وال سٹریٹ جرنل کے مطابق انٹر سیپٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے کردار ادا کیا تھا تاہم اس الزام کا کوئی بھی ثبوت موجود نہیں ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تو یہ الزام قابلِ تمسخر ہے۔
سیاسی پختگی رکھنے والا کوئی بھی شخص اس قدر ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ نہیں بول سکتا جس طرح عمران خان جھوٹ بولتے ہیں، عمران خان نے کہا کہ ان کے پاس سائفر موجود ہے لیکن پھر کہا کہ وہ مجھ سے کہیں کھو گیا ہے اور اب امریکہ میں ایک نیوز ویب سائٹ نے اس کو شائع کر دیا ہے۔
پاکستان کے سیاستدان اکثر پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کو اپنے سیاسی فائدے کیلئے استعمال کرتے رہتے ہیں اور میں سمجھتی ہوں کہ عمران خان نے بھی ایسا ہی کیا، عمران خان نے سفارتی گفتگو کو اپنی سیاست چمکانے کیلئے استعمال کیا اور کہا کہ دیکھو امریکہ یہ چاہتا ہے۔
پاکستان کو شمسی توانائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت کم و بیش 25 بلین ڈالرز کے معاہدوں کی توقع ہے، پاکستان کی دفاعی صنعتیں بھی سرمایہ کاری کیلئے کھلی ہیں جبکہ پاکستان زراعت کیلئے غیر کاشت شدہ سرکاری زمین طویل عرصہ کیلئے لیز پر دینے کیلئے بھی تیار ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ "دی انٹر سیپٹ" نے مبینہ سائفر کا متن شائع کر دیا جس کی تصدیق سے ادارہ خود بھی انکار کر رہا ہے جبکہ یہ ڈاکومنٹ کسی نامعلوم ذریعہ سے حاصل کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ عمران خان اپنے پاس موجود سائفر کی کاپی گم ہو جانے کا اعتراف کر چکے ہیں۔