عمران خان کی رہائی اور عدلیہ کی آزادی کیلئے جمعہ کو پورے ملک میں باہر نکلیں گے، کسی آئینی ترمیم کو نہیں مانیں گے، بلاول بھٹو کے اندر غیرت نہیں، آئینی ترمیم میں حصہ لینے والی جماعتوں کو عوام جواب دیں گے، میں کسی کا غلام نہیں، معافیاں بھول جاؤ۔
میثاقِ جمہوریت کے تحت آئینی عدالت قائم ہونی چاہیے جس کا مینڈیٹ آئینی معاملات کی تشریح ہو گا، ججز کی تعیناتی کا نظام بھی درست کرنا ہے، ججز کا کام ڈیم بنانا یا قیمتیں طے کرنا نہیں بلکہ آئینی ذمہ داریاں پوری کرنا ہے، ججز تقرری عمل میں شفافیت بےنظیر بھٹو کا مطالبہ تھا۔
عمران خان نے اپنی سیاست چمکانے کیلئے ہر ادارے پر حملہ کیا، قیدی نمبر 804 نے کل آرمی چیف اور چیف جسٹس پر جو حملہ کیا اسکے قانونی نتائج بھگتنا ہونگے، انکے فارم 45 فارم 47 پراپیگنڈا سے متعلق بڑی کہانی سامنے آنیوالی ہے، یہ عوام کو منہ نہ دکھا سکیں گے۔
عوام نے اپنے نمائندوں کو منتخب کیا مگر یہاں سیاست کو گالی بنا دیا گیا، پارلیمنٹ سمیت کوئی بھی ادارہ آئین کی بالادستی کے بغیر نہیں چل سکتا، مہنگائی کم ہو رہی ہے جس پر حکومت کی تعریف کرنی چاہیے، ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہو گا۔
عدلیہ بار بار پارلیمنٹ کے اختیارات میں مداخلت کر رہی ہے۔ عدلیہ اتنی قابل ہے کہ عدالتیں بھی چلاتی ہے، ڈیم بھی بنا سکتی ہے، ٹماٹر اور سموسے کی قیمت بھی طے کر سکتی ہے۔ ایک جماعت کو وہ دیا گیا جو اس نے مانگا نہ تھا اور جس کی آئین و قانون میں گنجائش ہی نہ تھی۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.
فرانس نے بھارت کو رافیل کے بنیادی سوفٹ ویئر و حساس سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، موجودہ شرائط کے مطابق الیکٹرونک و سوفٹ وئیر ساخت پر حتمی کنٹرول فرانس کا رہے گا۔ بھارتی فضائیہ میں سکواڈرنز کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔
The Guardian was entitled to publish Mahrang Baloch’s testimony. But readers should read it for what it is: a partisan account, sharply written and emotionally potent, not a settled version of events.