عمران خان کی رہائی اور عدلیہ کی آزادی کیلئے جمعہ کو پورے ملک میں باہر نکلیں گے، کسی آئینی ترمیم کو نہیں مانیں گے، بلاول بھٹو کے اندر غیرت نہیں، آئینی ترمیم میں حصہ لینے والی جماعتوں کو عوام جواب دیں گے، میں کسی کا غلام نہیں، معافیاں بھول جاؤ۔
پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 جاری کر دیا گیا، وزیراعظم شہباز شریف اور کابینہ کی منظوری کے بعد صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی آرڈیننس پر دستخط کر دیئے ہیں، ترمیمی آرڈیننس سے چیف جسٹس کا سپریم کورٹ کے مقدمات مقرر کرنے کیلئے دائرہ بڑھ جائے گا۔
میثاقِ جمہوریت کے تحت آئینی عدالت قائم ہونی چاہیے جس کا مینڈیٹ آئینی معاملات کی تشریح ہو گا، ججز کی تعیناتی کا نظام بھی درست کرنا ہے، ججز کا کام ڈیم بنانا یا قیمتیں طے کرنا نہیں بلکہ آئینی ذمہ داریاں پوری کرنا ہے، ججز تقرری عمل میں شفافیت بےنظیر بھٹو کا مطالبہ تھا۔
سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے، حقائق مسخ کرنے اور گالم گلوچ کا بازار گرم ہے، شہداء کی بےحرمتی کی جا رہی ہے، ہمیں آج قومی یکجہتی اور اتفاق و اتحاد کی جتنی ضرورت ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی، ہمیں پاکستان کو سماجی اور معاشی چیلنجز سے نکالنا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف
جناح میڈیکل کمپلیکس خطہ میں شاندار سینٹر ہو گا، یہ پورے ملک کیلئے نواز شریف کی مخلوط حکومت کا تحفہ ہے، غریب عوام کی صحت و تعلیم پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، ایک منصف نے سازش کر کے پی کے ایل آئی کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.
فرانس نے بھارت کو رافیل کے بنیادی سوفٹ ویئر و حساس سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، موجودہ شرائط کے مطابق الیکٹرونک و سوفٹ وئیر ساخت پر حتمی کنٹرول فرانس کا رہے گا۔ بھارتی فضائیہ میں سکواڈرنز کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔
The Guardian was entitled to publish Mahrang Baloch’s testimony. But readers should read it for what it is: a partisan account, sharply written and emotionally potent, not a settled version of events.