وہ بےگناہ ہیں۔ اس بات کا یقین اُس وقت بھی تھا جب ریاست کی کُل مشینری اپنی پوری طاقت، اختیارات اور وسائل کے ساتھ انہیں مجرم ثابت کرنے پر کمر بستہ تھی۔ 24/7 میڈیا پر اینکر، تجزیہ نگار اور تبصرہ نگار کاغذات کے پلندے لہرا لہرا کر انہیں مجرم ثابت کرنے پر کمربستہ رہتے تھے۔
نو اپریل 2022 جب اعلی عدالتی حکم پر ہونے والی ایک پارلیمانی کاروائ،جسمیں اسوقت کے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی کاروائ پر عمل درآمد کروانا مقصود تھا آئین اور قانون کا تماشہ بنا دیا گیا۔
جنرل صاحب جب آرمی چیف بنے تو ملک انتہائی نازک دور سے گزر رہا تھا اور گزر رہا ہے اور اس کے علاوہ دہشتگردوں نے بھی دوبارہ پاکستان میں اپنے پنجے گاڑنا شروع کر دیے ہیں لیکن پریشان ہونے کی بات نہیں کیونکہ جو پروردگار جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف بنا سکتا ہے تو وہی رب العالمین دہشتگردوں کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے جنرل عاصم منیر کو ہمت و توفیق عطاء فرمائے گا۔
خان صاحب کا یہ اعتراف کہ باجوہ صاحب اصل میں سپر کنگ اور وہ خود بطور وزیراعظم انکے ماتحت اور فرمانبردا رہ کرکام کرتے رہے ہیں اصل میں ہمارے اس موقف کو بھرہور تقویت دیتا ہے کہ خان صاحب کی اپنی کوئ سیاسی حیثیت تھی ہی نہیں۔
نوے کی دھائ تک ایک اوسط درجے کا کرکٹر جو اصل زندگی میں پلے بواے کی حیثیت سے مشہور تھا اور آے دن پرنٹ میڈیا پر اپنے غلیظ سکینڈلز کی وجہ سے جانا جاتا تھا ایکدم سیاست میں اینٹری دیتا ہے۔ اس سے پہلے یہ بہروپیا شوکت خانم کے نام پر فلاحی کام کا لبادہ اوڑھتا ہے تاکہ عوام اس کے سابقہ کرتوت بھول جائیں۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.
فرانس نے بھارت کو رافیل کے بنیادی سوفٹ ویئر و حساس سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، موجودہ شرائط کے مطابق الیکٹرونک و سوفٹ وئیر ساخت پر حتمی کنٹرول فرانس کا رہے گا۔ بھارتی فضائیہ میں سکواڈرنز کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔
The Guardian was entitled to publish Mahrang Baloch’s testimony. But readers should read it for what it is: a partisan account, sharply written and emotionally potent, not a settled version of events.
Looking to advertise?
With our team of industry-leading experts with decades of experience in the fields of marketing, design, and journalism, we've got a person for any niche your business deals in.