عمران خان نے 14 مئی کو زوم میٹنگ کے دوران سب کو 9 مئی کے واقعات کی مذمت سے منع کر دیا اور کہا کہ کوئی بھی دفاعی پالیسی کی جانب نہیں جائے گا۔ عمران خان زوم میٹنگز میں اپنے ترجمانوں کو فوج کے خلاف بیانات دینے کی ہدایات جاری کرتے تھے۔
کسی سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل نہیں ہونا چاہیے مگر عدلیہ کی موجودہ حالت سب کے سامنے ہے جہاں توشہ خانہ اور دیگر کیسز میں بھی سٹے دے دیا گیا، ریاست مظلوم کی حیثیت سے انصاف کی منتظر ہے مگر چیف جسٹس آئین کی بجائے لاڈلے اور ساس کے قانون کے تحت ایک جماعت کیلئے سہولت کاری کر رہے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے امریکی کانگریس کی خاتون رکن میکسین واٹرز سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ عمران خان اور تحریکِ انصاف کے حق میں کوئی بیان جاری کریں کیونکہ ان کا بیان پاکستان کے موجودہ حالات میں عمران خان اور تحریکِ انصاف کیلئے مددگار ہو گا۔
بدقسمتی سے معصوم بچوں کی ذہن سازی میں عمران خان سمیت اداروں میں بیٹھے کچھ لوگوں نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا، ذہن سازی کرنے والے اور ان کے بچے عیش و عشرت کی زندگیاں گزار رہے ہیں جبکہ گمراہ ہونے والے بچے جیلوں میں ہیں اور ان کے والدین کورٹ کچہریوں میں روتے بلکتے دھکے کھا رہے ہیں۔
عمران خان تم نواز شریف اور ہر اس شخص سے معافی مانگو جس پر تم نے جھوٹے الزام لگائے اور انھیں تکلیف پہنچائی۔ یہ گرہیں جو تمھیں دانتوں سے کھولنی پڑ رہی ہیں تم نے خود لگائیں تھیں۔ کبھی تکبر اور رعونت کا پہاڑ ہوا کرتے تھے، آج عبرت کا نشان بنے بیٹھے ہو۔
عمران خان کو 2030 سے قبل ریلیف نہیں مل سکتا، نو مئی ریاست سے بغاوت تھی۔ جسٹس ثاقب نثار و دیگر ججز نے پاکستان کے جوڈیشل سسٹم کا ڈھانچہ تباہ کیا۔ میں ایک جج پر نظریں جمائے بیٹھا ہوں، مناسب وقت پر آگے بڑھوں گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیم نے ایران سے ممکنہ مذاکرات کے لیے پسِ پردہ منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت جیسے اہم معاملات زیرِ غور ہیں، جبکہ تہران جنگ بندی، مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت اور نقصان کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
موجودہ علاقائی کشیدگی میں پاکستان نے اشتعال انگیزی کے بجائے توازن، سفارت کاری اور داخلی استحکام کو ترجیح دی ہے۔ اصل خطرہ صرف بیرونی محاذ نہیں بلکہ فرقہ واریت، افواہوں اور داخلی تقسیم کو ہوا دینے والی کوششیں بھی ہیں، جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی داخلی یکجہتی ہے۔
انتهت الثقة في إيران بالكامل. السعودية لا تخشى المواجهة، وتحتفظ بحقها في الرد العسكري عند الضرورة. وإذا كانت طهران تعتقد أن دول الخليج لا تملك القدرة على الرد، فهي واهمة. وإيران لن تتوقف ما لم تواجه رداً قوياً وحازماً
ایران پر اعتبار ختم ہو چکا۔ سعودی عرب تصادم سے نہیں ڈرتا، ضرورت پڑنے پر فوجی جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ ایران اگر سمجھتا ہے کہ خلیجی ممالک جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ غلطی پر ہے۔ ایران مضبوط مقابلہ کا سامنا کیے بغیر نہ رُکے گا۔
Looking to advertise?
With our team of industry-leading experts with decades of experience in the fields of marketing, design, and journalism, we've got a person for any niche your business deals in.