس دیوار میں ایک نئی اینٹ کا اضافہ کرتی ہے جس کے خلاف بعد میں یہی سیاستدان آواز بلند کرتے ہیں۔
اور یوں یہ پوری کہانی ایک غیر معمولی سیاسی تضاد پر آ کر ٹھہرتی ہے۔ وہ شخص جس نے عمران خان کی حکومت گرانے میں مرکزی کردار ادا کیا، آج عمران خان ہی کے سیاسی بیانیہ کی زبان اختیار کر چکا ہے۔ وہ اُس نظام کی مذمت کر رہا ہے جس کی غلام گردشوں میں اُس نے کئی دہائیاں اپنے سیاسی حصہ اور اثر و رسوخ کیلئے مذاکرات کرتے ہوئے گزاری ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرنا مولانا فضل الرحمٰن کا بلاشبہ حق ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اُن کی موجودہ مزاحمت آئینی اصولوں سے مستقل وابستگی کی علامت ہے، یا بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے مطابق ایک اور حکمتِ عملی؟
اِس سوال کا حقیقی امتحان اُس وقت نہیں ہو گا جب اقتدار کے دروازے اُن پر بند ہیں۔ اصل امتحان اُس دن ہو گا جب یہ دروازے دوبارہ کھلیں گے، اور دیکھا جائے گا کہ مولانا فضل الرحمٰن اُن دروازوں سے اندر داخل ہوتے ہیں یا اپنے موجودہ اصولی مؤقف پر قائم رہتے ہیں۔ تب تک اُن کی ہر تقریر کے ساتھ ایک سوال موجود رہے گا: کیا مولانا فضل الرحمٰن واقعی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھڑے ہیں، یا اُن کی اصل شکایت صرف یہ ہے کہ وہ خود اِس وقت اقتدار کے ایوانوں سے باہر ہیں؟
- 2026 کے اوائل
فوجیوں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے عوض تنخواہیں ملنے سے متعلق مولانا کے بیان پر شدید تنقید سامنے آئی۔ - 18 اکتوبر 2026
ملتان میں مولانا نے وفاقی حکومت کو ”جعلی“ قرار دیا اور اداروں کے خلاف جمہوریت کی قیمت پر اپنے اختیارات بڑھانے کا الزام عائد کیا۔
اِس تمام تاریخ کا مطلب یہ نہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن کے موجودہ تحفظات لازماً غیر مخلصانہ ہیں۔ پاکستان میں ادارہ جاتی مداخلت کی طویل تاریخ کسی بھی سیاستدان کو، اُس کے اپنے ماضی سے قطع نظر، اعتراض کرنے کی معقول بنیاد فراہم کرتی ہے۔ کوئی درست دلیل محض اِس لیے غلط نہیں ہو جاتی کہ اُسے پیش کرنے والے کا اپنا سیاسی ریکارڈ متنازع ہو۔
لیکن سیاسی ریکارڈ سوالات ضرور پیدا کرتا ہے، اور مولانا فضل الرحمٰن کا ریکارڈ ایک واضح سوال کو جنم دیتا ہے۔
آخر آئینی مزاحمت کی زبان عین اُس وقت اتنی سخت اور غیر مصالحت پسند کیوں ہو گئی جب مولانا کی جماعت اُس سیاسی اثر و رسوخ سے محروم ہو گئی جس سے وہ ماضی میں لطف اندوز ہوتی رہی تھی؟ آئینی بالادستی کا دفاع کرنے اور اقتدار کی کشمکش میں آئینی شکایات کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے میں فرق ہے۔ مولانا کا لہجہ جتنا جارحانہ ہوتا جا رہا ہے، اِن دونوں رویوں کے درمیان فرق اتنا ہی دھندلا دکھائی دینے لگا ہے۔
پاکستان کے جمہوری مسائل صرف غیرمنتخب اداروں کی مداخلت کا نتیجہ نہیں ہیں۔ اِن مسائل کو وہ سیاستدان بھی برقرار رکھتے ہیں جو ادارہ جاتی اثر و رسوخ کو اُس وقت خوش آمدید کہتے ہیں جب اِس سے اُنہیں فائدہ پہنچ رہا ہو، اور اِس کے خطرات کا ادراک اُنہیں تب ہوتا ہے جب سیاسی حالات اُن کے خلاف ہو جاتے ہیں۔ اقتدار کے اچھے دنوں میں کی گئی ہر مفاہمت اُس دیوار میں ایک نئی اینٹ کا اضافہ کرتی ہے جس کے خلاف بعد میں یہی سیاستدان آواز بلند کرتے ہیں۔
اور یوں یہ پوری کہانی ایک غیر معمولی سیاسی تضاد پر آ کر ٹھہرتی ہے۔ وہ شخص جس نے عمران خان کی حکومت گرانے میں مرکزی کردار ادا کیا، آج عمران خان ہی کے سیاسی بیانیہ کی زبان اختیار کر چکا ہے۔ وہ اُس نظام کی مذمت کر رہا ہے جس کی غلام گردشوں میں اُس نے کئی دہائیاں اپنے سیاسی حصہ اور اثر و رسوخ کیلئے مذاکرات کرتے ہوئے گزاری ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرنا مولانا فضل الرحمٰن کا بلاشبہ حق ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اُن کی موجودہ مزاحمت آئینی اصولوں سے مستقل وابستگی کی علامت ہے، یا بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے مطابق ایک اور حکمتِ عملی؟
اِس سوال کا حقیقی امتحان اُس وقت نہیں ہو گا جب اقتدار کے دروازے اُن پر بند ہیں۔ اصل امتحان اُس دن ہو گا جب یہ دروازے دوبارہ کھلیں گے، اور دیکھا جائے گا کہ مولانا فضل الرحمٰن اُن دروازوں سے اندر داخل ہوتے ہیں یا اپنے موجودہ اصولی مؤقف پر قائم رہتے ہیں۔ تب تک اُن کی ہر تقریر کے ساتھ ایک سوال موجود رہے گا: کیا مولانا فضل الرحمٰن واقعی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھڑے ہیں، یا اُن کی اصل شکایت صرف یہ ہے کہ وہ خود اِس وقت اقتدار کے ایوانوں سے باہر ہیں؟∎



