Pakistan’s new Chief of Defence Forces, Field Marshal Asim Munir, has tied the future of relations with Kabul to the fate of the TTP, warning Afghanistan’s Taliban rulers that they must choose between partnership with Islamabad or continued tolerance of Pakistani Taliban networks on Afghan soil, as a powerful new tri service command comes online in Rawalpindi.
ایک ذہنی مریض اپنی ذات کے خمار میں مبتلا ہو کر ریاست کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ فوج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی ہر کوشش ناکام بنے گی کیونکہ ایسا بیانیہ صرف دشمن کے ہاتھ مضبوط کرتا ہے۔ جھوٹ، فریب اور پروپیگنڈے کا کاروبار اب مزید نہیں چلے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ملک کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کرنے کی سمری کی منظوری دے دی ہے، جسے ایوانِ صدر بھجوا دیا گیا ہے۔ نئی تقرری پانچ سال کے لئے ہو گی، جبکہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدتِ ملازمت میں بھی دو سال کی توسیع منظور کر لی گئی ہے۔
معرکہِ حق میں افواجِ پاکستان نے مُلک کا عالمی وقار بڑھایا، ہماری طاقت قومی وحدت ہے۔ پاکستان آرمی کیلئے ملکی سالمیت، سیکیورٹی اور ہر پاکستانی کا تحفظ اوّلین ترجیح ہے۔ پاکستان اپنا اصل مقام ضرور حاصل کرے گا، دشمن کے عزائم کا ناکام بنائیں گے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان کے سب سے زیادہ بااختیار آرمی چیف ہیں جنہوں نے مئی میں بھارت کے خلاف جنگ اور وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے قریبی روابط کے ذریعہ پاکستان کو دوبارہ جیو پولیٹیکل مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، امریکا پاکستان سے تعلقات مضبوط بنا کر خطہ میں طاقت کا توازن از سرِ نو ترتیب دے رہا ہے۔
At a moment when Asia has been pulled towards confrontation and uncertainty, Ishaq Dar has helped place Pakistan at the centre of the diplomatic effort for peace. In the past month, his steady, coalition-building approach has turned Islamabad into a credible channel for dialogue, resulting in the Islamabad Accords.
امریکا ایران موجودہ مذاکرات میں پاکستان واحد مواصلاتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے فوری جنگ بندی کیلئے دو مراحل پر مشتمل فریم ورک تیار کر لیا جو فریقین کے سامنے پیش کیا جا چکا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر، سٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیلئے ڈیڈ لائن میں توسیع اور فریقین کے درمیان براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ امریکی صدر نے منگل تک معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کے پاور پلانٹس اور پُلوں کو اڑا دیں گے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔