تحریک انصاف شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس سبوتاژ کرنا چاہتی ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، وزیرِ اعلٰی خیبرپختونخوا کے قافلے سے پولیس پر حملہ کیا گیا، پی ٹی ائی احتجاج سے 120 افغان شہری پکڑے گئے ہیں، دھاوا بولنے والوں کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔
خیبرپختونخوا میں ہمارا مینڈیٹ چوری کر کے پی ٹی آئی کو دیا گیا، علی امین گنڈا پور کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ اس کے کسی بیان کا جواب دوں، یہ صوبوں کے درمیان جنگ کی کیفیت بنانا چاہتا ہے۔ آئینی عدالت کا قیام میثاقِ جمہوریت کا حصہ ہے، اسرائیل کے خلاف اسلامی ممالک کو مشترکہ دفاعی نظام لانا ہو گا۔
عمران خان کی رہائی اور عدلیہ کی آزادی کیلئے جمعہ کو پورے ملک میں باہر نکلیں گے، کسی آئینی ترمیم کو نہیں مانیں گے، بلاول بھٹو کے اندر غیرت نہیں، آئینی ترمیم میں حصہ لینے والی جماعتوں کو عوام جواب دیں گے، میں کسی کا غلام نہیں، معافیاں بھول جاؤ۔
کوئی صوبہ کسی دوسرے ملک سے براہِ راست مذاکرات نہیں کر سکتا، علی امین گنڈا پور کا افغانستان سے براہِ راست مذاکرات کا بیان وفاق پر حملہ ہے، پی ٹی آئی کے 4 سالہ دورِ حکومت میں اپوزیشن کو دیوار سے لگایا گیا، مجھ پر آرٹیکل 6 لگایا گیا۔
علی امین گنڈا پور پنجاب آئیں ہم انہیں زلفوں سے باندھ کر الٹا لٹکائیں گے، مریم نواز اور خواتین صحافیوں کے بارے میں استعمال کی گئی زبان قابلِ برداشت نہیں ہے، جنہوں نے آج اپنی اولاد کو نہیں مانا وہ باپ کو کیا مانیں گے؟ پی ٹی آئی والے اندر خانے پاؤں پکڑ رہے ہیں۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.
فرانس نے بھارت کو رافیل کے بنیادی سوفٹ ویئر و حساس سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، موجودہ شرائط کے مطابق الیکٹرونک و سوفٹ وئیر ساخت پر حتمی کنٹرول فرانس کا رہے گا۔ بھارتی فضائیہ میں سکواڈرنز کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔
The Guardian was entitled to publish Mahrang Baloch’s testimony. But readers should read it for what it is: a partisan account, sharply written and emotionally potent, not a settled version of events.