پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے دوران پاکستان کی جانب سے چینی ساختہ جے-10 سی طیاروں کے ذریعے فرانسیسی ساختہ بھارتی رافیل سمیت دیگر جنگی جہازوں کو مار گرائے جانے کی اطلاعات کے بعد چینی دفاعی کمپنیوں کے حصص میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر جو عموماً پسِ پردہ کام کرتے ہیں، اب بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے کشیدگی کے ماحول میں مرکزی کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ نہ صرف فوجی مشقوں میں سرگرم نظر آ رہے ہیں بلکہ اپنے دوٹوک بیانات کے ذریعے قومی سلامتی سے متعلق نئی پالیسی سمت کا تعین بھی کر رہے ہیں۔
بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی را کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ نے پہلگام حملے کو بھارتی سکیورٹی اداروں کی مکمل ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں سکیورٹی موجود ہی نہیں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالات کشیدہ ہیں، تاہم بھارت اور پاکستان کے درمیان باقاعدہ جنگ کا امکان کم ہے۔
بھارتی دراندازی کے واضع امکان کے پیش نظر پاکستانی افواج کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔ فضائی، زمینی، بحری حدود کی خلاف ورزی میں بھارت کو فوری بھرپور جواب دیا جائے گا۔ نیوکلیئر ہتھیار صرف قومی بقا کو خطرے کی صورت میں استعمال ہوں گے۔
پاکستان کے ہاتھوں 2019 میں طیارے کی تباہی کے بعد بھی بھارت اربوں ڈالر جھونکنے کے باوجود فوجی کمزوریوں پر قابو نہ پا سکا۔ فرسودہ سازوسامان اور انتظامی رکاوٹیں کسی بڑے تصادم میں بھارتی عسکری کمزوریوں کو بے نقاب کر سکتی ہیں۔ پاکستان نے پانی روکنے سمیت ہر بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کر دیا ہے۔